anwarulnajaf.com

Dua Ahad: Meaning, Translation, and Spiritual Significance

Delve into the spiritual richness of Dua Ahad, exploring its profound meaning and translation. This supplication holds deep significance in Islamic tradition, carrying blessings and transformative power. As implied by its title, this entreaty signifies a pledge of loyalty (ahad) to the revered Imam (a.t.f.s). Reciting it each morning serves to reaffirm this commitment. The reciter positions themselves under the guidance of the Imam (a.t.f.s) and earnestly implores to be counted among his supporters and allies. Additionally, they beseech Allah to bestow upon them the privilege of attaining martyrdom in the Imam’s presence. Furthermore, the supplicant requests Allah that if they pass away prior to the Imam’s reappearance, they be resurrected from their grave to aid him (a.t.f.s) in his mission. There is a passionate plea to Allah for the honor of witnessing the Imam (a.t.f.s). Embedded within is the acknowledgment that the challenges facing the community can only be resolved through the Imam’s reappearance, a prospect believers perceive as imminent while others view it as remote.

Dua Ahad: Meaning, Translation, and Spiritual Significance


===================
دعاء العهد

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ اَللَّهُمَّ رَبَّ ٱلنُّورِ ٱلْعَظِيمِ وَرَبَّ ٱلْكُرْسِيِّ ٱلرَّفِيعِ وَرَبَّ ٱلْبَحْرِ ٱلْمَسْجُورِ وَمُنْزِلَ ٱلتَّوْرَاةِ وَٱلإِنْجِيلِ وَٱلزَّبُورِ وَرَبَّ ٱلظِّلِّ وَٱلْحَرُورِ وَمُنْزِلَ ٱلْقُرْآنِ ٱلْعَظِيمِ وَرَبَّ ٱلْمَلاَئِكَةِ ٱلْمُقَرَّبِينَ وَٱلانْبِيَاءِ وَٱلْمُرْسَلِينَ اَللَّهُمَّ إِنِّي اسْالُكَ بِٱسْمِكَ ٱلْكَرِيـمِ وَبِنُورِ وَجْهِكَ ٱلْمُنِيرِ وَمُلْكِكَ ٱلْقَدِيمِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ اسْالُكَ بِٱسْمِكَ ٱلَّذِي اشْرَقَتْ بِهِ ٱلسَّمَاوَاتُ وَٱلارَضُونَ وَبِٱسْمِكَ ٱلَّذِي يَصْلَحُ بِهِ ٱلاوَّلُونَ وَٱلآخِرُونَ يَا حَيّاً قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ وَيَا حَيّاً بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ وَيَا حَيّاً حِينَ لا حَيُّ يَا مُحْيِيَ ٱلْمَوْتَىٰ وَمُمِيتَ ٱلاحْيَاءِ يَا حَيُّ لا إِلٰهَ إِلاَّ انْتَ اَللَّهُمَّ بَلِّغْ مَوْلاَنَا ٱلإِمَامَ ٱلْهَادِيَ ٱلْمَهْدِيَّ ٱلْقَائِمَ بِامْرِكَ صَلَوَاتُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَعَلَىٰ آبَائِهِ ٱلطَّاهِرِينَ عَنْ جَمِيعِ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَاتِ فِي مَشَارِقِ ٱلارْضِ وَمَغَارِبِهَا سَهْلِهَا وَجَبَلِهَا وَبَرِّهَا وَبَحْرِهَا وَعَنِّي وَعَنْ وَالِدَيَّ مِنَ ٱلصَّلَوَاتِ زِنَةَ عَرْشِ ٱللَّهِ وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ وَمَا احْصَاهُ عِلْمُهُ وَاحَاطَ بِهِ كِتَابُهُ اَللَّهُمَّ إِنِّي اجَدِّدُ لَهُ فِي صَبِيحَةِ يَوْمِي هٰذَا وَمَا عِشْتُ مِنْ ايَّامِي عَهْداً وَعَقْداً وَبَيْعَةً لَهُ فِي عُنُقِي لا احُولُ عَنْه وَلا ازُولُ ابَداً اَللَّهُمَّ ٱجْعَلْنِي مِنْ انْصَارِهِ وَاعْوَانِهِ وَٱلذَّابِّينَ عَنْهُ وَٱلْمُسَارِعِينَ إِلَيْهِ فِي قَضَاءِ حَوَائِجِهِ وَٱلْمُمْتَثِلِينَ لاِوَامِرِهِ وَٱلْمُحَامِينَ عَنْهُ وَٱلسَّابِقِينَ إِلَىٰ إِرَادَتِهِ وَٱلْمُسْتَشْهَدِينَ بَيْنَ يَدَيْهِ اَللَّهُمَّ إِنْ حَالَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ٱلْمَوْتُ ٱلَّذِي جَعَلْتَهُ عَلَىٰ عِبَادِكَ حَتْماً مَقْضِيّاً فَاخْرِجْنِي مِنْ قَبْرِي مُؤْتَزِراً كَفَنِي شَاهِراً سَيْفِي مُجَرِّداً قَنَاتِي مُلَبِّياً دَعْوَةَ ٱلدَّاعِي فِي ٱلْحَاضِرِ وَٱلْبَادِي اَللَّهُمَّ ارِنِي ٱلطَّلْعَةَ ٱلرَّشِيدَةَ وَٱلْغُرَّةَ ٱلْحَمِيدَةَ وَٱكْحُلْ نَاظِرِي بِنَظْرَةٍ مِنِّي إِلَيْهِ وَعَجِّلْ فَرَجَهُ وَسَهِّلْ مَخْرَجَهُ وَاوْسِعْ مَنْهَجَهُ وَٱسْلُكْ بِي مَحَجَّتَهُ وَانْفِذْ امْرَهُ وَٱشْدُدْ ازْرَهُ وَٱعْمُرِ ٱللَّهُمَّ بِهِ بِلادَكَ وَاحْيِ بِهِ عِبَادَكَ فَإِنَّكَ قُلْتَ وَقَوْلُكَ ٱلْحَقُّ: «ظَهَرَ ٱلْفَسَادُ فِي ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ ايْدِي ٱلنَّاسِ.» فَاظْهِرِ ٱللَّهُمَّ لَنَا وَلِيَّكَ وَٱبْنَ بِنْتِ نَبِيِّكَ ٱلْمُسَمَّىٰ بِٱسْمِ رَسُولِكَ صَلَّىٰ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ حَتَّىٰ لا يَظْفَرَ بِشَيْءٍ مِنَ ٱلْبَاطِلِ إِلاَّ مَزَّقَهُ وَيُحِقُّ ٱلْحَقَّ وَيُحَقِّقَهُ وَٱجْعَلْهُ ٱللَّهُمَّ مَفْزَعاً لِمَظْلُومِ عِبَادِكَ وَنَاصِراً لِمَنْ لا يَجِدُ لَهُ نَاصِراً غَيْرَكَ وَمُجَدِّداً لِمَا عُطِّلَ مِنْ احْكَامِ كِتَابِكَ وَمُشَيِّداً لِمَا وَرَدَ مِنْ اعْلامِ دِينِكَ وَسُنَنِ نَبِيِّكَ صَلَّىٰ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وآلِهِ وَٱجْعَلْهُ ٱللَّهُمَّ مِمَّنْ حَصَّنْتَهُ مِنْ بَاسِ ٱلْمُعْتَدِينَ اَللَّهُمَّ وَسُرَّ نَبِيَّكَ مُحَمَّداً صَلَّىٰ ٱللَّهُ عَلَيْهِ وآلِهِ بِرُؤْيَتِهِ وَمَنْ تَبِعَهُ عَلَىٰ دَعْوَتِهِ وَٱرْحَمِ ٱسْتِكَانَتَنَا بَعْدَهُ اَللَّهُمَّ ٱكْشِفْ هٰذِهِ ٱلْغُمَّةَ عَنْ هٰذِهِ ٱلامَّةِ بِحُضُورِهِ وَعَجِّلْ لَنَا ظُهُورَهُ «إِنَّهُمْ يَرَوْنَهُ بَعِيداً وَنَرَاهُ قَرِيباً.» بِرَحْمَتِكَ يَا ارْحَمَ ٱلرَّاحِمِينَ

