surah al ‘asr read online sura al ‘asr pdf al ‘asr sharif arabic english urdu
بِسْمِ
اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
وَالْعَصْرِ
(1) إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ (2) إِلَّا الَّذِينَ
آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ
(3)
(1) إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ (2) إِلَّا الَّذِينَ
آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ
(3)
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے (شروع
کر تا ہوں)
کر تا ہوں)
عصر کی قسم (1) تحقیق انسان خسارے میں ہے
(2) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل صالح بجا لائے اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت
کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی(3)
(2) مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل صالح بجا لائے اور ایک دوسرے کو حق کی وصیت
کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی(3)
سورہ العصر
³ یہ سورہ مکیہ ہے اوربسم اللہ کے علاوہ اس کی آیات تین ہیں ۔
³ حدیث میں ہے جو شخص اس کو پڑھے گا اس کا خاتم صبر پر ہو گا اور بروز محشر اصحاب حق میں شمار ہو گا۔
³ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جو شخص نوافل میں سورہ العصر کو پڑھے قیامت کے روز اس کا چہرہ نورانیہو گا اور وہ ہنستا ہوا خنکی چشم کے ساتھ داخل جنت ہو گا۔
³ حدیث نبوی میں ہے جو اس کو پڑھے گا اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کا خاتمہ خیریت سے ہو گا
³ اگر کسی زمین میں دفن ہونیوالی چیز پر پڑھی جائے یا خزانہ پر پڑھی جائے تو وہ محفوظ ہو گا ۔
³ مصباح کفعمی سے منقول ہے کہ صاحب بخار پر پڑھی جائے تو اس کو آرام ہو گا ۔
³
اگر اس کو نماز عشاء کے بعد لکھ کر اپنے پاس رکھے اور حاکم کے پاس جائے تو امان میں ہو گا۔
اگر اس کو نماز عشاء کے بعد لکھ کر اپنے پاس رکھے اور حاکم کے پاس جائے تو امان میں ہو گا۔
رکوع نمبر 28 ۔ والعصر۔ ان آیات مجیدہ میں پروردگار عالم نے اسلام کے منشور کو نہایت مختصر اور جامع انداز سے چار نکات میں بند کر کے رکھ دیا جن کی تفاصیل کے لئے ضخیم کتابیں درکار ہوتی ہیں گویا خدا وند کریم نے حلفیہ بیان جاری کر کے فرمایا کہ ہر انسان اگر اپنے جذبات کو اپنا پیشو بنا کر زندگی کے کٹھن منازل کو عبور کرنا چاہیے تو یقیناً وہ خسارے سے بچ نہیں سکتا سوائے ان لوگوں کو جو منشور اسلامی کے بیان کردہ چار نکات کو اپنی زندگی کا دستور العمل قرار دیدیں ۔ (1) عقائد کے لحاظ سے مومن ہونا یعنی توحید و عدل و نبوت و امامت و قیامت پر عقیدہ کا مضبوط کر لیا جس کی تفصیل ہم نے اپنی کتاب “اسلامی سیاست” میں مبرین اور مدلل طریق سے بیان کی ہے (2) اعمال صالحہ کا بجا لانا اور ان کے تین شعبے میں وہ اعمال جو حق اللہ شمار ہوتے ہیں دوسرے وہ اعمال جن کا تعلق انسان کے اپنے نفس سے ہے اور تیرے وہ اعمال جن کا تعلق حقوق
العباد سے ہے اور حقوق العباد کا دائرہ بہت وسیع ہے حق والدین حق زوجہ حق اولاد حق ہمسایہ حق سلطان حق رعایا حق غلام حق حیوانات وغیرہ پس ان تمام حقوق میں خدا کی جانب سے متعینہ حدود کی پاسداری کرنا انسانیت کا بہت بلند مقام ہے (3) ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرنا اگرچہ اعمال صالحہ کے ضمن میں یہ آ جاتا ہے لیکن تمام حقوق واجبہ میں اس کو اہمیت حاصل ہے اس لئے اس کو الگ ذکر کیا گیا ہے (4) ایک دوسرے کو مصائب و آلام کے مقامات پر تلقین صبر کرنا یہ بھی اعمال صالحہ کے ضمن میں آ سکتا ہے لیکن اہمیت کے پیش نظر اس کو بھی الگ ذکر کیا گیا ہے اور تیسرے اور چوتھے نکتے کو امر بالعروف اور نہیں عن المنکر سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ منشور اسلامی کے ان چار نکات پر جس طرح کربلا والوں نے عمل کیا وہ اپنی مثال آپ ہے اس لئے اگر کہا جائے کہ اس سورہ کے مضمون کے تاویلی مصداق مجاہدین کربالا میں تو باکل بجا ہے قیامت تک کے انسانوں کے لئے ان کا اسوہ حسنہ اوج انسانیت تک پہنچنےے کا بہترین ذریعہ ہے اسی یلئے ان کی یاد کو تازہ کرنا اور ان کی یاد منان انسانیت کا اہم فریضہ ہے ۔
العباد سے ہے اور حقوق العباد کا دائرہ بہت وسیع ہے حق والدین حق زوجہ حق اولاد حق ہمسایہ حق سلطان حق رعایا حق غلام حق حیوانات وغیرہ پس ان تمام حقوق میں خدا کی جانب سے متعینہ حدود کی پاسداری کرنا انسانیت کا بہت بلند مقام ہے (3) ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرنا اگرچہ اعمال صالحہ کے ضمن میں یہ آ جاتا ہے لیکن تمام حقوق واجبہ میں اس کو اہمیت حاصل ہے اس لئے اس کو الگ ذکر کیا گیا ہے (4) ایک دوسرے کو مصائب و آلام کے مقامات پر تلقین صبر کرنا یہ بھی اعمال صالحہ کے ضمن میں آ سکتا ہے لیکن اہمیت کے پیش نظر اس کو بھی الگ ذکر کیا گیا ہے اور تیسرے اور چوتھے نکتے کو امر بالعروف اور نہیں عن المنکر سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ منشور اسلامی کے ان چار نکات پر جس طرح کربلا والوں نے عمل کیا وہ اپنی مثال آپ ہے اس لئے اگر کہا جائے کہ اس سورہ کے مضمون کے تاویلی مصداق مجاہدین کربالا میں تو باکل بجا ہے قیامت تک کے انسانوں کے لئے ان کا اسوہ حسنہ اوج انسانیت تک پہنچنےے کا بہترین ذریعہ ہے اسی یلئے ان کی یاد کو تازہ کرنا اور ان کی یاد منان انسانیت کا اہم فریضہ ہے ۔
Normal
0
false
false
false
EN-US
X-NONE
AR-SA
/* Style Definitions */
table.MsoNormalTable
{mso-style-name:”Table Normal”;
mso-tstyle-rowband-size:0;
mso-tstyle-colband-size:0;
mso-style-noshow:yes;
mso-style-priority:99;
mso-style-parent:””;
mso-padding-alt:0in 5.4pt 0in 5.4pt;
mso-para-margin:0in;
mso-para-margin-bottom:.0001pt;
mso-pagination:widow-orphan;
font-size:10.0pt;
font-family:”Times New Roman”,”serif”;}

Leave a Reply