surah al kawthar read online sura al kawthar pdf al kawthar sharif arabic english urdu
سورة الكوثر (108) — al-Kauthar–Abundance–الْکُوْثَرِ–
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ
الرَّحِيمِ(1)
الرَّحِيمِ(1)
إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ
الْكَوْثَرَ (2) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (3) إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ
الْأَبْتَرُ (4)
الْكَوْثَرَ (2) فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ (3) إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ
الْأَبْتَرُ (4)
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے (شروع کر تا ہوں )
ہم نے تجھے کوثر عطا کیا (2) پس اپنے رب کے لئے نماز پڑ اور قربانی کر
(3) تحقیق تیرا دشمن دم برید ہے (4)
(3) تحقیق تیرا دشمن دم برید ہے (4)
سورہ الکوثر
o یہ سورہ مکیہ ہے اوربسم اللہ کے علاوہ اس کی آیات تین ہیں
o حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام نے فرمایا جو شخص فرائض اور فوافل میں یہ سورہ پڑھے اسے کوثرنصیب ہو گا
o حدیث نبوی میں ہے جوشخص سورہ کوثر کی تلاوت کرے اس کو نہر جنت سے سیراب کیا جائے گا اور قیامت تک عیدکے موقعہ پر قربان ہونے والے جانوروں کی تعداد سے دس گنا اس کو اجر نصیب ہو گا۔
o جو شخص شب جعہ ہونے سےپہلے ایک سو مرتبہ سورہ کوثر کو پڑھے وہ خواب میں حضرت رسالتمابؐ کی زیارت کرے گا
o مصباح کفعمی سے منقولہے اگر جانور کے پیٹ میں درد ہو تو اس سورہ کو اس کے دہانے کان میں تین مرتبہ پڑھےاور بائیں کان میں بھی تین مرتبہ پڑھے پس اس جانور کے پہلو پر لات مارے تو وہ اٹھ کھڑا ہو گا (باذن اللہ)
رکوع نمبر33۔ کوثر کا معنی ۔ انا اعطینک الکوثر۔ کوثر کے معنی میں اس جگہ
اختلاف ہے اس کا وزن ہے فوعل اور کثرت سے مشتق ہے اور اس کا معنی خیر کثیر
ہے لیکن اس جگہ وہ کونسی خبر کثیر ہے جو مراد لی گئی ہے (1) بعض نے کہا ہے
کہ جنت کی نہر کا نام کوثر ہے چنانچہ اس سورہ کے نزول کے بعد لوگوں نے دریافت کیا اور حضورؐ نے بتایا کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے جس کا پانی دودھ سے سفید تر ہے اور اس کے کناروں پر یاقوت اور موتیوں کے کمرے ہیں اور اس کے شان نزول میں مروی ہے کہ حضور کا فرزند عبدا للہ نامی جو جانب خدیجہ کے بطن اطہر سے تھا فوت ہو گیا تو لوگ آپ کو ابتر کے نام سے پکارتے تھے کیونکہ بے اولاد کو وہ ابتر کہا کرتے تھے پس جب یہ سورہ نازل ہوا تو آپ نے فرمایا کہ خداوند کریم نے مجھے بیٹے کے بدلے میں نہر جنت کوثر عطا فرمائی۔
اختلاف ہے اس کا وزن ہے فوعل اور کثرت سے مشتق ہے اور اس کا معنی خیر کثیر
ہے لیکن اس جگہ وہ کونسی خبر کثیر ہے جو مراد لی گئی ہے (1) بعض نے کہا ہے
کہ جنت کی نہر کا نام کوثر ہے چنانچہ اس سورہ کے نزول کے بعد لوگوں نے دریافت کیا اور حضورؐ نے بتایا کہ کوثر جنت میں ایک نہر ہے جس کا پانی دودھ سے سفید تر ہے اور اس کے کناروں پر یاقوت اور موتیوں کے کمرے ہیں اور اس کے شان نزول میں مروی ہے کہ حضور کا فرزند عبدا للہ نامی جو جانب خدیجہ کے بطن اطہر سے تھا فوت ہو گیا تو لوگ آپ کو ابتر کے نام سے پکارتے تھے کیونکہ بے اولاد کو وہ ابتر کہا کرتے تھے پس جب یہ سورہ نازل ہوا تو آپ نے فرمایا کہ خداوند کریم نے مجھے بیٹے کے بدلے میں نہر جنت کوثر عطا فرمائی۔
