anwarulnajaf.com

surah adiyat read online sura al ‘aadiyaat pdf al ‘aadiyaat sharif arabic english urdu

surah adiyat read online sura al ‘aadiyaat pdf al ‘aadiyaat sharif arabic english urdu

surah adiyat read online sura al 'aadiyaat pdf al 'aadiyaat sharif arabic english urdu

سورة العاديات (100)    al-`Adiyat    The Assaulters    العٰدِیٰتِ

بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
وَالْعَادِيَاتِ
ضَبْحًا (1) فَالْمُورِيَاتِ قَدْحًا (2) فَالْمُغِيرَاتِ صُبْحًا (3) فَأَثَرْنَ
بِهِ نَقْعًا (4) فَوَسَطْنَ بِهِ جَمْعًا (5) إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ
لَكَنُودٌ (6) وَإِنَّهُ عَلَى ذَلِكَ لَشَهِيدٌ (7) وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ
لَشَدِيدٌ (8) أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُورِ (9)وَحُصِّلَ
مَا فِي الصُّدُورِ (10) إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّخَبِيرٌ (11)

اللہ
کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے (شروع کرتا ہے )
تیز سانس لے کر دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم
(1) پس رگڑ سے آگ پیدا کرنے والوں کی قسم (2) پس صبح کو دشمن پر لوٹ برپاکرنے
والوں کی قسم (3) کہ انہوں نے اپنی تیز دوڑ سے غبار اڑایا (4) پس دشمن کے ہجوم میں
گھس گئے (5) بے شک تحقیق انسان اپنے رب کا انکاری ہے (6) اور تحقیق وہ اس چیز پر
گواہ ہے (7) اور تحقیق وہ مال کی محبت میں سخت ہے (8)

