ابوالحتوف جعفی لعنہٗ اللہ
زخمی کیاتھا۔
’’مقاتل الطالبین‘‘ سے منقول ہے کہ اس کی ماں خوصابنتِ حفص قبیلہ بکر بن وائل سے تھی اور بنا بر روایت مناقب اس کو بشربن خوط نے شہید کیا۔
زیار ت ناحیہ ورجیبہ میںقاسط اور کردوس دو نو ں بھائیوں پر سلام ہے ان کے باپ کا نام زہیر تھا، بعض روایات میں ان کے تیسرے بھائی کا نام مقسط وارد ہے کہ یہ تینوںحضرت امیر علیہ السلام کے ہمرکاب جنگ صفین میں موجود تھے اور خوب جہاد کیا تھا اور آپ ؑ کے…
مورّخین نے شہدائے کربلا کی فہرست میں کا نام بھی ذکر کیا ہے۔۔۔ تفصیل معلوم نہیں۔
اس کا ذکر شہادت عبداللہ بن عمیر کلبی کے بیان میں آئے گا۔
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے اور جب امام حسین ؑ نے اس کو چھوڑ کر چلے جانے کی اجازت دی تھی تو اس نے جواب میں عرض کیا تھا کہ مجھے جنگلی درندے نوچ کر کھا جائیں اگر میں آپ ؑ کو چھوڑ کر چلا جائوں۔۔۔۔۔ ایسا ہرگز نہ کروں…
بعض کتب معتبرہ میں اس بزرگوار کو شہدائے کربلا میں شمار کیا گیا ہے اور اس کا شہدائے کربلا میں ہونا اس سے بھی ثابت ہے کہ حضرت امام حسین ؑ نے آخری استغاثہ میں جب اپنے اصحاب کو نام لے لے کر پکارا تو ان میں ابراہیم بن حصین کانام بھی آتا ہے۔ ’’نفس…