عبید اللہ بن امیرالمومنین ؑ
ہے کہ یہ وہی ہیں جن کی کنیت ابو بکر تھی۔۔۔ لیکن زیارت مذکورہ میں عبد اللہ کے
بعد ابو بکر بن امیر المومنین ؑ پر بھی علیحدہ سلام وارد ہے اور بعض کہتے ہیں کہ
ابو بکر کا نام محمد تھا۔۔۔ واللہ اعلم
یہ شخص حضرت سید الشہدأ کا غلام تھا زیارت رجبیہ وناحیہ میں اس پرسلام واردہے۔ ’’ربیع الابرار۔۔زمحشری‘‘ سے مروی ہے کہ حضرت امام حسین ؑنے نوفل بن حارث سے ایک کنیز خریدی تھی جس کا نام حُسنیہ تھا ااور آپ ؑ نے اس کی شادی سہم نامی ایک شخص سے کردی تھی اوراس سے منحج…
بروایت ’’اعیان الشیعہ۔۔ نجاشی‘‘ اس کا شہدائے کربلا سے ہونا منقول ہے۔
اس کو لایا گیا مختار نے کہا تووہ ہے کہ عورتوں کی پشت پر نیزہ مارکر ان کوخیموں سے باہر نکالتاتھا؟ اس نے انکارکیا لیکن مختارنے اس کی زبان کاٹ کرپھر ٹکڑے کرادیا۔
ابن شہر اشوب سے مناقب میں منقول ہے کہ امام حسین ؑ کے میدان کربلا میں چھ فرزند شہید ہوئے جن میں سے ایک کا نام ابراہیم تھا۔
اس کی عمر ۱۲یا۱۳برس تھی واقعہ کربلامیں شہید ہوا ،زیارت ناحیہ میں ان پر سلام وارد ہے اس محمد کے علاوہ ہے جو کوفہ میں اپنے بھائی ابراہیم کے ساتھ ایک سال قید رہ کر شہید ہوا۔
یہ بصرہ کا رہنے والا ہے۔۔ بصرہ سے روانہ ہو کر مکہ میں امام ؑ کا ہمرکاب ہوا تھا اور روز عاشور درجہ شہادت پر فائز ہوا، زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر سلام وارد ہے، نیز حملہ اولیٰ میں اس کا شہید ہونا مذکور ہے۔