انس سے مروی ہے کہ ایک دن حضورؐ نشریف فرماتھے اور صحابہ آُ پ کے ارد گرد جمع تھے کہ آپ کو اونگھ سی آئی جب آنکھ کُھلی تو مسکرا دیئے اور فرمایا ابھی میرے اوپر ایک سورہنازل ہوا ہے پس آپ نے فرمایا جنت میں ایک نہر ہے جس کے کنارے پر آسمانی ستاروں کی تعداد میں پیالے رکھے ہوئے ہیں اور میری امت کے لوگ وہاں میرے پاس وارد ہوں گے جب ان لوگوں میں سے بعض لوگوں کو دھکیل کر دور کیا جائے گا تو میں کہوں گ اے پروردگاریہ لوگ میرے امتی ہیں تو جواب ملے گا تجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے تیرے بعد کیاکیا بدعتیں کی ہیں رواہ مسلم فی الصحیح ۔
تفسیر برہان میں ہے کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے حضور سے کوثر کا مطلب دریافت کیا توآپ نے فرمایا کہ کوثر ایک جنت کی نہر ہے جو خدا نے مجھے عطا فرمائی ہے حضرت علیؑ نے اس کی مزید تشریح طلب کی تو آپ نے فرمایا کہ یہ نہر زیر عرش جاری ہے اس کا پانی دودھ سے سفید تر شہد سے شیریں تر اور مکھن سے ملائم تر ہو گا اس میں زبر جد یاقوت اور مرجان کے سنگریزے ہوں گے اس کے کناروں کا گھاس زعفران ہو گا اور اس کی مٹی کستوری ہو گی اس کے بعد آپ نے حضرت امیر علیہ السلام کے شانوں پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہ نہر میرے اور تیرے اور تیرے دوستوں کے لئے ہو گی ایک روایت میں ہے کہ اس کی گہرائی ستر ہزار فرسخ کے برابر ہو گی ایک روایت میں حضورؐ نے فرمایا میری اور میرے اہلبیت کی منازل کوثر کے کنارے پر ہوں گی جو یاقوت و جواہر سے تعمیر شدہ ہوں گے۔
عبداللہ ابن عباس سے مروی ہے نبی کریمؐ نے فرمایا خداوند کریم نے مجھے پانچ چیزیں عطا فرمائی ہیں اور علیؑ کو بھی پانچ چیزیں عطا کی ہیں (1) مجھے اللہ نے جوامع الکلم عطا
فرمائے اور علی کا جوامع العلم عطا کیا (2) مجھے اللہ نے نبوت دی علی کو وصی بنایا
(3) مجھے اللہ نے کوثر دیا علی کو سلسبیل عطا کیا (4) مجھے وحی عطا کی علی کو
اہلام دیا (5) مجھے آسمانوں کی سیر کرائی اور علؑی کےئے آسمانوں اور حجابوں کے
دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ مجھے دیکھتے رہے اور میں اسے دیکھتا رہا اس کے بعد
حضورؐ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے میں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے اے ابن عباس سب سے پہلے جو اللہ نے مجھ سے کلام کیا تو فرمایا اے محمؐد نیچے نگاہ کرو جب میں نے
نیچے دیکھا تو حضات پھٹ چکے تھے اور آسمانوں کے دروازے کھل چکے تھے اور علیؑ کو
میں دیکھا تو وہ سر اٹھا کر میرے طرف دیکھ رہے تھے پس میں نے علؑی سے باتیں بھی
کیں۔ابن عباس سے دریافت کیا کہ اللہ نے کیا کلام فرمایا تو حضورؐ نے جواب دیااللہ نے فرمایا اے محمدؐ میں علیؑ کو تیرا وصی وزیر اور خلیفہ مقرر کیا ہے اس کو بتا دیان حالانکہ وہ ابھی سن رہا ہے پس میں نے علی سے اسی وقت کہہ دیا جب کہ میں بارگاہ ربوبیت میں تھا اور علیؑ نے اسی وقت جواب دیا کہ میں یہ عہدہ قبول کر لیا اور اطاعت کر لی پس اسی وقت اللہ نے ملائکہ کو حکم دیا کہ علی پر سلام کرو چنانچہ تمام ملائکہ نے علیؑ کو