خواص سورہ والعادیات

·       یہ سورہ مکیہ ہے اور بعض نے اس کو مدنیہ کہا ہے
اور اس کے شان نزول کا واقعہ اس کا مدنی ہونا ظاہر کرتا ہے واللہ اعلم
·       اس کی آیات کی تعداد بسم اللہ سمیت 12 ہے ۔
·       حدیث نبوی میں ہے جو شخص سورہ والعادیات کی
تلاوت کرے عرفات و مزدلفہ میں رہنے والے حاجیوں کی تعداد سے دن گنا ثواب اس کے
نامہ اعمال میں درج ہو گا۔ 
·       حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ
جو شخص سورہ والعادیات کی روزمرہ باقاعدہ تلاوت کرتا رہے  وہ حضرت امیر
المومنین علیہ السلام کے ساتھیوں میں محشور ہو گا۔ 
·       حدیث نبوی میں ہے کہ جو شخص اس سورہ کی باقاعدہ
روز مرہ تلاوت کرے اس کو پورے قرآن کے ختم کا ثواب ہو گا اور اگر اس کو مقروض پڑھے
گا تو اس کا قرضہ ادا ہو جائے گا۔ 
·       حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ
اس کو پڑھنے والا خائف ہو تو بامن  ہو گا بھوکا ہو تو سیر ہو گا پیاسا ہو تو
اس کی پیاس ختم ہو جائے گی اور اگر اس کو مقروض پڑھے تو بہت جلد بار قرض سے سبکدوش
ہو گا باذن اللہ
·       فوائد القرآن میں ہے اگر اس سورہ کو نئے برتن پر
لکھا ئے اور آب  باراں سے دھویا جائے اور درد والا آدمی اس پانی کو معمولی
شکر ملا پیتا رہے تو اس کا درد ختم ہو جائے گا۔ 
رکوع نمبر 25 ۔ والعادیات ۔ اس کا موصوف فرسان محذوف ہے اور
اس آیت میں خداوند کریم میدان جنگ میں دوڑانے والے گھوڑوں کی قسم کھا رہا ہے جو کہ
جب تیز دوڑتے ہیں تو ان کے سانس بھی تیز ہوتے اور ان کے سموں سے آگ کی چنگاریاں
اٹھتی ہیں۔
غزوہ ذات السلاسل 
تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ جب غزوہ ذات السلاسل میں حضورؐ
نے یکے بعد دیگرے صحابہ کی ناکامی کے بعد حضرت علیؑ کو بھیجا اور وہ فاتح ہر کر
پلٹے تو یہ سورہ  نازل ہوا اس کی تفصیل تفسیر سورہ برہان میں اس طرح ہے کہ
وادی یا بس کے باشندوں نے اسلام کے خلاف آپس میں عہد کیا اور شمع اسلام کے گل کرنے
کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا ادھر جبرئیل نے خدمت نبوی میں پہنچ کر وادی یابس کے
کافر باشندوں کے ارادہ فاسدہ کی اطلاع دے دی جن کے جنگی جوانوں کی تعداد بارہ ہزار
تھی ۔ آپ نے چار ہزار صحابہ کا لشکر جرار دیکر ابو بکر کو ان کی سرکوبی  کے
لئے روانہ فرمایا جب فوج اسلام وادی یابس کے قریب پہنچ تو وہاں کا سردار اپنے دو
سو فوجی آفیسروں کے ہمراہ فوج اسلام کے سربراہ سے گفتگو کرنے کےلئے نکلا  ابو بکر نے اپنے بیان میں کہا کہ میں اللہ کے
رسول کافرستادہ ہوں اور دعوت اسلام  لے کر
آیا ہوں اگر آپ لوگ اسلام  کی دعوت قبول کر
لیں تو ہم آپس میں بھائی بھائی ہوں گے اور بصورت دیگر ہمارے اوپر واجب ہو گا کہ تم
سے  جنگ کریں انہوں نے ابو بکر کی بات سنتے
ہی نہایت تند و تلخ لہجہ سے دعوت اسلام کو ٹھکراتے ہوئے انی تلواروں کے قبضوں
پرہاتھ رکھا اور دھمکی دیکر کہا خبر دار ہمارے بارہ ہزار جنگی جوان تمہاری بوٹی
بوٹی کر دیں گے پس مناسب یہ ہے کہ یہاں سے بھاگ جاؤ ورنہ تمہارا انجام برا ہو گا
پس ان کی کثرت سے مرعوب ہو کر فوج اسلام نے باعزت پسپا ہونے میں بہتیری سمجھی
چنانچہ واپس باعافیت مدینہ میں پہنچے آپ نے دوبارہ حضرت عمر کو اسی فوج کا سالار
مقرر کر کے روانہ فرمایا تو نتیجہ پھر بھی وہی نکلا  کہ کفار کی دھمکی کو نہ
برداشت کرتے ہوئے جان بچا کر بخیریت واپس آنے میں بھلائی سمجھی اور فوج اسلام
دوبارہ واپس اب تیسیری مرتبہ شیر شیبہ ، شجاعت شہنشاہ ولایت امیر المومنین علیہ
السلام کو انہی مجاہدین کی فوجی کمان حوالے کر کے حضور نے روانہ فرمایا جب وادی
یابس کے قریب پہنچے  تو دستور سابق کے
ماتحت کفار کا سالار اپنے دو سو خصوصی دولت کے ہمراہ ابتدائی گفتگو کے لئے حاضر ہو
تو حضرت علؑی  نے دعوت اسلام کو پیش کیا
اور بصورت دیگر جنگ کا اعلان  کو
دھرادیا  اور اپنے عزم صمیم  کا دوبارہ برملا اظہار فرمایا آپ نے اس گفتگو
کے بعد اپنی فوج جنگ کےلئے تیار رہنے کا حکم دے دیا اور پوری مستعدی کے ساتھ دشمن
کے سامنے  ڈٹ جانے کا ہر مجاہد سے پیمان لے
لیا چنانچہ مجاہدین نے شوق جہاد میں گن گن کر رات کی گھڑیاں گزاریں اور صبح کی
نماز اول وقت میں ادا کر کے جہاد کے لئے کمر بستہ ہو گئے اور اعلی الصباح کفار پر
دھاوا دیا جس کے نتیجہ میں کفار کے جنگی جوان تاب مقابلہ نہ لاتے ہوئے لقمہ اجمل
ہوتے چلے گئے اور مجاہدین اسلام نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے آگے بڑھتے گئے ۔ یہاں
تک کہ چھ دیر کے بعد وادی یابس میں اسلام کا جھنڈا لہراتا ہوا نظر آیا اس جنگ میں
بہت کافی مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا پس کامیاب و کامران ہر کر ادھر فوج اسلام
مراجعت فرمائے مدینہ ہوئی تو جبرئیل نے پہنچ کر علی کی فتح کی خوشخبری سنا دی اور
یہ سورہ نازل ہوا پس حضرت پیغمبر اہل مدینہ کو ساتھ لے کر مدینہ سے تین میل باہر
تک علیؑ کے استقبال کے لئے تشریف ۔ جب حضرت علیؑ قریب آئے تو احتراماً گھوڑے 
سے اترے اور پیغمبر نے علیؑ کو گلے لگا لیا اور تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ حضور
نے صبح  کی نماز میں بھی سورہ والعادیات
پڑھی تھی اور چونکہ صحابہ نے اس سے پہلے یہ سورہ نہیں سنا تھا وہ حیران ہو کر ایک
دوسرے سے پوچھنے لگے تب آپ نے فرمایا کہ جبرئیل نے مجھے حضرت علیؑ کی فتح کی بشارت
دی ہے اور یہ سورہ بھی ہمراہ لایا ہے ۔
لکنود۔ اس کا معنی ہے منکر اور حدیث
نبوی میں ہے کہ الکنود الذی یاکل وحدہ و یمنع رفد یعنی کنود وہ ہے جو تنہا کھائے
اور مہمان کو کچھ نہ دے اور اپنے غلام پر ظلم کرے۔


Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *