anwarulnajaf.com

Category: لمعۃ الانوار فی عقائد الابرار

  • وفات حسرت آیات

    مرحوم نے 9 ماہ جون 1922 مطابق 19 صفر المظفر 1382 بروز جمعرات اپنی جائیداد واقع موضع کہاوڑ کلاں تحصیل بھکر میں انتقال فرمایا اور وہیں ریلوے لائن کے قریب ایک قبرستان میں مدفون ہوئے خدوند کریم ان کواپنے جوار و رحمت میں جگہ دے اور ہمیں ان کے نقوش پر چلنے کی سعادت نصیب…

  • مولا نا قدس سرہ کا مجھ پر حسن ظن

    تفسیر کی ہر جلد کا مطالعہ فرمانے کے بعد مجھے اپنے پاس بلواتے اور داد دیتے تھے جس سے میرے حوصلے بڑھتے جاتے تھے اور ان کے حسن ظن کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے ضروری مسائل کا عراق سے دریافت کرنا چھوڑ دیا اور مسئلہ پیش آمدہ میں میر ی طرف رجوع فرماتے…

  • اپنی مختصر سر گزشت

    بندہ حقیر مصنف کتاب بھی ان کے علوم و فیوض کے بحر ذخار سے استفادہ  کا شرف رکھتا ہے چنانچہ میں نے جب سے ہوش سنبھالی اور ابتدائی اردو تعلیم مڈل تک حاصل کر لی تو والد بزرگوار ملک اللہ بخش بن ملک خان محمد مرحوم کو شوق پیدا ہوئی کہ علوم دینیہ کے لئے…

  • ان کا تلامذہ

    ویسے تووہ حضرات جنہوں نے ان کا علمی بحر  وذخار سے سیرابی حاصل کر کے اپنی عملی پیاس بجھائی یا بجھانے کی کوشش کی میرے بس کاروگ نہیں کہ ان کو شمار کر سکوں البتہ ان کے تلامذہ میں سے چند مشاہیرکا ذکر ہی میرے لئے ممکن ہے اور اسی پر اکتفا مقصد کی وضاحت…

  • آپ کا حلقہ درس و تدریس

    اس وقت  پورے ملک پاکستان میں ان کے فیوض و برکات کے قابل قدر اثرات موجود  ہیں اور کوئی ضلع ایسا نہیں جہاں ان کے بحر علمی سے سیراب ہونے والے اور  ان کے شجر فیض سے خوشہ چینی کرنے والے مشغول خدمت دین نہ ہوں ان کے تقدس کی بدولت ان کا ہر شاگرد…

  • بیماری اور اس کا علاج

    ہماری قوم مدت سے دو جان لیوا بیماریوں کا ہدف رہی ہے اگر علمائے اعلام پا مردی سے جم کر اس کی حفاظت میں قدم آگے نہ بڑھائیں تو بہت ممکن ہے کہ دو بیماریں قوم و ملت کی ناو کو ڈبو دیں اور وہ یہ ہیں ۱۔     زعمائے مذہب کی دعوت و ارشاد…

  • مسئلہ تقلید کی وضاحت

    یہ  ایک عقلی مسلمہ ہے کہ نہ جاننے والا نا دانستہ مسائل ہیں جاننے والے کی طرف رجوع کر ے خواہ اس کا تعلق کسی شعبہ سے ہی کیوں نہ ہو پس دین کو صحیح طور پر نہ جاننے والے پر فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ دینی مسائل میں دین کے علما کی طرف…

  • علم کی عظمت

    کبھی کسی دور میں شعور و بیدار مغز افراد نے علم کے کمال کا انکار نہیں کیا اور ناقص کا اپنے مرض پرا ترانا اس زمانہ کی نیر نگیوں میں سے سمجھئے چنانچہ جاہل علماءکے سامنے اپنی جہالت کو مایہ فخر سمجھتے ہیں بلکہ علما ءکی توہین و تذلیل کواپنا قابل فخر کا رنامہ تصور…

  • اندھیر گردی کی حد

    اس سے زیاد ہ اندھیرا ور کیا ہو گا کہ چور چوری کرنے کے باوجود  مالک کو کہے کہ تو چور ہے اور دیکھنے والے بیک آواز چور کی دیانت اور صداقت کی داد دیں اور مالک کو کوسنے لگ جائیں خدا کی قسم یہاں دین کی یہی کیفیت ہے وہ علمائے عاملین جنہوں نےتحصیل…

  • دین کے مصائب اوراس کی حالت زار

    ایک وقت تھا جب دین حقیقی اورمذہب اہل بیت کا تقدس اقوام عالم میںٍ مسلم  تھا اس دین سے وابستہ علما ءعاملین کےسامنے اہل خلاف کے اکابر علما ءکی گردنیں خم تھیں ان کے وقار عملی اورضبط عملی کے سامنے جہاں اقوام عالم کےعلماءدم بخود نظر آتے تھے وہاں سلاطین دہرا اور متکبرین زمانہ کو …