فرمائے اور علی کا جوامع العلم عطا کیا (2) مجھے اللہ نے نبوت دی علی کو وصی بنایا
(3) مجھے اللہ نے کوثر دیا علی کو سلسبیل عطا کیا (4) مجھے وحی عطا کی علی کو
اہلام دیا (5) مجھے آسمانوں کی سیر کرائی اور علؑی کےئے آسمانوں اور حجابوں کے
دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ مجھے دیکھتے رہے اور میں اسے دیکھتا رہا اس کے بعد
حضورؐ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے میں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے اے ابن عباس سب سے پہلے جو اللہ نے مجھ سے کلام کیا تو فرمایا اے محمؐد نیچے نگاہ کرو جب میں نے
نیچے دیکھا تو حضات پھٹ چکے تھے اور آسمانوں کے دروازے کھل چکے تھے اور علیؑ کو
میں دیکھا تو وہ سر اٹھا کر میرے طرف دیکھ رہے تھے پس میں نے علؑی سے باتیں بھی
کیں۔ابن عباس سے دریافت کیا کہ اللہ نے کیا کلام فرمایا تو حضورؐ نے جواب دیااللہ نے فرمایا اے محمدؐ میں علیؑ کو تیرا وصی وزیر اور خلیفہ مقرر کیا ہے اس کو بتا دیان حالانکہ وہ ابھی سن رہا ہے پس میں نے علی سے اسی وقت کہہ دیا جب کہ میں بارگاہ ربوبیت میں تھا اور علیؑ نے اسی وقت جواب دیا کہ میں یہ عہدہ قبول کر لیا اور اطاعت کر لی پس اسی وقت اللہ نے ملائکہ کو حکم دیا کہ علی پر سلام کرو چنانچہ تمام ملائکہ نے علیؑ کو
سلام کیا اور علؑ نے سب کے سلام کا جواب دیا اور میں نے دیکھا کہ ملائکہ ایک
دوسرے کو بھی یہ خوشخبری سنا رہے تھے اس کے بعد جو میں ملائکہ کے پاس سے گزرا تو تمام نے مجھے علیؑ کے ولی عہد کی مبارک باد دی اور کہنے لگے کہ ہمیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو برحق نبی بنایا تمام لائکہ علیؑ کی خلاف سے خوشنود ہوئے ہیں ہیں اور میں دیکھا کہ حاملین عرش کی گردنیں زمین کی طرف جھک گئی تھیں تو جبرئیل نے کہا اس سے پہلے باقی تمام ملائکہ نے خوشی خوشی علیؑ کے چہرہ کی زیارت کر لی تھی ۔ حاملین عرش کو اب اجازت ملی ہے پس وہ اب علیؑ کے چہرہ کی زیارت کرنے کےلئے گردنیں جھکائے ہوئے ہیں آُ نے فاتے ہیں جب میں زمین پر اترا تو میں علیؑ کو قصہ سنا رہا تھا اور وہ مجھے معراج کی سرگزشت سنا رہے تھے پس میں جان گیا کہ میں نے جہاں جہاں قدم رکھا ہے علیؑ وہاں وہاں دیکھتے رہے کیونکہ ان کے لئے حجابات اٹھالئے گئے تھے۔ ابن عباس نے عرض کی کہ آپ مجھے کوئی وصیت فرمائیں تو آپ نے فرمایا میں تجھے علی کی محبت کی وصیت کرتا ہوں اور مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھے برحق نبی بنایا ہے خدا کسی عبد کی نیکی قبول نہیں کرے گا جب تک اس کے دامن میں علیؑ کی ولا نہ ہو گی پس اگر کسی کے پاس علیؑ کی ولا ہو گی تو عمل قبول ہو گا وہرنہ کوئی علم قابل قبول نہ ہو گا اور داخل جہنم ہو گا اور مجھے اس ذات کی قسم جن مجھے نبی بنایا ہے جن لوگوں نے خدا کےلئے اولاد تجویز کی ہے دوزخ کی آگ ان سے بھی زیادہ علیؑ کے دشمنوں کو مقام غضب قرار دے گی ۔ اے ابن عباس یہ ہو نہیں سکتا لیکن اگر بفرض محال ملائکہ اور انبیاء کے دلوں میں بھی علیؑ کے حق میں بغض پیدا ہو جائے تو وہ بھی دوزخ میں جائیں گے ابن عباس کہا ہے میں نے عرض کی کیا کوئی شخص علیؑ سے بغض بھی رکھتا ہے آپ نے فرمایا ہاں وہ میری امت کے بعض لوگ جن کا درحقیقت اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔ وہ علیؑ سے بغض رکھیں گے اور ان کے بغض کی نشانی یہ ہے کہ گھٹیا قسم کے لوگوں کو علیؑ سے غض رکھیں گے اور ان کے بغض کی نشانی یہ ہے کہ گھٹیا قسم کے لوگوں کو علیؑ پر فضیلت دیں گے اور مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھے برحق نبی بنایا ہے کہ اللہ نے مجھ سے بہتر کوئی نبی نہیں پیدا کیا اور علؑی سے بہتر کوئی وصی نہیں بنایا پس ابن عباس کہتا ہے کہ میں نے رسولؐ اللہ کے فرمان پر پورا عمل کیا۔ جب بوقت وفات میں حضورؐ کے پاس پہنچا تو آُ پ نے فرمایا اے ابن عباس علی کے مخالف بن کر رہنا اور اس کا مدد گار نہ بننا میں عرض کی حضورؐ ! آپ لوگوں کو یہ حکم کیوں نہیں دیتے تو آپ رو دئیے اور بہت دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا اگر تو اللہ کی رضا چاہتا ہے تو علی کے طریقہ کو نہ چھوڑنا پس ادھر کو رٗخ کرو جدھر کا رخ علی کرے اور اسی کو اپنا امام مانو پس اس کے دشمن کو دشمن سمجھو اور اس کے دوست کو دوست سمجھو ایک شخص نے امام محمد باقر علیہ السلام سے جوامع الکلم کا معنی دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اس سے قرآن مجید مراد ہے ۔
دوسرے کو بھی یہ خوشخبری سنا رہے تھے اس کے بعد جو میں ملائکہ کے پاس سے گزرا تو تمام نے مجھے علیؑ کے ولی عہد کی مبارک باد دی اور کہنے لگے کہ ہمیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو برحق نبی بنایا تمام لائکہ علیؑ کی خلاف سے خوشنود ہوئے ہیں ہیں اور میں دیکھا کہ حاملین عرش کی گردنیں زمین کی طرف جھک گئی تھیں تو جبرئیل نے کہا اس سے پہلے باقی تمام ملائکہ نے خوشی خوشی علیؑ کے چہرہ کی زیارت کر لی تھی ۔ حاملین عرش کو اب اجازت ملی ہے پس وہ اب علیؑ کے چہرہ کی زیارت کرنے کےلئے گردنیں جھکائے ہوئے ہیں آُ نے فاتے ہیں جب میں زمین پر اترا تو میں علیؑ کو قصہ سنا رہا تھا اور وہ مجھے معراج کی سرگزشت سنا رہے تھے پس میں جان گیا کہ میں نے جہاں جہاں قدم رکھا ہے علیؑ وہاں وہاں دیکھتے رہے کیونکہ ان کے لئے حجابات اٹھالئے گئے تھے۔ ابن عباس نے عرض کی کہ آپ مجھے کوئی وصیت فرمائیں تو آپ نے فرمایا میں تجھے علی کی محبت کی وصیت کرتا ہوں اور مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھے برحق نبی بنایا ہے خدا کسی عبد کی نیکی قبول نہیں کرے گا جب تک اس کے دامن میں علیؑ کی ولا نہ ہو گی پس اگر کسی کے پاس علیؑ کی ولا ہو گی تو عمل قبول ہو گا وہرنہ کوئی علم قابل قبول نہ ہو گا اور داخل جہنم ہو گا اور مجھے اس ذات کی قسم جن مجھے نبی بنایا ہے جن لوگوں نے خدا کےلئے اولاد تجویز کی ہے دوزخ کی آگ ان سے بھی زیادہ علیؑ کے دشمنوں کو مقام غضب قرار دے گی ۔ اے ابن عباس یہ ہو نہیں سکتا لیکن اگر بفرض محال ملائکہ اور انبیاء کے دلوں میں بھی علیؑ کے حق میں بغض پیدا ہو جائے تو وہ بھی دوزخ میں جائیں گے ابن عباس کہا ہے میں نے عرض کی کیا کوئی شخص علیؑ سے بغض بھی رکھتا ہے آپ نے فرمایا ہاں وہ میری امت کے بعض لوگ جن کا درحقیقت اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔ وہ علیؑ سے بغض رکھیں گے اور ان کے بغض کی نشانی یہ ہے کہ گھٹیا قسم کے لوگوں کو علیؑ سے غض رکھیں گے اور ان کے بغض کی نشانی یہ ہے کہ گھٹیا قسم کے لوگوں کو علیؑ پر فضیلت دیں گے اور مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھے برحق نبی بنایا ہے کہ اللہ نے مجھ سے بہتر کوئی نبی نہیں پیدا کیا اور علؑی سے بہتر کوئی وصی نہیں بنایا پس ابن عباس کہتا ہے کہ میں نے رسولؐ اللہ کے فرمان پر پورا عمل کیا۔ جب بوقت وفات میں حضورؐ کے پاس پہنچا تو آُ پ نے فرمایا اے ابن عباس علی کے مخالف بن کر رہنا اور اس کا مدد گار نہ بننا میں عرض کی حضورؐ ! آپ لوگوں کو یہ حکم کیوں نہیں دیتے تو آپ رو دئیے اور بہت دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا اگر تو اللہ کی رضا چاہتا ہے تو علی کے طریقہ کو نہ چھوڑنا پس ادھر کو رٗخ کرو جدھر کا رخ علی کرے اور اسی کو اپنا امام مانو پس اس کے دشمن کو دشمن سمجھو اور اس کے دوست کو دوست سمجھو ایک شخص نے امام محمد باقر علیہ السلام سے جوامع الکلم کا معنی دریافت کیا تو آپ نے فرمایا اس سے قرآن مجید مراد ہے ۔
تفسیر صافی
میں خصال سے مروی ہے حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نبی کریم کے
ہمراہ اپنی عترت سمیت حوض کوثر پر ہوں گا پس جس کو ہماری ضرور ہو وہ ہماری ہدایت پر عمل کرے ہمیں شفاعت کا حق حاصل ہے پس تم لوگ حوض کوثر پر ہماری ملاقات کی کوشش کرو کیونکہ ہم اپنے دشمنوں کو وہاں سے دور بھگائیں گے اور اپنے دوستوں کو سیراب کریں گے تو جس نے وہاں سے ایک گھونٹ پی لیا کبھی پیاسا نہ ہو گا (الخبر) نہر جنت کے علاوہ کوثر کے اور معانی بھی کیے گئے ہیں (2) خیر کیر ، شفاعت ، علم ، عمل کتاب ، شرف دارین ، ذریت طیبہ ، کثرت اتباع، بہر کیف ہر معنی کے اعتبار سے آپ کوثر کے مالک ہیں کثر ذریت کا یہ عالم ہے کہ مشرق سے ؐغرب تک اور شمال سے جونب تک جس قدر انسانی آبادی موجود ہے ذریت پیغمبر کم و بیش ہر جگہ آباد ہے ۔
فصل لربک ۔ اس نماز سے نراد نماز عید ہے جس کے بعد نحر کیا جاتا ہے اور
میں خصال سے مروی ہے حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نبی کریم کے
ہمراہ اپنی عترت سمیت حوض کوثر پر ہوں گا پس جس کو ہماری ضرور ہو وہ ہماری ہدایت پر عمل کرے ہمیں شفاعت کا حق حاصل ہے پس تم لوگ حوض کوثر پر ہماری ملاقات کی کوشش کرو کیونکہ ہم اپنے دشمنوں کو وہاں سے دور بھگائیں گے اور اپنے دوستوں کو سیراب کریں گے تو جس نے وہاں سے ایک گھونٹ پی لیا کبھی پیاسا نہ ہو گا (الخبر) نہر جنت کے علاوہ کوثر کے اور معانی بھی کیے گئے ہیں (2) خیر کیر ، شفاعت ، علم ، عمل کتاب ، شرف دارین ، ذریت طیبہ ، کثرت اتباع، بہر کیف ہر معنی کے اعتبار سے آپ کوثر کے مالک ہیں کثر ذریت کا یہ عالم ہے کہ مشرق سے ؐغرب تک اور شمال سے جونب تک جس قدر انسانی آبادی موجود ہے ذریت پیغمبر کم و بیش ہر جگہ آباد ہے ۔
فصل لربک ۔ اس نماز سے نراد نماز عید ہے جس کے بعد نحر کیا جاتا ہے اور
بعضوں نے کہا ہے کہ اس نماز سے مراد نماز صبح ہے جس کے بعد قربانی کی جاسکتی ہےاور روایات اہلبیت میں ہے کہ تحر سے مراد نماز کے وقت تکبیر کےلئے سینہ تک ہاتھوں کا بلند کرنا یعنی رفع یدین کا حکم دیا گیا ہے ۔
ھو الابتر – یعنی تیرادشمن خیر سے محروم ہے اور بعض نے کہا ہے اس سے مراد عاص بن وائل ہے رسولؐ اللہ کوابتر کہتا تھا وہ حضورؐ کو اس لئے ابتر کہتا تھا کہ یہ اکیلا ہے جب یہ مر جائے گا تو بعد میں اس کے دین کو چلانے والا کوئی نہ ہو گا پس اس کا دین ختم ہو جائے گا خداوند کریم نے اس کے اس جملہ کی تردید فرمائی ہے کہ اے رسول تجھے خدا نے اولاد کثیر امت کثیرہ عطا کی ہے پس تیرا دین اور تیری نسل قیامت تک باقی رہے گی اور تیرا دشمن ابتر رہے گا چنانچہ کہتے ہیں کہ وہ اولاد سے محروم رہا اور اولاد اس کی طرف منسوب کی گئی وہ درحقیقت کسی اور وہ درحقیقت کسی اور کا نطفہ تھی ۔
قرآن مجید کا یہ چھوٹا سا سورہ تصدیق نبوت اور صداقت اسلام کا بہت بڑا شاہکار ہے (1) اس میں وہ خبر ہے جو دشمنوں کے دلوں میں پہناں تھا پس ان کو سمجھنے کا موقع مل گیا اگر اللہ کا کلام نہ ہوتا تو اس کو ہماری یہ مخفی باتیں کیسی معلوم ہوتیں (2) اس میں
پیشین گئی ہے کثرت اولاد اور کثرت اشیاع کی چنانچہ دین اسلام کا چہاردانگ عالم میں
پھیلاؤ حضورؐ کی تصدیق ہے اور قرآن کی صداقت کی اٹل دلیل ہے (3) تمام فصحا ء عرب اور بلغاء زمانہ پورے قرآن کا بجائے خود اسی ایک سورہ کا مقابلہ نہ کر سکے چنانچہ عکاظ کے میلے کے موقعہ پر کسی مسلمان نے یہ سورہ ایک نمایاں مقام پر چسپاں کر دیا تو فصیح ترین خطیب وقت کو اس کے نیچے لکھنا پڑا ما ھذاکلام البشر یعنی یہ انسان کا کا کلام نہیں ہے اور یہ اسلام کی حقانیت کی ناقابل تردید برہان ہے (4) اس سورہ کی آخری آیت میں دشمنوں کے انقطاع کی پیشین گوئی ہے جو حرف بہ حرف سچی ثابت ہوئی (5) اس سورہ مجیدہ کے حرف تھوڑے لفظ جچے تلے اور مطالب وسعہ کر ساتھ فواصل کی رعایت حسن تالیف اور صنعت تقابل نے عربوں کو محمد مصطفٰی کے قدموں میں جھکنے پر مجبور کر دیا اور ان کو یہ کہنا پڑا کہ قرآن کلام اللہ ہے اور محمد رسولؐ اللہ ہے
پیشین گئی ہے کثرت اولاد اور کثرت اشیاع کی چنانچہ دین اسلام کا چہاردانگ عالم میں
پھیلاؤ حضورؐ کی تصدیق ہے اور قرآن کی صداقت کی اٹل دلیل ہے (3) تمام فصحا ء عرب اور بلغاء زمانہ پورے قرآن کا بجائے خود اسی ایک سورہ کا مقابلہ نہ کر سکے چنانچہ عکاظ کے میلے کے موقعہ پر کسی مسلمان نے یہ سورہ ایک نمایاں مقام پر چسپاں کر دیا تو فصیح ترین خطیب وقت کو اس کے نیچے لکھنا پڑا ما ھذاکلام البشر یعنی یہ انسان کا کا کلام نہیں ہے اور یہ اسلام کی حقانیت کی ناقابل تردید برہان ہے (4) اس سورہ کی آخری آیت میں دشمنوں کے انقطاع کی پیشین گوئی ہے جو حرف بہ حرف سچی ثابت ہوئی (5) اس سورہ مجیدہ کے حرف تھوڑے لفظ جچے تلے اور مطالب وسعہ کر ساتھ فواصل کی رعایت حسن تالیف اور صنعت تقابل نے عربوں کو محمد مصطفٰی کے قدموں میں جھکنے پر مجبور کر دیا اور ان کو یہ کہنا پڑا کہ قرآن کلام اللہ ہے اور محمد رسولؐ اللہ ہے


Leave a Reply