namaz tahajjud | نماز تہجد
لَيْسُوا۟ سَوَآءً ۗ مِّنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ أُمَّةٌ قَآئِمَةٌ يَتْلُونَ ءَايَـٰتِ ٱللَّهِ ءَانَآءَ ٱلَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ (113) يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْـَٔاخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُسَـٰرِعُونَ فِى ٱلْخَيْرَٰتِ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ مِنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ (114) وَمَا يَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍ فَلَن يُكْفَرُوهُ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِٱلْمُتَّقِينَ (115) إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَن تُغْنِىَ عَنْهُمْ أَمْوَٰلُهُمْ وَلَآ أَوْلَـٰدُهُم مِّنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا ۖ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ أَصْحَـٰبُ ٱلنَّارِ ۚ هُمْ فِيهَا خَـٰلِدُونَ (116) مَثَلُ مَا يُنفِقُونَ فِى هَـٰذِهِ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيحٍ فِيهَا صِرٌّ أَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَأَهْلَكَتْهُ ۚ وَمَا ظَلَمَهُمُ ٱللَّهُ وَلَـٰكِنْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ (117)
ایک گروہ ایسا ہے جو (دین پر ) ثابت قدم ہے وہ پڑھتے ہیں ایات خدا کو اوقات شب میں درحالیکہ وہ نماز پڑھتے ہیں(113) ایمان رکھتے یں اللہ پر اورقیامت پر اورامر کرتے ہیں نیکیوں کا اورمنع کرتے ہیں برائیوں سے اورجلدی کرتے ہیں امور خیر میں اور وہی لوگ صالحین میں سے ہیں (114)
اورجو بھی کریں کوئی نیکی پس اس کی جز اسے محروم نہ کئے جائیں گے اوراللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے (115) تحقیق جولوگ کافر ہیں ہرگزنہ بے پرواہ کریں گے ان کو آپنے اموال اورنہ آپنی اولاد اللہ (کے عذاب ) سے کچھ بھی اوروہی اصحاب نار ہوں گے اوراس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے (116) جو کچھ وہ خرچ کرتے ہیں دنیاوی زندگی میں وہ اس طرح (برباد ہے ) جیسے ایک ہوا جس میں سخت خنکی ہو پڑجائے اس قوم کی کھیتی پر جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا پس وہ ہوااس کو برباد کردے اورنہیں ظلم کیا ان پر خدانے بلکہ وہ تو خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں (117)
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ بِطَانَةً مِّن دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالًا وَدُّوا۟ مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ ٱلْبَغْضَآءُ مِنْ أَفْوَٰهِهِمْ وَمَا تُخْفِى صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلْـَٔايَـٰتِ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْقِلُونَ (118) هَـٰٓأَنتُمْ أُو۟لَآءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلَا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِٱلْكِتَـٰبِ كُلِّهِۦ وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوْا۟ عَضُّوا۟ عَلَيْكُمُ ٱلْأَنَامِلَ مِنَ ٱلْغَيْظِ ۚ قُلْ مُوتُوا۟ بِغَيْظِكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ (119)
