عبید اللہ بن امیرالمومنین ؑ
ہے کہ یہ وہی ہیں جن کی کنیت ابو بکر تھی۔۔۔ لیکن زیارت مذکورہ میں عبد اللہ کے
بعد ابو بکر بن امیر المومنین ؑ پر بھی علیحدہ سلام وارد ہے اور بعض کہتے ہیں کہ
ابو بکر کا نام محمد تھا۔۔۔ واللہ اعلم
بعض کتب سے اس کا بروز عاشور حملہ اولیٰ میںمقتول ہونا پایا جاتاہے۔
یہ شخص فرارکرگیا تھا اوراس کے مکانات اورعالی شان محلات قادسیہ میں تھے، پس مختارکے حکم سے ان کومنہدم ومسمارکردیاگیا۔
ان دونوںبھائیوں نے مل کرجنگ کی اوراکٹھے شہید ہوئے، دوسرے بھائی کا نام نہیں مل سکا۔
مختار کو اطلاع دی گئی کہ قادسیہ میں مالک بن نسر رہتا ہے جس نے امام حسین ؑ کے فرق اطہر پر تلوار ماری تھی؟ نیزآپ ؑ کی خون آلود ٹوپی بھی اسی نے لے لی تھی! اور وہاں امام حسین ؑ کے قاتلین میں سے دواور شخص اس کے ہمراہ رہتے تھے ایک کا…
امام عالی مقام ؑ کئی د فعہ استغاثہ کیا اورمختلف الفاظ سے کیا: ھَلْ مِنْ ناَصِرٍ یَنْصُرُنَا کیاکوئی مددکرنے والاہے جوہماری مددکرے؟ ھَلْ مِنْ مُعِیْنٍ یُعِیْنُنَا کیا کوئی اعانت کرنے والاہے جوہماری اعانت کرے؟ ھَلْ مِنْ مُجِیْرٍ یُجِیْرُنَا کیا کوئی پناہ دینے والاہے جوہم کو پناہ دے؟ ھَلْ مِنْ ذَابٍّ یَذُبُّ عَنْ حَرَمِ رَسُوْلِ اللّٰہِ …
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر سلام وارد ہے، طبری سے منقو ل کہ مالک بن عبد اللہ اور سریع (غالباً یہ سیف بن حارث ہے جس کا بیان گزر چکاہے ) یہ دونوں ماں کی طرف سے بھائی اور باپ کی طرف سے ایک دوسرے کے چچا زاد تھے، ایام صلح میں کربلا پہنچے…