surah ad dhuha read online sura ad dhuha pdf ad dhuha sharif arabic english urdu
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
سورہ الضحیٰ
· یہ سورہ مکیہ ہے ۔
· اس کی آیات کی تعداد بسم اللہ کو ملا کر بارہ بنتی ہے ۔
· حدیث نبوی میں ہے جو شخص اس کی تلاوت کرے گا اس کو خدا جنت میں راضی کرے گا اور حضرت محمد مصطفیٰ ؐ اس کی شفاعت کریں گے اور ہر یتیم و سائل کی تعداد سے دس گنا نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں درج کی جائیں گی ۔
· اگر اس سورہ مجیدہ کو کسی گمشدہ کے نام کے ساتھ لکھا جائے گا تو صحیح و سالم واپس آئے گا اور اگر کوئی انسان کوئی چیز بھول جائے تا یاد آنے پر اس سورہ مجیدہ کی تلاوت کرے پس وہ چیز خدا کی حفاظت میں ہو گی اور اس کو صحیح و سالم مل جائیگی اگر گمشدہ ساتھی کے نام پر اس سورہ کو روزانہ پڑھا جائے تو وہ ساتھی لازماً پلٹ کر واپس آئے گا (نبوی)
· تنبیہ : فقہی نقطہ نظر سے سورہ الضحیٰ اور سورہ الم نشرح ایک شمار ہوتی ہیں لہذا اگر اس سورہ کو نماز فریضہ میں پڑھنا ہو تو اس کے بعد سورہ الم نشرح کو بھی ضرور پڑھے ورنہ نماز باطل ہو گی اور دونوں سورتوں کو پڑھنے کی صورت میں الم نشرح کی ابتدائی بسم اللہ کو بھی پڑھنا پڑے گا۔
رکوع نمبر 18۔ اذا سجیٰ ۔ سیہ سجو سے ہے اس کا معنی ہے سکون یعنی رات جب جم جائے اور بعضوں نے کہا ہے کہ مضاف محذوف ہے یعنی رب الضحی اور رب الیل یعنی خدا نے اپنی ذات کی قسم کھائی ہے اور بعد میں جواب قسم ہے ۔
ماودعک ۔ مجمع البیان میں ہے کہ یہودیوں نے ذوالقرنین اصحاب کہف اور روح کے متعلق حضورؐ سے سوالات کئے تھے ۔ تو آپ نے انشاء اللہ کہنے بغیر ان سے وعدہ کر لیا تھا پس چند دن سے 15 یا 12 یا زیادہ سے زیادہ چالیس دن تک وحی کی آمد بند ہو گئی پس کفار کہنا شروع کر دیا کہ اب محمدؐ کا خدا خدا اس سے ناراض ہو گیا ہے چنانچہ بعد میں جبریل یہ سورہ لایا اس دوران میں ابو لہب کی بیوی ام جمیل حجر جو ابو سفیان کی بہن تھی اس نے بھی ناسزا الفاظ کہے تھے۔
ما ودعک ۔ یہ جواب قسم ہے کہ نہ خدا نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ و ہ تجھ پر ناراض ہے ۔
ولسوف یعطیک ۔ یعنی قیامت کے دن خدا تجھے اتنا دے گا کہ تو راضی ہو گا اور اس سے مراد شفاعت ہے اور حضرت محمد حنفیہ سے مروی ہے کہ جس آیت کو لوگ اپنی بخشش کا بہت بڑا سہارا سمجھتے ہیں وہ یہ ہے الذین اسرفوا علی انفسھم الخ اور ہمارے یعنی اہلبیت کے نزدیک سب سے زیادہ بخش کا سہارا ہے خدا اپنے حبیب سے وعدہ فرما رہا ہے کہ تمہارا رب تمہیں اس قدر دے گا کہ تم راضی ہو گے اور اس سے مراد شفاعت ہے چنانچہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت نبی کریمؐ ، حضرت بتولؑ معظمہ کے گھر میں داخل ہوئے جب کہ محذرہ طاہرہ کی اوڑھنی اونٹ کے کھردرے بالوں کی تھی ، بچہ گود میں تھا اور آپ آسیہ گردانی کے کے فرائض انجام دے رہی تھیں پس دیکھتے ہی آپ آبدیدہ ہو گئے اور فرمایا دنیا کی سخت زندگی آخرت کی شیریں زندگی کے بدلہ میں ہے پس یہ آیت اتری ولسوف الایہ اور رسولؐ اللہ کی رضا یہ ہے کہ اپنے اہلبیت کو سب سے پہلے جنت میں داخل کرے اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے جد کی رضا یہ ہے کہ کوئی موحد آتش دوزخ کا ایندھن نہ بننے پائے (بشرطیکہ نبوت و امامت کے متعلق بھی عقیدہ صحیح رکھتا ہے )
المد یجدک۔ خدا وند کریم نے حضورؐ پر اپنے احسانات کا تذکرہ فرمایا کہ آپ یتم تھے اور بظاہر آپ کا کفیل کوئی نہ تھا کیونکہ دو برس کے سن میں باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور آٹھ برس کی عمر میں جد نامدار حضرت عبدالمطلب کا سایہ بھی اٹھ گیا تو خداوندم کریمؐ نے حضرت ابو طالب کے دل میں اکی محبت ڈال دی اور وہ اپنی اولاد سے بھی زیادہ آپ سے محبت کرتے تھے اور حضرت عبدا للہ اور حضرت ابوطالب کی ماں ایک تھی جب کہ دوسرے بھائی دوسری ماوؤں کی اوالاد تھے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کی گیا کہ حضورؐ کو اللہ نے یتیمی کیوں دی ؟ تو آپ نے فرمایا تا کہ کسی مخلوق کو اللہ کے حبیب سے برتری نہ رہے اور اور کسی کو آپؐ پر بالادستی کا حق حاصل نہ ہو کیونکہ ایسی صورت میں تبلیغی سرگرمیوں میں روکاوٹ کا امکان ہوتا ہے۔
ووجدک ضالاً ۔ اس کے متعدد معانی کئے گئے ہیں لیکن سب سے مناسب معنی جو آپ کی عصمت و برتری کے شایان شان ہے وہ یہ ہے کہ فعال کا مضلول ہے یعنی آپ کے بارے میں لوگ گمراہ تھے یا یہ کہ لوگ آپ کو گمراہ سمجھتے تھے پس خدا نے ایسے اسباب پیدا کر دیئے کہ لوگوں نظرئیے بدل گئے اور نظریاتی انقلاب نے لوگوں کو اپنی غلطیوں کا احساس دلایا پس لوگ حضورؐ کی وجہ سے ہدایت کے قریب ہوتے چلے گئے ۔
ووجدک عائلاً ۔ یعنی دولت کے اعتبار سے آپ تہی دست تھے پس خدیجہ کے مال سے اللہ نے ان کو لوگوں سے غنی کر دیا ۔
اما الیتم ۔ حضرت نبی کریمؐ نے فرمایا جو شخص یتیم کے سر پر رحم کا ہاتھ رکھے تو جس قدر بال اس کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے خداوند کریم ہر بال کے بدلہ میں اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی کا اضافہ اور ایک گناہ کی کمی کرے گا اور قیامت کے دن اس کو نور عطا کرے گا اور مروی ہے کہ یتیم کی فریاد عرش کو ہلا دیتی ہے اور یہ کہ یتیم پرور جنت کے بالکل قریب ہو کرتا ہے ۔
اما السآئل ۔ سائل کو جھڑکنا ممنوع ہے البتہ جو کچھ دے سکے اس کو دیدے اور مروی ہے کہ اگرچہ سائل گھوڑے پر بھی سوار ہو تب بھی کچھ نہ کچھ اس کو دے دینا چاہیے اور بعض نے سائل سے مراد طالب علم لیا ہے ۔
نعمۃ ربک فحدث۔ حضورؐ پر اللہ کی نعمت نبوت و رسالت تھی پس اس کا لوگوں میں اعلان کرنا آپ کے فرائض میں سے تھا اور یہ تحدیث نعمت پروردگار تھی اور اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی انسان پر اللہ نعمت نازل فرمائے تو اس کا بیان کرنا شکر نعمت میں داخل ہے ۔


Leave a Reply