سہویاتِ نماز | sehwiyat nimaz | learn islamic prayer
میں یاد آجائے تو اگر وہ رکن تھا اور ابھی دوسرے رکن میں داخل نہیں ہوا تو واپس
ہو کر اس رکن کو ادا کرے اور اگر دوسرے رکن میں داخل ہو چکا ہو تو نماز باطل ہو
گی۔۔۔ اور اگر وہ نہ ہواور ابھی اس کے بجالانے کا موقعہ بھی ہے تو اس کو بجا لائے
او اگر موقعہ گزر گیا ہو تو کچھ حرج نہیں اگر زیادتی رکن کی ہے تو نماز باطل اور
اگر رکن نہیں پس اگر عمداً ہے تو نماز باطل اور اگر سہواً ہے تو نماز باطل نہیں ہو
گی اور بعد نماز دو سجدہ سہو ادا کر لینے ہی کافی ہیں۔
تشہد بلا فاصلہ ادا کرنا چاہیے۔۔ یہ پانچ وجوہ سے واجب ہوتا ہے:
بے جا
بے جا
میں کمی یا زیادتی
کی کمی یا زیادتی (بلکہ ہر کمی و زیادتی کیلئے)
اور پانچویں رکعت کے متعلق شک ہونا
کرتا ہوں/کرتی ہوں بوجہ فلاں شک کے وَاجِبْ قُرْبَۃً اِلٰی اللّٰہ ۔۔۔ اللہ اکبر
کہہ کر دو سجدے نماز کی طرح بجا لائے مگر سجدوں میں یہ ذکر پڑھے:
بِاللّٰہِ اَلسَّلامُ عَلَیْکَ
ذات سے (میں نے تمسک کیا) تیرے اوپرسلام ہو
رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکاتُہُ
اور برکتیں ہوں
بیٹھے اور مختصر تشہد پڑھے اور صرف آخری سلام یعنی اَلسَّلامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکاتُہ
کہنا ہی کافی ہے۔
بھی پڑھے جا سکتے ہیں:
بِاللّٰہِ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ
بِاللّٰہِ وَ صَلّٰی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ آلِ مُحَمَّدٍ
