anwarulnajaf.com

dua qunoot | دعائے قنوت

dua qunoot | دعائے قنوت

dua qunoot |  دعائے قنوت

اہلبیت طاہرین علیہم السلام سے قنوت کے متعلق روایات تواتر سے منقول ہیں حتّٰی کہ فروع کافی میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ جو شخص قنوت کو بے توجہی کرتے ہوئے چھوڑ دے تو اس کی نماز نماز نہیں۔

مسئلہ: بروایتِ زرارہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ جس شخص کو دعائے قنوت، نماز میں بھول جائے اور گھر جاتے ہوئے راستہ میں یاد آجائے تو وہیں قبلہ رُخ ہو کر پڑھ لے پھر فرمایا کہ مجھے یہ بات پسندنہیں کہ کوئی شخص سنتِ رسول ؐ سے بے توجہی برتے یا اس کو چھوڑ دے۔

مسئلہ: امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا، قنوت میں اس دعا کا پڑھنا کافی ہے:

اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا وَ عَافِنَا وَاعْفُ عَنَّا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ نیز آپ نے ایک اور روایت میں فرمایا کہ قنوت ہر نماز کے لئے ہے خواہ فرض ہو خواہ نافلہ ہے۔

مسئلہ: امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ قنوت ہر نماز میں دوسری رکعت کے رکوع سے پہلے ہے۔

مسئلہ: نماز جمعہ کے لئے دو قنوت مستحب ہیں۔ ایک پہلی رکعت میں رکوع سے پہلے اور دوسرا دوسری رکعت میں رکوع کے بعد۔

مسئلہ: نماز وتر ایک رکعت ہوتی ہے لہذا اس میں قنوت قبل رکوع پڑھا جاتا ہے۔

مسئلہ: نماز عیدین میں نو نو قنوت ہوا کرتے ہیں۔ پہلی رکعت میں پانچ اور دوسری رکعت میں چار۔

(احادیث کو اختصار کے پیشِ نظر ترک کر دیا ہے)


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *