سعد بن حنظلہ تمیمی
المہموم و منتہی الآمال‘‘ سے منقول ہے کہ یہ شخص امام حسین ؑ کے لشکر کے
سربرآوردہ افراد میں سے تھا۔۔ روز عاشور مردانہ جہاد کر کے درجہ شہادت پر فائز
ہوا لیکن اس کے مقتولین کی تعداد نہیں بیان کی گئی۔
زیارت رجبیہ میںاس پر سلام وارد ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہدائے کربلا میں سے تھا۔
یہ شخص صحابی رسول تھا، ابن عبد البر نے ذکر کیا ہے کہ جنگ احد و بدر میںبھی شریک ہوا تھا، قبیلہ جہنیہ سے تھا اس قبیلہ کی آبادی مدینہ سے قریب تھی، جب امام حسین ؑ عازم سفر عراق ہوئے تو اس جگہ کے کافی لوگ آپ ؑکے ہمرکاب ہوئے تھے، لیکن منزل زبالہ…
’’ریاض الشہادۃ‘‘ سے منقول ہے کہ یہ امام حسن ؑ کا غلام تھا اور روز عاشور شہید ہوا، بعض مورّخین نے اس کے مقتولین کی تعداد ایک سو تیس (۱۳۰) بیان کی ہے۔
یہ شخص کو فہ کا رہنے والاہے اس کو صحابیت رسول کا شرف بھی حاصل ہے، حضرت امیر ؑ کے خاص شیعوں میں تھا، جنگ جمل وصفین میں حضرت شاہِ ولایت کے ہمرکاب رہا۔۔ اس کی ایک آنکھ جنگ جمل میں دشمن کے تیر سے ختم ہوگئی تھی اوردوسری آنکھ جنگ صفین میں راہ ِخدامیں…
س کا باپ مسعود مشاہیر شیعانِ علی ؑ میں سے تھا اورنہایت بہادرتھا، عبدالرحمن اپنے باپ مسعود کے ہمراہ ساتویں محرم کوزمین کربلامیں پہنچااوربروایت ابن شہرآشوب حملہ اولیٰ میں شہیدہوئے، زیارت ناحیہ مقدسہ میں ان دونوںپرسلام واردہے۔
امام عالی مقام ؑ کئی د فعہ استغاثہ کیا اورمختلف الفاظ سے کیا: ھَلْ مِنْ ناَصِرٍ یَنْصُرُنَا کیاکوئی مددکرنے والاہے جوہماری مددکرے؟ ھَلْ مِنْ مُعِیْنٍ یُعِیْنُنَا کیا کوئی اعانت کرنے والاہے جوہماری اعانت کرے؟ ھَلْ مِنْ مُجِیْرٍ یُجِیْرُنَا کیا کوئی پناہ دینے والاہے جوہم کو پناہ دے؟ ھَلْ مِنْ ذَابٍّ یَذُبُّ عَنْ حَرَمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ …