تمہید — تفسیر انوار النجف
دل میںتڑپ بھی پیدا ہوئی تھی لیکن عرصہ محدود کیلئے اور وہ صرف اس لئے کہ نہ حالات
مقتضی تھے اور نہ اسباب موافق تھے، نہ وقت میں گنجائش تھی اور نہ ہمت میں اس قدر
یارا تھا، بس دل ہی دل میں ہاں اور نہ کی کشمکش تھوڑے وقت تک رہ کر منصرم ہو جاتی
تھی، نجف اشرف میں گو اتنا وقت گزارنے کا موقعہ نہ مل سکا جتنا طبیعت چاہتی تھی،
تاہم اپنے فرائض کا احساس تھوڑے ہی عرصہ میں پھر از سرِ نو پیدا ہو کر تیز سے تیز
تر ہوتا گیا حتی کہ باوجود اسباب ظاہریہ کی عدم مساعدت کے اضمحلال پذیر نہ ہو سکا۔
تدریسی فرائض سنبھالنے کے علاوہ تصنیف و تالیف کی طرف بھی اقدام کروں تاکہ مِدَادُ
الْعُلَمَائِ أفْضَلُ مِنْ دِمَائِ الشُّہَدَائِ کا مقدس جملہ صرف کانوں تک ہی
محدود نہ رہ جائے بلکہ عملی اقدام کر کے امیدوارانِ اَجر کے زمرہ میں خواہ آخری
نمبر پر ہی سہی شمار ہو جائوں، متعدد گوشوں میں خیال دوڑایا کہ کس چیز پر قلم
اٹھائوں؟ پھر کافی ذہنی جوڑ توڑ کے بعد اسی نظریہ پر پہنچ کر آخر کار طبیعت نے قرار
پکڑا کہ قرآن مجید ہی کی خدمت پر لمحاتِ فرصت کو صرف کروں کیونکہ یہ اساسِ دین
بھی ہے اور اصل علوم بھی، لہذا باوجود انتہائی ہمت شکن حالات کے اسی نظریہ کو عملی
جامہ پہنانے کا عزم مصمم کر کے تفسیر قرآن کے لکھنے پر کمر باندھی۔
زمانِ قیام میں ہی بعض عنوانات قائم کرکے بطورِ مقدمۂ تفسیر لکھنا شروع کر دیا،
تاکہ شہِ نجف، بابِ مدینۂ علوم نبویہ کی بارگاہِ فیض بار سے اس خیرِ کثیر کی
ابتدأ و انتہأ تک پہنچنے کی بشارت کی حامل ہو، صرف فال نیک قرار دے کر وہاں
ابتدا ٔکر لی اور اس کے بعد فوراً مراجعت وطن مألوف (پاکستان) کا مرحلہ پیش
آگیا۔
پیدا ہو گیا، چنانچہ خواب میں مولائے کونین، ابوالحسنین، بابُ العلوم النبویہ حضرت
امیرالمومنین علیہ السلام کی بارگاہِ اقدس سے اشارہ پا کر اپنے گھر میں ہی مدرسہ ٔ
دینیہ کی تشکیل کا ارادہ کیا، جس کا نام اپنے حسن عقیدت کی بنأ پر’’جامعۂ علمیہ
باب النجف‘‘ تجویز کیا، جس کی پہلی تحریک ۴ شوال ۱۳۷۴ھ
بروز جمعہ ہوئی اوراسی ماہ کے آخر میں سنگِ بنیاد رکھا گیا اور ساتھ ساتھ طلبائے
کرام کے پہنچ جانے پر تدریس کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔
حالات کو سنوارنے کی کوشش میں صرف ہوگیا، جب قدرے فرصت ملی تو ارادۂ سابقہ کی
تکمیل کا خیال پیدا ہوا، لیکن مدرسہ کی تعمیری منازل ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں لہذا
صرف دو چار ورق مسوَّدہ کے طور پر لکھنے کے بعد دفتر کتابت کو بند کر دیا۔
ہو چکے تھے لہذا جہاں کہیں مجالس کے سلسلہ میں سفر کا اتفاق ہوتا تو اربابِ محبت
اور صاحبانِ عقیدت ملاقات ہوتے ہی رسمی احوال پرسی کے بعد تفسیر کے متعلق دریافت فرماتے
تھے کہ لکھی ہے یا نہیں؟ کتنی لکھی جا چکی ہے اور کس قدر باقی ہے؟ اس قسم کے
سوالات سننے کے بعد خجالت زدہ ہو کر جواب نہ نفی میں دے سکتا تھا نہ اثبات میں،
سوائے اِدھر اُدھر کی باتوں میں ٹال دینے کے کوئی چارہ کار نہیں تھا۔
گیا اور یہ مدرسہ کا تیسرا سال تھا، بحمداللہ اسی سال مدرسہ کا تعمیری کام بہت کچھ
ختم ہوگیا اور طبیعت میںکافی سکون و اطمینان آگیا لہذا دیرینہ خواہش کی تکمیل کا
موقعہ پاکر تفسیر کو لکھنا شروع کیا۔
اخراجات میں میرا بوجھ ہلکا کر کے مجھے اس قسم کے مشاغل سے سبکدوش کردیا، خصوصاً
’’ملک میوہ رک صاحب‘‘ جنہوں نے ’’جامع مسجد باب النجف‘‘ کی تعمیر میں بہت بڑا حصہ
لیا اور عالی جناب ’’سید غلام حسین شاہ صاحب‘‘ فرزند سید علی شاہ صاحب مرحوم ساکن
سیدعلیاں جنہوں نے تعمیر مسجد باب النجف کے لئے گر انقدر عطیہ کی پیش کش فرمائی۔
شاہ یوسف گردیز ملتان جنہوں نے جامعہ علمیہ باب النجف کے وسیع احاطہ میں اپنے نام
سے ایک علیحدہ مدرسہ بنوایا جو پانچ کمروں پر مشتمل ہے جس کا نام ’’احاطہ یوسفیہ‘‘
تجویر ہوا، اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً مدرسہ کی دیگر امداد بھی فرماتے رہے۔
کی باقی تعمیر اور کمروں کی تکمیل میں معتدبہ حصہ لیا ان کے علاوہ ’’سید غلام رضا
شاہ صاحب‘‘ ساکن نو شہرہ (سابق ذیلدار) فوت ہو چکے ہیں خداوند کریم انہیں اپنے
جوارِ رحمت میں جگہ دے، ’’سیدا عبد الغفار شاہ صاحب‘‘ ساکن ممو والی، ’’سید امیر
حسنین شاہ صاحب‘‘ ساکن مٹھہ پور، ’’ملک غلام محمد‘‘ ساکن وانڈھی شاہ داود، ’’زوار
کالو خان‘‘ ساکن جبار والا جو کہ دنیا سے کوچ کر چکے ہیں اور ’’ملک فدا حسین جاڑا
مرحوم‘‘ جنرل سیکرٹری مدرسہ ہذا جنہوں نے عمارتی لکڑی سے مدرسہ ہذا کی بہت اعانت
فرمائی، اس سلسلہ میں ’’ملک غلام حیدر جاڑا مرحوم‘‘ لائق صد تحسین ہیں جن کی مساعی
جمیلہ سے مدرسہ کے کمروں کی تعمیر میں حائل رکاوٹیں دور ہوئیں، خدا وندکریم ان کے
اور باقی سب معاونین کے عطیہ جات کو شرفِ قبولیت مرحمت فرما کر ان کو اَجر جزیل
عطا فرمائے (آمین)
ناشکری بلکہ انتہائی نا قدر شناسی ہو گی اگر اس مقام پر اپنے قبلہ و کعبہ والد
ماجد الحاج ’’ملک اللہ بخش جاڑا‘‘ غَفَرَاللّٰہُ لَـہٗ وَاَسْکَنَہٗ فِیْ فَرَادِیْسِ
جَنَانِہٖ( جن کی وفات ۱۵، ۱۴
رمضان المبارک۱۳۷۸ھ کی درمیانی شب بمطابق ۳۰
اگست ۱۹۷۷ شب ۱۰ بجے
ہوئی اور علی الصبح ۱۰ بجے بستی جاڑا کے
قبرستان میں سپرد خاک کر دیئے گئے) کو فراموش کر دوں، جن کے وجودِ مسعود کی برکات
اور با اخلاص دعائوں کے اثرا ت کے علاوہ جانی و مالی تعاون اور غیر معمولی عملی
جدوجہد سے مدرسہ کا خیالی خاکہ ناقابل انکارِ حقیقت بن کر رہا، ضعیفی اور پیری کے
باوجود تعمیر مدرسہ میں انہوں نے وہ نمایاں خدمات انجام دیں جنہوں نے نوجوانوں کو
محوِ حیرت کر دیا اور یہ سب کچھ اُن کے خلوص اور قوتِ ایمان کا نتیجہ تھا، خداوند
متعال انہیں جوارِ آئمہ معصومین ؑمیں جگہ مرحمت فرمائے (آمین)
ہوں جن کے عملی تعاون سے مدرسہ علمیہ باب النجف جاڑا نے جامۂ حقیقت پہنا، سچ ہے
کہ اگر طلبائے کرام ہمت ہار جاتے تو مدرسہ کا تعمیری کام جو دِنوں میں پورا ہوا وہ
سالوں میں پورا ہوتا، خداوند کریم ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور اس کے صلہ میں
ان کے دامن کو دولت ِ علم و عمل سے بھر دے اور انہیں زیادہ سے زیادہ خدمت ِ دین کا
شوق عطا فرمائے (آمین)
وہ عیاں را چہ بیاں کی مصداق ہیں، جہاں اس مدرسہ نے بڑے بڑے خطیب و واعظ پیدا کئے
وہاں لائق صد تحسین مدرّ ِس بھی اس مدرسہ سے فارغ التحصیل ہوئے، جن طلاب کرام نے
مدرسہ ہذا میں علوم آلِ محمد سے فیض یاب ہونے کا شرف پایا اُنکی فہرست کچھ یوں
ہے:
خان
اسماعیل خان
بھائی)
خان
خان
چیچہ وطنی
تلمذ تہہ کیا:
اسماعیل خان
تک شریک رہے ان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:
الانبیا ٔ چکوال
المصطفیٰ لاہور
کارلووالہ تھل ضلع بھکر
ضلع بھکر
اسماعیل خان
کاٹھ گڑھ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان
ڈیرہ اسماعیل خان
ڈیرہ اسماعیل خان
اسماعیل خان
محمد کو تحصیل علوم دینیہ میں بلند حوصلگی عطا فرمائے اور مجھے ان کی صحیح خدمت
کرنے کی زیادہ سے زیادہ توفیق مرحمت فرمائے (آمین)
مدرسہ باب النجف کے تعمیری کام میں شامل تھے، لیکن ان کے علاوہ جنہوں نے مختلف
مدارس دینیہ میں علامہ کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کیا اُن میں سے بعض یہ ہیں:
سرگودھا
لعل عیسن ضلع لیہ
صاحب لاہور
نے قبلہ علامہ کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کیا اور علوم دینی کے سلسلہ میں اُن سے فیض
یاب ہوتے رہے ہیں، خداوند متعال کے حضور دُعا ہے کہ وہ تمام طلاب کرام کو علم کی
لازوال نعمت سے مالا مال فرمائے(آمین)
الثانیہ ۱۳۷۶ ھ کو ہوئی اور اس کی تکمیل ۱۲ربیع
الاول ۱۳۷۷ھ کو ہوئی اور شمال و جنوب میں (مسجد کی ہر دو
طرف) جو اٹھارہ کمرے ( مع مدرسہ احاطہ یوسفیہ) ہیں انکی ابتدائے تعمیر ۲۰جمادی
الثانیہ ۱۳۷۷ھ کو اور تکمیل حسب سابق ۱۲ربیع
الاول ۱۳۷۸ھ کو ہوئی، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ
الْعَالَمِیْن۔
م سے کسی حد تک سبکدوش ہو جانے کے بعد تصنیف کی طرف اقدام کی جرأت کی، بہت کوشش
کی کہ کوئی نائب مدرّ ِس ایسا ملے جو میری طرف سے طالب علمی حیثیت کو اپناتے ہوئے
امور تدریسیہ کی خاطر خواہ انجام دہی کے علاوہ تصنیف و تالیف میں میرا ہاتھ بٹائے،
لیکن ز مانہ کی ناساز گار ہوا نے ہم سے وہ رُخ بھی پھیر دئیے جن سے ہمیں بہت زیادہ
توقع تھی!! جب پرانے اور با اخلاص اور عقیدت مند شاگردوں کے کندھوں پر سہارا لینے
کی کوشش کی تو سوائے مایوسی کے اور کچھ حاصل نہ ہوا، جن پر سو فیصد وفاداری کا ظن
و گمان تھا وہ سو فیصد ی خود غرض، مطلب پرست اور بہانہ جو ُ نکلے!؟
ایسی توقعات وابستہ نہ کی ہوتیں، خیر جو ہونا تھا وہ ہو ہی گیا، جب اِدھر اُدھر
ہاتھ پائوں مار چکنے کے بعد معاون کے میسر نہ آنے کا کسی حد تک یقین ہوا، امیدیں
ختم ہوئیں اور اِس طرف ہماری تمدید میں جس قدر اضافہ ہوتا گیا اُس طرف احباب کے
اصرار میں بجائے تخفیف کے تشدید کا اتنا ہی اضافہ ہوتا گیا، پس اللہ تعالیٰ پر
بھروسہ کر کے تدریسی اوقات سے تھوڑا تھوڑا وقت بچا کر یہ کام شروع کر دیا، چنانچہ ۱۰
جمادی الثانیہ ۱۳۷۸ھ بمطابق ۲۲ دسمبر
۱۹۵۸ء بمطابق ۸ پوہ ۲۰۱۵
بکرمی شب ِسوموار مقدمہ تفسیر کو لکھنا شروع کیا، چونکہ اس کی پہل بارگاہِ مقدس شہ
ِ نجف میں ہوئی تھی لہذا تفسیر کے لئے
انوار النجف فی اسرار المصحف ‘‘
کیا، اور بحمد اللہ ۲۱ ربیع الثانی ۱۳۹۶ھ
بمطابق ۲۲ اپریل ۱۹۷۶ء
بروز جمعرات ۴ بجے عصر تفسیر کا کام مکمل ہوا۔
میں مطمعِ نظر یہ ہے کہ احادیث و اقوالِ آئمہ اہل بیت ؑ کی روشنی میں مطالب
ِقرآنیہ اور مقاصد ِ ربانیہ کی ترجمانی کی جائے، باوجودیکہ اپنی علمی بے بضاعتی
اور ذہنی کم مائیگی کے پیش نظر اس مقصد عظیم کو نبھانے کیلئے کمزوری کو بہت زیادہ
محسوس کیا، لیکن قرآنی خدمات سے موجودہ دَور کے ذمہ دار حضرات کی غیر معمولی
تساہل شعاری بلکہ انتہائی پہلو تہی کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ ڈر بھی محسوس ہوا کہ
کہیں اس خیر کثیر کو ترک کر کے زیر بار نہ ہو جائوں۔
خدمات انجام دینے والوں کے زمرہ میں محشور فرمائے، اور قرآن کو نظر انداز کرنے
والے یا مطالب ِقرآنیہ میں اپنی رائے کو دخل دینے والے گروہوں میں محشور نہ
فرمائے اور مجھے اس کار خیر کی انجام دہی میں تائید غیبی سے سرفراز فرما کر توفیقِ
اِتمام مرحمت فرمائے (آمین)
الْعَظِیْمِ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ
مِمَّن یَذْکُرُ فَتَنْفَعَہٗ الذِّکْریٰ
سال ۴ ماہ کی مسلسل محنت و کاوش کے بعد یہ تفسیر پایۂ تکمیل کو پہنچی اور
اس مقدمہ کے ساتھ تفسیر ہٰذا کل چودہ جلدوں میں مکمل ہوئی ہے۔

Mashallah Good work