اے ایمان والو! نہ بناؤ اپنے بھیدی دوست سوائے آپنوں کے کیونکہ وہ کوتاہی کرتے تمہاری ضرررسانی میں وہ چاہتے ہیں کہ تم مشقت میں پڑو ان کا بغض وعناد ان کے مونہو ں سے ظاہرہے اوران کے دلوں میں جو مخفی ہے وہ اس سے ازیادہ ہے ہم نے تمہارے لئے ایات بیان کردیں اگر تم عقل رکھتے ہو (118) دیکھئے تو ان سے محبت رکھتے ہو اوروہ تم سے محبت نہیں رکھتے حالانکہ تم اایمان رکھتے ہوتمام کتابوں پر اورجب وہ تم سے ملتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اورجب تنہا ہوتے ہیں تو کاٹتے ہیں تمہارے اوپر آپنی انگلیاں غصے سے فرمادیجئے مرجاو آپنے غصہ کی وجہ سے تحقیق اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی باتوں کو (119)
إِن تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِن تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا۟ بِهَا ۖ وَإِن تَصْبِرُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْـًٔا ۗ إِنَّ ٱللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (120)
تمہیں ان کافریب کچھ بھی تحقیق اللہ احاطہ کرنے والا ہے اس کا جو کچھ وہ کرتے ہیں (120)
نماز تہجد کی فضیلتانائالیل یہ ان لوگوں کی مدح ہے جونماز تہجد میں تلاوت قران مجید کرتے ہیں وافی میں کافی سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ مومن کے لئے تین چیزیں باعث مخر ہیں ۱اخر شب میں نماز ۲لوگوں کے مال سے بے نیاز ہونا ۳ولایت امام حق جو اہلبیت سے ہو کتاب تہزیب سے مروی ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جن گھروں میں نماز شب میں تلاوت قران پاک ہوتی ہے وہ اہل سما کے لئے اس طرح چمکتے ہیں جس طرح اہل زمین کے لئے ستارے چمکتے ہیں نیز آپ سے منقول ہے کہ مومن کا شرف ہے نماز شب پڑھنا اورمومن کیعزت ہے لوگوں کی ناموس سے ہاتھ روکنانیز آپ نے نماز شب کی تین خاصیتیں بیان فرمائی ہیں ۱چہرہ کو روشن کرتی ہے ۲منہ کی بوکوپاکیزہ کرتی ہے ۳رزق کو بڑھاتی ہے اس کے علاوہ متعدد روایات میں ہے کہ نماز شب وسعت رزق کی موجب ہے جناب رسالتماب نے ابوذر کو فرمایا کہ جس کاخاتمہ نماز شب سے ہو اس کے لئے جنت واجب ہے حضرت امیرالمومنین علیہ اسلام سے نماز شب کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ جوشخص اللہ کے ثواب کی خاطر پورے خلوص کے سات رات کادسواں حصہ نماز شب پڑھے تو خداملائکہ کو حکم فرماتا ہے کہ اس رات میں اگنے والی تمام انگوریوں پتوں اور درختوں کی تعداد کے برابر اس کے نائمہ اعمال میں اس کی حسنات درج کرو اور اگر رات کا نواں حصۃ عبادت کرے تو خدا اس کی دعائیں قبول فرماتا ہے اور بروز محشر اس کا امعال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور جو شخص رات کا آٹھوان حصہ عبادت میں بسر کرے تو اس کو ایک شہید کا ثواب عطا ہو گا اور اس کو آپنی اہبیت میں شفاعت کا حق دیا جائے گا اور جو شخص رات کا ساتوں رات حصہ پڑھے تو جب وہ قبر سے محشور ہو گا اس کا منہ چوودھیوں رات کی طرح روشن ہو گا اور پر امن پل صراط سے عبور کرے گا اور جو شخص رات کا چھٹا حصہ عبادت میں بسر کرے وہا ولین کی جہرست میں شمارہوگا اوراس کے گزشتہ گناہ معاف کئے جائیں گے اورجورات کآپانچواں حصہ عبادت کرے گا اسے حضرت ابرہیم خلیل کے بالمقابل قبہ نور عطا ہوگا اورجورات کا چوتھائی حصہ عبادت کرے وہنجات پانے والی پہلی جماعت میں ہوگا اورتیز ہوا کی طرح پل کوعبورکرجائے گا اورجنت میں بلاحساب پہنچے گا اورجو شخص تہائیرات عبادت خدامیں مصروف رہے تو اس کی منزلت قرب پر تمام ملائکہ رشک کریں گے اوراسے اختیار دیا جائے گا کہجنت کے اٹھ دروازوں میں جس دروازہ سے چاہے گذرے اورجو شضص نصف شب عبادت میں گذارے