افعال کا حسن و قبح عقلی ہے
1۔حضرت امام رضا علیہ السلام سے بروایت عیون الاخبار مروی ہے :۔[عربی] :۔ترجمعہ جو شخص یہ کہے کہ خدا خود ہمارے افعال کا فاعل ہے اور پھر ہمیں عذاب بھی دے گا تو وہ جبر کا قائل ہے اور جو یہ گمان کرے کہ تحقیق اللہ نے خلق و رزق کا معاملہ اپنے نمائندوں :محمد…
اشعری عقیدہ میں حسن اور قبح کے نہ ماننے کی دو وجہیں ہیں ایک وجہ سے افعال خالق یعنی وہ کہتے ہیں کہ تمام کائنات میں ہر طرح کے تصرفات کا اللہ کو اختیار کامل حاصل ہے پس وہ جو کچھ کرے حسن ہے اور بمطابق عدل ہے اس کی ملکیت میں اس تصرف پر…
عصر حاضر کے ایک مفکر پروفیسر کی تحقیق اس مقام پر پیش کرنا کافی سمجھتا ہوں جس سے اتفاقا پیدائش مخلوق کےقائلین کاناطقہ بند ہو جائیگا نیز بے حس مادہ اور لاشعور طبیعت کو خالق ماننے والوں کو بھی سوچنے اورصحیح فیصلہ کرنے کااچھا خاصا موقع مل سکے گا عنصرجدید سائنس کا دور ہے اگرچہ…
مصر کی گورنری سونپنے کے بعد مالک اشتر کو بطوردستور العمل کے ایک عہد نامہ میں ارشاد فرمایا اللہ سے تقوی اختیار کرو اس کی اطاعت کو ہر امر پر ترجیح دو او ران فرائض و سنن کی اتباع کرو جو اس نے اپنی کتاب میں ذکر فرمائے کیونکہ اس کے بغیر سعادت ناممکن ہے…
اگر ایک خدا کے علاوہ دوسرا بھی اس کا شریک کار ہوتا تو قطع نظر اس سے کہ یہ نظام فساد کا شکار ہو کر موت کی آغوش میں جا پہنچتا ہم کہتے ہیں دو خدا ماننے کی صورت میں تین شقیں سامنے آتی ہیں ۔ 1. یا تو ہردواپنے اپنے مقام پرکامل اور اس…
چونکہ حضرت سیدالانبیا جنا ب محمد مصطفی ﷺ تما م انبیا و مرسلین سےافضل واشرف ہیں او ران کادائرہ نبو ت سب سے وسیع ترار ہمہ گیر ہے اور کبھی منشا پروردگار کے خلاف ان سےکوئی قول یا فعل سرزد نہیں ہوتا تھا اس لئے ان کے قول و فعل کو پروردگار نےاپنی طر ف…