===================

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ

اے معبود اے عظیم نورکے پرودگار، اے بلند کرسی کے پرودگار، اے موجیں مارتے سمندر کے پرودگار، اور اے توریت اور انجیل اور زبور کے نازل کرنے والے، اور اے سایہ اور دھوپ کے پرودگار، اے قرآن عظیم کے نازل کرنے والے، اے مقرب فرشتوں کے پروردگار، اور فرستادہ نبیوں اور رسولوں کے پروردگار، اے معبود بے شک میں سوال کرتا ہوں تیری ذات کریم کے واسطے سے، تیری روشن ذات کے نور کے واسطے سے، اور تیری قدیم بادشاہی کے واسطے سے، اے زندہ اے پائندہ، تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے جس سے چمک رہے ہیں سارے آسمان اور ساری زمینیں، تیرے نام کے واسطے سے جس سے اولین وآخرین نے بھلائی پائی، اے زندہ ہر زندہ سے پہلے، اور اے زندہ ہر زندہ کے بعد، اور اے زندہ جب کوئی زندہ نہ تھا، اے مردوں کو زندہ کرنے والے اے زندوں کو موت دینے والے، اے وہ زندہ کہ تیرے سواء کوئی معبود نہیں، اے معبود ہمارے مولا امام ہادی مہدی کو جو تیرے حکم سے قائم ہیں، ان پر اور ان کے پاک بزرگان پر خدا کی رحمتیں ہوں، اور تمام مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کی طرف سے، جو زمین کے مشرقوں اور مغربوں میں ہیں، میدانوں اور پہاڑوں، اور خشکیوں اور سمندروں میں، میری طرف سے میرے والدین کی طرف سے، بہت درود پہنچا دے جو ہم وزن ہو، عرش اور اسکے کلمات کی روشنائی کے، اور جو چیزیں اس کے علم میں ہیں اور اس کی کتاب میں درج ہیں، اے معبود میں تازہ کرتا ہوں ان کے لیے آج کے دن کی صبح کو، اور جب تک زندہ ہوں باقی ہے یہ پیمان، یہ بندھن اور ان کی بیعت جو میری گردن پر ہے، نہ اس سے مکروں گانہ کبھی ترک کروں گا، اے معبود مجھے ان کے مدد گاروں ان کے ساتھیوں، اور ان کا دفاع کرنے والوں قرار دے، میں حاجت برآری کیلئے ان کی طرف بڑھنے والوں، انکے احکام پر عمل کرنے والوں، انکی طرف سے دعوت دینے والوں، انکے ارادوں کو جلد پورے کرنے والوں، اور انکے سامنے شہید ہونے والوں میں قرار دے، اے معبود اگر میرے اور میرے امام کے درمیان موت حائل ہو جائے جو تو نے اپنے بندوں کے لیے آمادہ کر رکھی ہے، تو پھر مجھے قبر سے اس طرح نکالنا کہ کفن میرا لباس ہو، میری تلوار بے نیام ہو، میرا نیزہ بلند ہو، داعی حق کی دعوت پر لبیک کہوں شہر اور گاؤں میں، اے معبود مجھے حضرت کا رخ زیبا، آپ کی درخشاں پیشانی دکھا، ان کے دیدار کو میری آنکھوں کا سرمہ بنا، ان کی کشائش میں جلدی فرما، ان کے ظہور کو آسان بنا، ان کا راستہ وسیع کر دے، اور مجھ کو ان کی راہ پر چلا، ان کا حکم جاری فرما، ان کی قوت کو بڑھا، اور اے معبود ان کے ذریعے اپنے شہر آباد کر، اوراپنے بندوں کو عزت کی زندگی دے، کیونکہ تو نے فرمایا اور تیرا قول حق ہے کہ، ظاہر ہوا فساد خشکی اور سمندر میں، یہ نتیجہ ہے لوگوں کے غلط اعمال و افعال کا، پس اے معبود! ظہور کر ہمارے لیے اپنے ولی، اور اپنے نبی کی دختر (س) کے فرزند کا، جن کا نام تیرے رسول کے نام پر ہے، ﷺ، یہاں تک کہ وہ باطل کا نام و نشان مٹا ڈالیں، حق کو حق کہیں اور اسے قائم کریں، اے معبود قرار دے انکو اپنے مظلوم بندوں کیلئے جائے پناہ، اور ان کے مددگار جن کا تیرے سوا کوئی مدد گار نہیں بنا، ان کو اپنی کتاب کے ان احکام کے زندہ کرنے والے جو بھلا دیئے گئے، ان کو اپنے دین کے خاص احکام اور اپنے نبی کے طریقوں کو راسخ کرنے والے بنا، ان پر اور انکی آل پر خدا کی رحمت ہو، اور اے معبود انہیں ان لوگوں میں رکھ جنکو تو نےظالموں کے حملے سے بچایا، اے معبود خوشنود کر اپنے نبی محمد کو ان کے دیدار سے، ﷺ، اور جنہوں نے ان کی دعوت میں انکا ساتھ دیا، اور ان کے بعد ہماری حالت زار پر رحم فرما، اے معبود ان کے ظہور سے امت کی اس مشکل اور مصیبت کو دور کر دے، اور ہمارے لیے جلد انکا ظہور فرما، کہ لوگ انکو دور اور ہم انہیں نزدیک سمجھتے ہیں، تیری رحمت کاواسطہ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے،
===================


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *