حضرت آدم کا جنت سے خروج
حضرت آدم کا جنت سے خروج
يٰآدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلا مِنْهَا رَغَداً حَيْثُ شِئْتُمَا
وَلَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنْ الظّٰلِمِيْنَ (35) فَأَزَلَّهُمَا
الشَّيْطٰنُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيْهِ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا
بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ وَّ لَكُمْ فِی الأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ
إِلٰى حِيْنٍ (36) فَتَلَقَّى
آدَمُ مِنْ رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ
الرَّحِيْمُ(37)قُلْنَا
اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنِّیْ هُدًى فَمَنْ
تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ(38) وَ الَّذِيْنَ
كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيَاتِنَآ
أُوْلٰٓئِكَ أَصْحٰبُ النَّارِ هُمْ فِيْهَا خَالِدُوْنَ (39)ع
اے آدم رہ تو اورتیری بیوی جنت میں اورکھاوٴ اس سے کھلم کھلا جہاں چاہو تم اورنہ
قریب جاوٴ اس درخت کے ورنہ ہو جاوٴ گے نقصان پانے والوں میں سے (35) پس پھسلایا ان کو شیطان نے اس درخت کی وجہ سے پس ان کو
نکال دیا اس سے کہ جس میں وہ تھے اورہم نے کہا اترو درحالیکہ بعض تمہارا بعض کا
دشمن ہو گا اورتمہارا زمین میں ٹھکانا اورنفع ہے ایک وقت تک کا(36) پس حاصل کئے آدم ؑ نے اپنے ربّ سے چند کلمے پس (ان
کی بدولت) توبہ قبول کی اللہ نے اس سے وہ بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے(37) ہم نے کہا اترو اس سے سب پس جب آئے گی میری طرف سے
ہدایت تمہارے پاس تو جو پیروی کرے گا میری ہدایت کی پس نہ خوف ہو گا ان پر اور نہ
وہ غمگین ہوں گے(38) اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیات کو وہ
ساکنانِ جہنم ہوں گے درحالانکہ وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے(39)
حضرت آدم کا جنت سے خروج
جعفر صادق سے متعدد روایات میں ہے کہ جس جنت میں حضرت آدم کو ٹھہرایا گیاتھا وہ جنتِ آخرت نہیں
تھی بلکہ جنتِ دنیا تھی جس میں شمس وقمر طلوع کرتے تھے اگر جنتِ آخرت ہوتی تو اس
سے قطعاًنہ نکلتے-
الخلد تھی اورچونکہ جزاوثواب کے طور پر حضرت آدم کی اس میں رہائش نہ تھی اسلئے اس کا اس سے نکل جانا موجب حرج نہیں جہاں جنت کی
یہ تعریف ہے کہ اس میں رہنے والے ہمیشہ اس میں رہیں گے اورکبھی نکالے نہ جائیں گے
وہ اس صورت میں ہے کہ جب جنت میں دخول بطور جزاوثواب کے ہو-
جنتُ الخلد تھی اورنہ جنتِ زمین بلکہ مخصوص آدم کی ابتدائی رہائش کے لئے آسمان پر علیحدہ بنادی گئی تھی-
آدم کا اس جنت سے نکالاجانا ان کی عصمت
کے منافی ہے یا نہیں؟ تو چونکہ ادلّہ قطعیہ سے تمام انبیاکی عصمت ثابت ہے اورفرقہ
حقہ شیعہ اثنا عشریہ کے عقیدہ کی بنا پر تو انبیامیں قبل بعثت وبعد بعثت کا بھی
فرق نہیں اورنہ صغیرہ وکبیرہ کا فرق ہے، بلکہ انبیاسے کسی وقت بھی کوئی گناہ صادر
ہوہی نہیں سکتا کیونکہ گناہ کا صادر ہو نا قبیح ہے اورانبیاارتکابِ قبیح سے پاک
ہیں کیونکہ جو بھی کسی وقت خود قبیح کا مرتکب ہو کسی دوسرے کو قبیح سے روک نہیں
سکتا اورانبیاکا عہدہ چونکہ تبلیغ امر بالمعروف اورنہی عن المنکرہے لہذا ناممکن
ہے کہ وہ خود تارک ِمعروف یا فاعل منکر ہوں-
مستقل کتابیں لکھی ہیں جن میں عقلی ونقلی دلائل سے اس مطلب کو ثابت کیا گیا ہے ہم
نے بھی چند ایک دلیلیں تفسیر ہذا کی جلد اوّل یعنی مقدمہ میں ذکرکردی ہیں پس جب
ثابت ہے کہ انبیاسے گناہ سرزد ہوہی نہیں سکتا تو پھر قرآن مجید میں اس قسم کے
الفاظ جو ظاہری صورت میں منافی عصمت انبیا ہوں ان کی تاویل ضروری
ہے البتہ جو لوگ انبیا کی عصمت کے
قائل نہیں وہ ان ظاہری الفاظ کو اپنی دلیل بناتے
ہیں اَمَّا
الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغٌ
فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہ ہم نے کتاب ”لمعة الانوار فی عقائد الابرار“ میں
اس مطلب کو نہایت واضح کیاہے-
میں حضرت آدم کو رہائش دی گئی تھی وہ حضرت آدم کے لئے نہ
دارالجزاتھی اورنہ دارالعمل تھی، دارالجزاتو اس لئے نہ تھی کہ جزاعمل کے بعد ہوتی
ہے اوردارالعمل بھی نہیں تھی جس کی کئی وجہیں ہیں:
حضرت آدم کو پیدازمین کی خلافت کےلئے کیا تھا
جب کہ فرشتوں سے خطاب ہو ا اِنِّیْ
جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَہ[1] اس سے صاف معلوم
ہے کہ ان کا دارالعمل زمین کو قرار دیا
گیا تھا اورایک وقتی مصلحت کے ماتحت ان کو اس جنت میں رکھا گیا خواہ وہ آسمان پر
ہو یا جنتُ الخلد ہو یا جنتُ الارض –
کہ تو زمین میں اس کو خلیفہ بناتا ہے جو زمین میں فساد و خونریزی کرے گا؟ اس سے
بھی صاف معلوم ہوتاہے کہ حضرت آدم کےلئے دارالعمل تھی-
ا کہ تم یہاں سے چلے جاوٴ اورتمہارا ٹھکانا ورہائش گاہ زمین ہے اوراس کے بعد
فرمایا کہ جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو جو اتباع کرلیں گے ان پر خوف وحزن
نہ ہوگا اورجو کفر کریں گے اورمیری آیات کو جھٹلائیں گے وہ اصحابِ نار ہوں
گے اوراس میں ہمیشہ رہیں گے-
پکاررہی ہے کہ حضرت آدم کے وہاں چلے جانے کے بعد اطاعت عصیاں کا قصہ شروع ہوا اوردارالعمل میں وہ اُس جنت سے نکل کر پہنچے اورجزاوسزا ابدی کا اپنے اعمال سے
استحقاق یہاں پہنچے کے بعد شروع ہوا-
حضرت آدم کی جنت دارالعمل میں پہنچنے سے پہلے
ایک عارضی قیام گا ہ تھی اورحضرت آدم کو وہاں ٹھہرانے کا مقصد شاید یہ ہو
کہ ابتدا ئی طور پر تنہا اُجاڑوویرانے میں بمقتضائے بشریت حضرت آدم کو وحشت نہ
ہو لہذاکچھ وقت اس سرسبزوشاداب پُر کیف ماحول میں پہلے بسر کرلیں، جانا تو بہر حال
تھا ہی لیکن انسانی تمدن کے نشیب وفرازذاتِ ربُّ العزت نے اپنے حکیمانہ انداز سے
تدریجی قرار دئیے ہیں اورانسان کی فطرت کو ایسے سانچے میں اس نے ڈھالاہے کہ
یکبارگی دفعی انقلاب انسان پر بار خاطر ہوا کرتا ہے اورانسان کی شرعی زندگی کا
ارتقابھی اس حکیم مطلق نے تدریجی مقرر کیا ہے، مثال کے طور پر جب جناب رسالتمآبﷺ مبعوث برسالت ہوئے تو جملہ احکام شرعیہ کی بجاآوری اسی وقت سے واجب تھی لیکن
پہلے اعلان میں حضورﷺ نے صرف اسی ایک کلمہ کو معیار ِنجات بیان فرمایا کہ قُوْلُوْا
لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ تُفْلِحُوْا یعنی کلمہ تو حید زبان پر
جاری کر لو بس اسی میں تمہاری نجات ہے، پھر کچھ وقت کے بعد نمازکے فریضہ کا حکم
سنایا، پھر ایک عرصہ کے بعد روزہ کا وجوب بیان فرمایا وعلی ھٰذالقیاس
احکام اسلامیہ بیان فرمائے جن کے آخر میں کلمہ ولایت کا اقرار تھا جس کا حجةُ
الوداع سے واپسی پر مقام غدیر میں اعلان فرمایابلکہ جناب رسالتمآبﷺ کو چالیس برس تک خاموش رکھنا بھی اسی مصلحت کے ماتحت تھا ورنہ انسان کی غرضِ
خلقت پہلے دن سے عبادت کرنا ہے جیسا کہ فرماتا ہے مَاخَلَقْتُ
الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنَ [2] یعنی جنوں اورانسانوں کو میں نے پیداہی عبادت کےلئے کیا ہے
اورتمام انبیاکی بعثت کا اپنے اپنے مقام پر یہی حال ہے، تو اس مقام پر بھی بعید
نہیں بلکہ عین مقتضائے عقل ہے کہ انسانِ اوّل یعنی حضرت آدم کو چونکہ جملہ خواص ولوازم بشریت عطافرماکر خلق فرمایا تھا لہذا اُن کی دینی و
دنیاوی زندگی کو اسی فطرت کے ماتحت قرار دےکر تدریجی اقدام کا سلسلہ جاری فرمایا
ہو تا کہ ایک طرف تو وہ گل وگلزار کی تازہ بہار میں کچھ وقت گزارکر اگلی منزل کے لئے
تیار ہو جائیں جو ان کےلئے دارالعمل اوردارالخلافت تھی اوردوسری طرف شیطان کی دشمنی کے انداز سے بھی
عملی طور پر تجربہ کرلیں کہ وہ بدبخت کس کس حیلے وبہانے سے انسان کو اپنے دام
تزویر میں پھنسانے کی کو شش کرتا ہے اورنعمات جنت سے محروم کرنے کےلئے انسان کو
کیسے سبز باغ دکھا کر بھٹکانے کے درپے ہوتا ہے؟ تاکہ دارالعمل میں پہنچ کر اپنی
اولاد کو اس کی مکاریو ں اورفریب کا ریوں سے پوری طرح آگاہ کرکے جادہ شریعت پر
گامز ن کریں اور صراطِ مستقیم پر سیدھا چلنے کی ان کو تلقین کریں اورشیطان چونکہ
ظاہری جسم بن کر تو گمراہ کرنے کےلئے آتا نہیں بلکہ اس نے بنی آدم کے رگ وریشہ میں
گھسنے اوروساوس میں مبتلاکرنے کی طاقت پہلے سے طلب کرلی تھی اوراب دارالعمل زمین
پر پہنچ کر حضرت آدم جب اپنی
اولاد کو مقام تبلیغ میں فرماتے کہ خبر دار شیطان کی مکاریوں اورحیلہ سازیوں سے بچ
کر رہنا وہ میرااورتمہارا دشمن ہے کہیں تم کو صراطِ حق سے بھٹکانہ دے اورتم کو راہ
ِجنت سے ہٹا نہ دے، تو اب اس کو دریافت
کرنے کا حق تھاکہ وہ کیسے بھٹکاتا ہے؟ یا یہ کہ وہ دشمنی کیسے کرتا ہے؟ حضرت آدم دشمنی کی وضاحت تو فرماتے کہ اس نے میرا سجدہ نہیں کیا تھا
لیکن بھٹکانا کیسے سمجھائے؟ صرف یہی فرماتے ہیں کہ وہ وسوسے ڈالتا ہے پھر اولاد
پوچھتی اس کے وسوسے کیسے ہوا کرتے ہیں؟ یہ تھی انسانی زندگی کی ابتدائی منزل-
اورشیطان کے ہر طرزِ عمل سے پوری طرح آگاہ کرتے، ان کےلئے قطعاً یہ جواب ناکافی تھا
کہ بس وہ وسوسے ڈال کر گمراہ کرتا ہے کیونکہ وہ مدرسہ اسلامیہ کی پہلی جماعت تھی
اوراس مکتبہ شرعیہ میں ان کے سوالات پہلی جماعت کے سوالات کی طرح ہونے چائیے تھے،
خداوند کریم کو علم تھا کہ ابلیس حضرت آدم کے ساتھ شرارتیں کرنے سے باز نہ آئے
گا اوروہ اپنے حسد کی بھڑاس نکالے گا-
دیا گیا تھا وہ صرف اللہ کو معلوم تھی) ایک مخصوص درخت کے قریب جانے سے روک دیا یعنی اس باغ میں جو جی چاہے کھاوٴ
لیکن صرف اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تمہیں خسارہ ہوگا اوروہ خسارہ یہ تھا کہ اس
کے بعد فوراً اس جنت سے نکل کر اپنے دارالعمل یعنی زمین میں رہائش اختیار کرنی ہو
گی اوراس خسارہ کا علم بھی حضرت آدم کو نہیں دیا گیا تھا ظلم کا معنی
خسارہ ہوا کرتا ہے-
حضرت آدم پر میرا داوٴ نہیں چل سکے گا کیونکہ
وہ نبی ہے اوریہ اقرار بھی کر چکا تھا کہ سب کوگمرا ہ کروں گا سوائے مخلصین کے
اورحضرت آدم کے مخلص ہونے کا اس کو پتہ تھا، پس
اس نے یہ موقع غنیمت سمجھا اوراپنے حسد کی بھڑاس نکالنے کےلئے آگے بڑھا، اب یہ معلوم کرنا کہ وہ کس طریقہ سے وہاں تک
پہنچا؟ اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں، بہر کیف پہنچا ضرور، پس حضرت آدم سے یوں خطا
ب کیا کہ خدانے تم کو اس درخت سے نہیں روکامگر اس لئے کہ اس کے استعمال سے تم
فرشتے بن جاوٴ گے، قرآنی الفاظ یہ ہیں مَا
نَھَا کُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَةِ
اِلَّا اَنْ تَکُوْنَا مَلَکَیْن خدانے تمہیں اس درخت سے نہیں روکا مگر اس لئے
کہ تم فرشتے بن جاوٴ گے [3]
استعمال کرکے شاید فوراً محسوس کرلیا کہ میرا یہ طرزِبیان کچاہے اوربے اثر ہے
کیونکہ جس شخص کے سامنے ملائکہ سربسجود رہے ہوں اُس کو ملک)فرشتہ( بننے کا طمع
دینا سراسر بے معنی ہے، یہ تو ایسا ہے جیسا ایک ڈی سی کو کہا جائے کاکہ فلاں کام
کرو تا کہ تحصیلدار بن جاوٴ، شیطان چا لاک وہوشیار تو تھا ہی وہ اپنی غلطی کو
بھانپ کر فوراً آگے بڑھا اورکہا اَوْتَکُوْنَا مِنَ الْخَالِدِیْن
ممکن ہے ”اَوْ“
اعراض کے لئے ہو، یعنی تم کو اس درخت سے اس لئے روکا گیا ہے کہ تم اس کے استعمال
سے یہاں ہمیشہ رہنے والے ہو جاوٴ گے، جب تک تمہاری زندگی ہے اسی باغ وبہار میں
گزار وگے، آوارہ،اُجاڑ وغیرآباد زمین پر تمہیں نہ جانا
پڑے گا، یعنی تمہاری دارالعمل اوردارالخلافت زمین ہی ہو جائے گی-
بیت کی روایات میں ہے ورنہ اگر جنتُ الخلد یا جنت آسمانی ہوتی
جیسا کہ بعض نے کہا ہے تو ابلیس حضرت آدم کو دھوکا دینے کےلئے یہ بات بھی نہ کہتا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ حضرت آدم کو زمین کی
خلافت کےلئے پیدا کیا گیا ہے اورحضرت آدم کو بھی معلوم تھاکہ میں زمین کی خلافت کے لئے نامزد ہوا ہوں تو بھلا ابلیس کے
اس فریب میں و ہ کیسے آسکتے تھے کہ اس درخت کے قریب جانے سے میں جنتُ الخلد یا جنت
آسمانی میں ہمیشہ رہوں گا اورزمین پر نہ جاوٴں گا؟ لیکن اگر وہ جنت رُوئے زمین پر
ہو تو ابلیس کا یہ مکر چل سکتا تھا کہ اس درخت کا اثر یہ ہے کہ جو کھائے گا وہ اس
میں ہمیشہ رہے گا یعنی تازندگی اسی میں بسر کرے گا یا یہ کہ اس پر موت نہ آئے گی
پھر اس مطلب پر ابلیس نے قسمیں کھائیں لیکن حضرت آدم نے ایک نہ مانی اورفرمایا کہ جس چیز سے مجھے خدانے منع فرمایا ہے میں اس کا
قصد نہیں کرتا-
اپنے سابق طریقہ کو کار گر نہ سمجھتے ہوئے دوسرا رویّہ اختیار کرلیا اورکہنے لگا
اے حوا خدانے تمہارے اوپر جس درخت کو حرام فرمایا تھا اب اس
نےتمہارے لئے مباح کردیاہے اب اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں رہی اورتجھے بشارت ہو
کہ اگر حضرت آدم سے پہلے تو نے اس کو کھالیا تو تو اس پر حکمران ہو گی اوروہ
تیرا ماتحت ہوگا، حضرت حوا نبی تو تھی نہیں
اورابلیس نے بھی عورت پر اس کے مزاج کے موافق مکر کا جال ڈالا اوراس درخت کا مباح
ہوجانا بھی بتلایا، پس حضرت حوا نے بڑھ کر تناول
کیا جب اس کے تناول کا اس پر کچھ اثر نہ ہو ا تو حضرت آدم سےآکر کہا کہ واقعی اس درخت کی حرمت
خدانے برطرف کردی ہے دیکھومیں نے تناول کیاہے تو مجھ پرکوئی اثر نہیں ہوا آپ بھی
تناول کرلیں کیونکہ وہ مباح ہو چکا ہے، روایت میں ہے کہ اب اباحت کا پیغام سن کر
حضرت حوا کے کہنے سے حضرت آدم نے تناول کیا اورشیطان اس طریقہ سے
اُن کے پھسلانے میں کامیاب ہوگیا-
زمین )دارالعمل( میں چلے جاوٴ کیونکہ تمہاری رہائش گاہ زمین ہو گی وَ
لَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّوَّمَتَاعٌ
اِلٰی حِیْن تمہارا زمین میں ٹھکانہ اورایک وقت تک نفع اٹھاناہو گا [4]
کا استعمال ہو سکتا ہے ممکن ہے کہ ابلیس بھی اس خطاب میں داخل ہو جیساکہ بعض روایات سے ثابت ہے اوربَعْضُکُمْ
لِبَعْضٍ عَدُوٌّ بھی
اسی بات کا شاہد ہے کیونکہ صیغہ خطاب کا ہے اوراس وقت حضرت آدم وحوا کا ابلیس ہی
دشمن تھا اوریہی بوقت خطاب موجود بھی تھے اوریہ بھی ممکن ہے کہ ضمنی طور پر تمام
اولادِ آدم اس صیغہ میں داخل ہو اورانہی میں سے بعض کی بعض کے ساتھ دشمنی مرادہو
اورفرمایاکہ جاوٴزمین میں، پھر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت یعنی احکام شریعت
پہنچیں گے، پس جو میری ہدایت کی اتباع کریں گے ان پرکوئی خوف وحزن نہ گا اورجو کفر
وتکذیب کریں گے وہ اصحاب نار ہوں گے اوراس میں ہمیشہ رہیں گے-
لیکن چونکہ عارضی طور پر ایک جنت میں رہائش دے کر ابلیس کی دشمنی سے عملی طور
پر متنبہ کرنا تھا لہذا ابلیس کے اس مکر
کو ا ن کے جنت سے نکلنے کا سبب قرار دے دیا-
پر آنا بطورِ سزا نہیں تھا بلکہ یہ مقام تو ان کی پہلے سے رہائش گاہ قرار دی جاچکی
تھی، یہی ان کا دارُالخلافت اوردارُالعمل تھا اوراس کو خسارہ اسلئے کہا گیا کہ:
اس سے شیطان اپنے حربے کے استعمال کرنے میں کامیاب ہوگیا، اب ا س دارالعمل میں
انبیاپر نہ سہی لیکن غیر انبیاپر اپنے داو ٴپیچ کے استعمال کرنے میں اس کی جراٴت بڑھ گئی اوراسے اپنے حیلہ سازیوں میں کامیابی کی کافی
ڈھارس مل گئی-
سے آباد کرنے کی زحمت گوارا کرنی پڑی جو اس آسائش وآرام کے بعد یقینًا تکلیف دہ تھی-
اس سے ظاہر ی طور پر علیحدہ ہو گئے، چنانچہ حضرت آدم کو اس چیز کا بہت افسوس ہو ا جیسا کہ بعض روایات میں ہے-
کی دنیاوی زندگی کے تفصیلی پروگرام کا ایک اجمالی خاکہ تھا اورابلیس کی مکاریوں سے بچنے کےلئے وہاں اس کی تلبیس کا نمونہ ظاہرکیا
گیا اوراس کا نتیجہ اس جنت سے خروج قرار دیا گیا، یعنی یہ قصہ تمام بنی آدم کےلئے
جنت الخلد کی نعمات حاصل کرنے کےلئے وساوسِ شیطانیہ سے اجتناب کرنے کا محرک عظیم ہے اورتازیانہ عبرت بھی ہے،
جس طرح حضرت آدم کی جنت اس دنیا کی تفصیلی زندگی کا
اجمال تھی اسی طرح کل دنیاوی زندگی حیاتِ آخرت کااجمال ہے، یعنی دنیاکے تمام
اُمورِ خیر کی تفصیل جنت الخلد ہے اوردنیا کے تمام آفات ومصائب وشرور کی تفصیل
جہنم ہے، وہ مقام اس آبادی دنیا کی کھیتی تھا کیونکہ اس کا انجام یہی دنیابنی
اوریہ دنیا دارِ آخرت کی کھیتی ہے اوراس کا انجام آخرت ہے خواہ جنت خواہ جہنم-
کا تجربہ ہوا:
سے بھٹکا نے کےلئے ہر ممکن حیلہ وبہانہ تلاش کرتا ہے اورایک نیکی سے ہٹا نے کےلئے
دوسری طرف زیادہ ثواب وخوشنودی خداکا لالچ دِلاتا ہے تاکہ اس میں پھنسالے جیساکہ
حضرت آدم کے سامنے کیا-
کرنےکے لئے عورتوں کے مزاج کے موافق پھندے ڈالتاہے-
دعوت دیتاہے جیسا کہ اس جنت میں صرف ایک درخت سے منع تھی اورباقی سب مباح تھے لیکن
ابلیس نے پھر اسی درخت کے استعمال کے لئے ہی سب فریب کاریاں برتیں-
مراحل میں نقصان دہ ثابت ہوتی ہے جیساکہ حضرت آدم کو سابقہ واقعہ میں پیش آیا کہ انہوں
نے ابلیس کے قول کو ردّکردیا تو جب حضرت حوا پر ابلیس کا
مکر وفریب کا رگر ہوا تو حضرت حوا کے کہنے پر
اوراس )درخت(کے مباح ہونے کی
خبر سن کر حضرت آدم نے بھی تناول فرمایاگویا انسان کے پھسلانے کے لئے ابلیس کے پاس عور ت کے جذبات
کو آلہ کا ر بنانا اس کی کامیابی کا آخری حربہ ہیں-
میں آنے سے پہلے حضرت آدم کا تجرباتی کورس جس کو اجمالاًمقام جنت میں حضرت آدم نے طے کیا اورپھر دارالعمل میں پہنچ کر اس کی تفصیل سے اپنی اولاد کو آگاہ
فرمایا اوریہی طریقہ انسان کی ابتدائی منازل کے لئے جس پر تدریجی ارتقاموقوف تھا
مصلحت خداوندی کے عین موافق تھا-
ہوسکتاہے اورحضرت آدم کا یہ فعل بھی قبل ازنبوت ہونا قرار دیتے ہیں تو اس گزشتہ بیان سے انہی کے قول
کی تائید ہو تی ہے حالانکہ شیعی عقیدہ کی روسے انبیامعصوم ہیں؟
وقت بھی خواہ قبل ازبعثت، خواہ بعد بعثت، خواہ صغیرہ، خواہ کبیرہ، ناممکن ہے لیکن
گناہ وہ ہوتاہے جس کا نتیجہ نعماتِ اُخروی سے محرومی اوردرکاتِ جہنم میں گرفتاری
ہو، بہر حال ایسی خطا جس کا نتیجہ زمین کے ایک حصہ سے منتقل ہوکر دوسرے حصہ میں
جانا ہو اُسے گناہ نہیں کہا جاسکتا بلکہ ترکِ اَولیٰ ہے-
ہیں: حکم مولوی ، حکم ارشادی
خلاف ورزی میں مولاکی کسر شان ہو
نہ ہو، جس طرح کوئی ڈاکٹر ایک تندرست انسان کو مشورہ دےکہ تم فلاں غذا نہ کھایا
کرو ورنہ اس کا انجام تمہارے لئے اچھا نہ ہوگا،پس اس انسان کا اس غذا کو استعمال
کرنا ڈاکٹر کی کسر شان نہیں بلکہ اس کا نفع یانقصان خود اسی شخص کی طرف ہی عائد
ہے-
خداوند کریم نے حضرت آدم کو ارشادکے طور پر فرمایاکہ اس درخت
کے قریب جانے میں تمہیں خسارہ ہوگا اوردرحقیقت اس شجرہ کے قریب جانے یا تناول کرنے
میں نہ حق اللہ کا تلف ہونا لازم آتا تھا اورنہ حق الناس پر ڈاکہ تھا-
کے قریب جانا یا تناول کرنا نہ گنا ہِ صغیر ہ تھا نہ کبیرہ، گویا یہ نہی تنزیہی
تھی تحریمی نہیں تھی، لہذاس کاارتکاب منافی عصمت آدم نہیں تھا اورخداوندکریم نے حضرت آدم کے اس فعل
کو اس مقام جنت سے خروج کا موجب قرار دے دیا تاکہ ایک طرف تو ابلیس کی مکاریوں کا
عملی تجربہ ہو جائے اورساتھ ساتھ تو بہ کی طرف عملی اقدام بھی ہو جائے تاکہ
دارالعمل کی زمین میں پہنچ کر فرائض تبلیغ کو تمام پہلووٴں سے ادا کرسکیں یعنی
اولاد پر شیطان کی حیلہ سازیوں کی وضاحت بھی کریں اوران کوگناہ کے بعد توبہ
کاطریقہ بھی سکھلائیں اوردنیا کے پہلے انسان کے لئے یہ عملی درس ضروری تھا-
نافرمانی اورگناہ ہو تا تو جب انہوں نے توبہ کرلی تھی اورتوبہ منظور بھی
ہوگئی تھی جیساکہ خود ارشاد فرماتاہے فَتَلَقّٰی
آدَمُ مِنْ رَّبِّہِ کَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَیْہِ اِنَّہ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْم پس سیکھ لئے حضرت آدم نے اپنے ربّ سے کلمات پس اللہ نے ان کی بدولت ان کی توبہ
منظور فرمائی کیونکہ وہ بہت توبہ قبول کرنے والامہربان ہے[5]
تھا جب وہ جرم معاف کردیا گیا تو ان کو جنت میں پھر پلٹالیا جاتا، کیونکہ یہ بات
بالکل بے معنی ہے کہ جرم معاف ہو جائے اورسزا باقی رہے، پس توبہ قبول ہو جانے کے
بعد ان کا زمین میں بحال رکھنا اوردوبارہ جنت میں نہ بھیجنا اس امر کی واضح دلیل
ہے کہ حضرت آدم کا زمین عمل پر آنا بطورِ سزا نہیں تھا بلکہ زمین پر اُن کا تشریف لانا اُن کی
ڈیوٹی تھی جس کے لئے وہ خلق ہوئے تھے-
مقام ایک عارضی رہائش گاہ تھی جو ذاتِ احدیت نے اس نووارد مہمان کے لئے مخصوص طور پر تجویز فرمائی تھی
جہاں سے تلبیس ابلیس اورطریقہ توبہ سے عملی طور پر آگاہ کرنا تھا جیسا کہ تدریجی
ارتقاکا تقاضا ہے اورآئمہ اہل بیت
کی روایات میں ہے کہ حضرت آدم کا اس جنت میں قیام کا کل زمانہ چھ یا سات گھنٹے تھا
جیسا کہ تفسیر برہان میں باختلاف منقول ہے-
