surah masad read online sura al masad pdf al masad sharif arabic english urdu
سورہ تبت — سورة المسد
اللَّھَبِ — Al-Masad — The Palm Fibre —
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ(1)
تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ (2) مَا أَغْنَى عَنْهُ
مَالُهُ وَمَا كَسَبَ (3) سَيَصْلَى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ (4) وَامْرَأَتُهُ
حَمَّالَةَ الْحَطَبِ (5) فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ (6)
مَالُهُ وَمَا كَسَبَ (3) سَيَصْلَى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ (4) وَامْرَأَتُهُ
حَمَّالَةَ الْحَطَبِ (5) فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ (6)
اللہ کے نام سے جو رحمان و رحیم ہے (شروع کرتا ہوں ) (1)
ہلاک ہوں ہاتھ ابو لہب کے اور وہ بھی ہلاک ہو (2) نہیں فائدہ
دیا اس کو اس کے مال نے اور جو اس نے کمایا (3) عنقریب جلے گا جہنم میں جو بھڑکنے
والی ہے (4) اور اس کی عورت بھی جو لکڑیاں اٹھانے والی ہے (5) اس کی گرد میں کھجور
کا رسہ ہوگا (6)
دیا اس کو اس کے مال نے اور جو اس نے کمایا (3) عنقریب جلے گا جہنم میں جو بھڑکنے
والی ہے (4) اور اس کی عورت بھی جو لکڑیاں اٹھانے والی ہے (5) اس کی گرد میں کھجور
کا رسہ ہوگا (6)
سورہ تبت / سورة المسد
- یہ سورہ مکیہ ہے اس کو سورہ لب اور سوہ مسد بھی کہاجاتا ہے
- بسم اللہ الرحمن الرحیم کے علاوہ اس کی آیات پانچ ہیں
- حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جب تو سورہ لہب کو پڑھو تو ابو لہب پر بد دعا کیا کرو کہ رسول اللہؐ اور قرآن مجید کو جھٹلانے والا تھا
- خواص القرآن سے منقول ہے کہ پیٹ کی تکلیف پر پڑھنے سے پیٹ کو آرام ہو تا ہے اور اگر وتے وقت اس سورہ کو پڑھا جائے تو امن کا باعث ہے
رکوع نمبر٣٦، تبت یدا ، تب اور تباب کا
معنی ہے خسران ہے جو ہلاکت تک پہنچا دےا ور یہاں اس سے مراد ہلاکت لی گئی ہے
یا تو یہ انشاء اور بد دعا کے معنی میں ہے اور یا یہ خبر ہے یعنی اس کے ہاتھ بھی
تباہ اور خود بھی تباہ ہوا اور جہنم کا اینھن بنا اور ہاتھوں کی تخصیص اس لئے ہے
کہ عمل ہاتھوں سے کیا جاتا ہے ابو لہب کا نام عبدالعزی تھا چونکہ گورا اور خوبصورت
تھا اور اس کے رخسارے آگ کے شعلوں کی طرح سرخ تھے اس لئے اس کی کنیت ابو لہب ہو
گیئ حضور کا چچا تھا حضرت عبدالمطلب کا بیٹا تھا لیکن پغمبر کا سخت ترین دشمن تھا
جب حضورؐ نے اس کو کفر پر دوزخ کی سزا سنائی تو اس نے کہا میں اپنا مال و الولاد
فدیہ دے دوں تو اس اس کی اللہ نے رد فرمائی کہ اس کو مال اور اولاد کچھ بھی فائدہ
نہ دیں گے اور ماکسب سے مراد اولاد ہے
معنی ہے خسران ہے جو ہلاکت تک پہنچا دےا ور یہاں اس سے مراد ہلاکت لی گئی ہے
یا تو یہ انشاء اور بد دعا کے معنی میں ہے اور یا یہ خبر ہے یعنی اس کے ہاتھ بھی
تباہ اور خود بھی تباہ ہوا اور جہنم کا اینھن بنا اور ہاتھوں کی تخصیص اس لئے ہے
کہ عمل ہاتھوں سے کیا جاتا ہے ابو لہب کا نام عبدالعزی تھا چونکہ گورا اور خوبصورت
تھا اور اس کے رخسارے آگ کے شعلوں کی طرح سرخ تھے اس لئے اس کی کنیت ابو لہب ہو
گیئ حضور کا چچا تھا حضرت عبدالمطلب کا بیٹا تھا لیکن پغمبر کا سخت ترین دشمن تھا
جب حضورؐ نے اس کو کفر پر دوزخ کی سزا سنائی تو اس نے کہا میں اپنا مال و الولاد
فدیہ دے دوں تو اس اس کی اللہ نے رد فرمائی کہ اس کو مال اور اولاد کچھ بھی فائدہ
نہ دیں گے اور ماکسب سے مراد اولاد ہے
وامراتہ ، ابولہب کی عورت کا نام امین جمیل تھا حرب کی
بیٹی اور ابو سفیان کی بہت تھی اس کا دستور تھا کہ حضورؐ کے راستہ میں خار دار
لکڑیاں ڈال دیتی تھی تا کہ آُپ کو اذیت پہنچے اور ممکن ہے حمالتہ الحطب چغلوخواری
سے کنایہ کیا گیا ہو چنانچہ عرب کنایہ میں کہتے تھے کہ فلاں شخص فلاں کے لئے آگ
بھڑکانے کے لئے لکڑیاں اٹھائے پھرتا ہے یعنی چغلخواری کرتا ہے سیصلی کے فاعل پر اس
کا عطف ہے یعنی ابو لہب اور اس کی بیوی دونوں! دونو! دوزخ میں جلیں گے اور حمالۃ
الحطب مخصوص بالذم ہے اور اعنی یا دم اس کا فعل محدوف ہے اور اسی لئے حمالۃ منصوب
ہے کیونکہ اس کا یہ مفعول ہے
بیٹی اور ابو سفیان کی بہت تھی اس کا دستور تھا کہ حضورؐ کے راستہ میں خار دار
لکڑیاں ڈال دیتی تھی تا کہ آُپ کو اذیت پہنچے اور ممکن ہے حمالتہ الحطب چغلوخواری
سے کنایہ کیا گیا ہو چنانچہ عرب کنایہ میں کہتے تھے کہ فلاں شخص فلاں کے لئے آگ
بھڑکانے کے لئے لکڑیاں اٹھائے پھرتا ہے یعنی چغلخواری کرتا ہے سیصلی کے فاعل پر اس
کا عطف ہے یعنی ابو لہب اور اس کی بیوی دونوں! دونو! دوزخ میں جلیں گے اور حمالۃ
الحطب مخصوص بالذم ہے اور اعنی یا دم اس کا فعل محدوف ہے اور اسی لئے حمالۃ منصوب
ہے کیونکہ اس کا یہ مفعول ہے
مسد ، لیف خرما کے رسے کو کہتے ہیں اور یہ لفظ صرف اس
کی توہین و تذلیل کے لئے استعمال کیا گیا ہے یعنی قیامت کے دن سونے اور
چاندی کے ہاروں کے بجائے اس کی گرد میں رسے ہوں گے اور مروی ہے کہ جہنم کے
خاردار آتشی زنجیر اس کی گرد میں ہوں گے اور مروی ہے کہ یہ ام جمیل بد زبان عورت
تھی جب یہ سورۃ نازل ہوئی تو بڑبڑائی ہوئی مسجد حرام میں آئی اس وقت حضرت ابو بکر
بھی آپ کے پاس بیٹھے تھے ابو بکر نے عرض کی کہ حضور! وہ ام جمیل ادھر آرہی ہے
ہوسکتا ہے ک ہ آپ کی شان میں گسٹاخانہ لب ولجہ استعمال کرے آپ نے فرمایا یہ مجھے
نہ دیکھے گی چنانچہ آپ نے قرآن مجید کی کچھ آیات پڑھین اور اس کی آنکھوں سے محفوظ ہو
گئے جس طرح دوسرے مقام پر ارشاد قدرت ہے کہ جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور
کافروں کے درمیان حجاب پیدا کر دیتے ہیں پس وہ آکر ابوبکر کو کہنے لگی کہ تمہارے
رسولؐ نے میری ہجو کی ہے ابو بکر نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے پس وہ چی گئی اور یہ
لفظ کہہ گئی کہ تمام لوگ جانتے ہیں کہ میں قریش کے ایک بڑۓ سردار کی بیٹی ہوں
(میرا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے )
کی توہین و تذلیل کے لئے استعمال کیا گیا ہے یعنی قیامت کے دن سونے اور
چاندی کے ہاروں کے بجائے اس کی گرد میں رسے ہوں گے اور مروی ہے کہ جہنم کے
خاردار آتشی زنجیر اس کی گرد میں ہوں گے اور مروی ہے کہ یہ ام جمیل بد زبان عورت
تھی جب یہ سورۃ نازل ہوئی تو بڑبڑائی ہوئی مسجد حرام میں آئی اس وقت حضرت ابو بکر
بھی آپ کے پاس بیٹھے تھے ابو بکر نے عرض کی کہ حضور! وہ ام جمیل ادھر آرہی ہے
ہوسکتا ہے ک ہ آپ کی شان میں گسٹاخانہ لب ولجہ استعمال کرے آپ نے فرمایا یہ مجھے
نہ دیکھے گی چنانچہ آپ نے قرآن مجید کی کچھ آیات پڑھین اور اس کی آنکھوں سے محفوظ ہو
گئے جس طرح دوسرے مقام پر ارشاد قدرت ہے کہ جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور
کافروں کے درمیان حجاب پیدا کر دیتے ہیں پس وہ آکر ابوبکر کو کہنے لگی کہ تمہارے
رسولؐ نے میری ہجو کی ہے ابو بکر نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے پس وہ چی گئی اور یہ
لفظ کہہ گئی کہ تمام لوگ جانتے ہیں کہ میں قریش کے ایک بڑۓ سردار کی بیٹی ہوں
(میرا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے )


Leave a Reply