عائذبن مجمع
عبداللہ کے بیان میں مذکور ہو گا۔
ابن شہر اشوب سے مناقب میں منقول ہے کہ امام حسین ؑ کے میدان کربلا میں چھ فرزند شہید ہوئے جن میں سے ایک کا نام ابراہیم تھا۔
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے، حضرت امام حسین ؑکی ایک کنیز تھی جس کو آپ ؑ نے ایک ہزاردرہم پرخریداتھا اوریہ کنیز امام پاک کے حرم محترم جناب اُمّ اسحق کی خدمت کر تی تھی، اسکا نام کبشہ تھا، آپ ؑنے ابورزین نامی ایک شخص کے ساتھ اس کی شادی…
مخزن البُکا میں بعض کتب معتبرہ سے منقول ہے کہ قافلہ اسیرانِ اہل بیت حران میں پہنچاوہاں ایک ٹیلے پر ایک یہودی کا گھر تھا جس کو یحییٰ حرانی کہتے تھے، وہ استقبال کے لئے آگے بڑھا جب اس کی نظر امام مظلوم ؑ کے سر پر پڑی کہ قرآن کی تلاوت ان کی زبان…
میں اس شہادت کو سیّد العلما ٔواستاذ الفضلاعلاّمہ مولانا سید محمد باقر شاہ صاحب قبلہ مدظلّہ العالی کی کتاب مجالس المرضیہ سے نقل کرتاہوں؟ تذکرہ سبط بن جوزی میں ہشام کلبی سے مروی ہے کہ جب حضرت امام حسین ؑنے دیکھا کہ لوگ میرے قتل پرآمادہ ہیں توقرآن مجید کو کھول کرسرپررکھا اورباآواز بلند ندادی:…
مختار نے پوچھا تووہ ہے جوعورتوں کوپیدل دوڑاتاتھا اورننگے پائوں ان کوچلنے کو کہتاتھا؟ پس اس کو لٹا کراوپرسے کچل دیا گیا ۔
یہ شخص عمرو بن خالد صیداوی کا آزاد کردہ غلام تھا۔۔ جب کوفہ میں قیس بن مسہر صیداوی نے امام ؑ پیغام پہنچایا تو یہ شخص اپنے آقا عمرو اور دیگر ہمراہیوں کے ہمراہ امام ؑ کے ساتھ جا ملا اور روز عاشور شہید ہوا۔