تو اس کو اس قدر ثواب ملے گا کہ ہزار گنا ہ اس زمین سے زیاسہ سونا بھی اس جگہ کو پر نہ کرسکے گا اوراولاس اسمعیل میں سے ستر غلاموں کے ازاد کرنے سے بھی اس کاثواب زیادہ ہوگا اورجوشخص دوتہائی رات عبادت میں بسر کرے تو ریگ صحرا کے دانوں صے اس کی نیکیاں زیادہ ہوں گی اوراس کی ہر نیکی کوہ احد سے دس گنازیادہ وزنی ہوگی اورجو شکس تمام رات نماز میں تلاوت قران کے سات گذارے دے اوررکوع سجود اورذکر میں مصروف رہے تو وہگناہوں سے اس طرح پاک کیا جائیگا جس طرحنوزائیدہ بچہ اورتمام خلق خداکے برابراس کی نیکیاں لکھی جائیں گی اوراسی قدر ہی اس کو درجات عطا ہوں گے اس کی قبر نورانی ہوگی حسد وکینہ اس کے دل سے دور کیا جائے گا عذاب قبر سے محفوظ ہوہوگاجہنم سے ازادی کا پروانہ اس کو دیا جائے گا امن پانے والوں میں مبعوث ہوگا اورخدافرشتوں سے خطاب فرمائے گا کہ دیکھومیرے اس بندے نے میری رضامندی کی خاطر رات انکھوں سے گذار دی پس اس کی جگہ جنت الفردوس میں تیار کروا جس می اسکے لئے ایک ہزار شہر ہوں گے کہ ہر شہر میں اس کے لئے تمام وہ سامان موجود ہو جوسرور قلب اورخنکی چشم کا باعث ہو جواب تک کسی فرد بشر کے دل میں بھی نہ گذاراہو اورمیرا قرب اورکرامت اس کے علاوہ ہے
رات کا چھٹا حصہ عبادت میں بسر کرے وہا ولین کی جہرست میں شمارہوگا اوراس کے گزشتہ گناہ معاف کئے جائیں گے اورجورات کآپانچواں حصہ عبادت کرے گا اسے حضرت ابرہیم خلیل کے بالمقابل قبہ نور عطا ہوگا اورجورات کا چوتھائی حصہ عبادت کرے وہنجات پانے والی پہلی جماعت میں ہوگا اورتیز ہوا کی طرح پل کوعبورکرجائے گا اورجنت میں بلاحساب پہنچے گا اورجو شخص تہائیرات عبادت خدامیں مصروف رہے تو اس کی منزلت قرب پر تمام ملائکہ رشک کریں گے اوراسے اختیار دیا جائے گا کہجنت کے اٹھ دروازوں میں جس دروازہ سے چاہے گذرے اورجو شضص نصف شب عبادت میں گذارے تو اس کو اس قدر ثواب ملے گا کہ ہزار گنا ہ اس زمین سے زیاسہ سونا بھی اس جگہ کو پر نہ کرسکے گا اوراولاس اسمعیل میں سے ستر غلاموں کے ازاد کرنے سے بھی اس کاثواب زیادہ ہوگا اورجوشخص دوتہائی رات عبادت میں بسر کرے تو ریگ صحرا کے دانوں صے اس کی نیکیاں زیادہ ہوں گی اوراس کی ہر نیکی کوہ احد سے دس گنازیادہ وزنی ہوگی اورجو شکس تمام رات نماز میں تلاوت قران کے سات گذارے دے اوررکوع سجود اورذکر میں مصروف رہے تو وہگناہوں سے اس طرح پاک کیا جائیگا جس طرحنوزائیدہ بچہ اورتمام خلق خداکے برابراس کی نیکیاں لکھی جائیں گی اوراسی قدر ہی اس کو درجات عطا ہوں گے اس کی قبر نورانی ہوگی حسد وکینہ اس کے دل سے دور کیا جائے گا عذاب قبر سے محفوظ ہوہوگاجہنم سے ازادی کا پروانہ اس کو دیا جائے گا امن پانے والوں میں مبعوث ہوگا اورخدافرشتوں سے خطاب فرمائے گا کہ دیکھومیرے اس بندے نے میری رضامندی کی خاطر رات انکھوں سے گذار دی پس اس کی جگہ جنت الفردوس میں تیار کروا جس می اسکے لئے ایک ہزار شہر ہوں گے کہ ہر شہر میں اس کے لئے تمام وہ سامان موجود ہو جوسرور قلب اورخنکی چشم کا باعث ہو جواب تک کسی فرد بشر کے دل میں بھی نہ گذاراہو اورمیرا قرب اورکرامت اس کے علاوہ ہے
مسئلہ نماز تہجد کا وقت نصف شب کے بعد شروع ہو کرطلوع صبح تک رہتا ہے البتہ بعض معذوریوں کے ماتحت نصف شب سے قبل بھی پڑھی جاسکتی ہے جن کی تفصیل کتب فقہ میں مذکور ہے
مسئلہ نماز شب کل ۱۱رکعت ہوتی ہے پہلی اٹھ رکعتیں نیت نماز تہجد دودورکعت کرکے پڑھے اورپھر دورکعت نماز شفع اورپھر ایک رکعت نماز وتر پڑھے نماز تہجد میں ہر دوسری رکعت مٰ قنوت مستحب ہے اورنماز شفع میں قنوت نہیں ہے اورنماز وتر میں قنوت پڑھے جس میں کم اکم چالیس مومنوں کے لئے دعائے مغفرت اورستر مرتبہاستغفار پڑھے اورتین سودفعہ العفو پڑھے یہ مختصر طریقہ ہے نماز تہجد کا اس کی پوری تفصیل اورجملہ ادعیہ کتب اعمال میں موجودہے
مثل ماینفقون اس میں مفسرین کے متعدداوال ہیں ابوسفیان اوراس کے ساتھیوں نے بدرواحد مٰں حضرت رسالتماب کے مقابلہ میں جو کچھ خرچ کی اتھ اعوام یہود جو کچھ آپنے علماء کو بطور رشوت یاخدمت کے دیتے تھے کفار کے جملہ صدقات وخیرات یہ تمام اس طرح رائیگا ں ہیں جسطرح کسی کھیتی کو تندوسرد ہوا برباد کردے نہ دنی امیں اسکاکچھ فائدہ ان کو ملا کیونکہ شکست خوردہ ہوئے اورنہ اخرت میں اس کا کچھ فائدہ ان کوہوگا بلکہ الٹازیادہ عذاب کے سزاوار ہوں گے
یایھاالذین امنو مسلمانوں کا ایک گروہ آپنی سابقہ دوستی قرابت پڑوس اورقسم کی بناء پر یہودیوں صے میل جول رکھتا تھا اوربعؑض اوقات ان سے آپنے راز تک بیان کردیتا تھا پس اخدانے ان کو آپنی اس غلطی سے متنبہ فرمایا اوران کو آپنا رازدار بنانے سے روکا نیز یہ ایت صرف انہیں لوگوں کے لئے مختص نہیں بلکہ تاقیامت ایمان والوں کودعوت دی گئی ہے کہ آپنی دوستی ومحبت کو صرف ایمانی بھائیوں تک محدود رکھیں اورغیر مومن سے سلسلہ محبت چھوڑدیں کیونکہ وہ ظاہر امحبت کا اظہار کرتے ہیں اوردل میں ان کی ہلاکت کے خواہشمند ہوا کرتے ہیں
اگر نہیں چھوجائے کوئی بھلائی توا نہیں بری لگتی ہے اوراگرتمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو وہا س سے خوش ہوتے ہیں اوراگر تم صبر کرو اورتقوی اختیار کرو تو ضررنہ دے گا
وتومنون بالکتاب کلہ یہاں لفظ کتاب اگرچہ واحد ہے لیکن مراد جمع ہے یعنی کتاب سے یہاں جنس کتاب مراد ہے یایہ کہ کتاب مصدر ہے اورمراد تمام کتب اسمانی ہیں مقصد یہ ہے کہ تم تمام کتب سماویہ پر ایمان رکھتے ہو اوروہ لوگ تمہاری کتاب (قران مجید ) کو نہیں مانتے پھر باہمی دوستی کیسی
ان تمسسکم یعنی ان کی تمہارے ساتھ قلبی دشمنی اس سے واضح ہے کہ جب تم کو معمولی سافائدہ بھی حاصؒ ہو جائے توانہیں برالگتا ہے اورجب تم کسی بلاومصیبت میں گرفتار ہو جاو تو وہ خوش ہوتے ہیں پہلے مقام پرمساس اوردوسرے مقام پر اصابہ کا استعمال جس باریکی ودقت کی طرف اشارہ ہے اسے صاحبان ذوق خوب سمجھ سکتے ہیں اوریہ معنوی خوبیاں صرف اسی کلام بلاغت نظام کاہی حصہ ہیں یعنی اگر کوئی بھلائی تمہیں معمولکی طرح چھوبھی جائے تو ان کودلی کوفت ہوتی ہے اوردوسری طرف اگر اچھی خاصی تکلیف پہنچ تو وہ فرحت محسوس کرتے ہیں اورکسی کی کسی کے ساتھ حددرجے کی دشمنی کی علامت بھی یہی ہوا کرتی ہے
وان تصبرواوتتقوا اہل ایمان کو خداوند عالم نے جگہ بہ جگہ صبر وتقی کی تلقین فرمائی ہے اوریہ دونوں چیزیں معرفت سے حاصل ہوتی ہیں معرفت جس قدر زیادہ ہوتی ہے برداشت کی ہمت اسی قدر زیادہ ہوا کرتی ہے اورتقوی کی منازل میں بھی اسی نسبت سے ترقی ہوتی ہے احکام خداوندی پر صبر وسکون اوراطمینان ورضا کے ساتھ عمل پیرا ارہنا اوراس معامل ہ میں کسی کی طعن وتشنع کی برواہ نہ کرنا صبر ہے اوراللہ کی نافرمانیوں سے دامن بچا کررہنا اورخواہشات نفس کی اتباع سے گریز کرنا تقوی ہے اوردرحقیقت صبر وتقوی ایک دوسرے سے لازم وملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں جب انسان معرفت ودانش اورعمل وکردار سے اس منزل پر فائز ہوجائے تو اس پر کسی کے مکروفریب کا کوئی اثر نہں ہوتا اورنہ کسی کی طعن وتشنیع یایزارسانی اسے آپنی منزل سے ذرہ بھر بھی پیچھے ہٹا سکتی ہے۔
Leave a Reply