مالک بن انس مالکی
المہموم‘‘ سے مروی ہے کہ یہ شخص روز عاشور میدان جنگ میںجہاد کے لئے گیا اور چودہ
یا اٹھارہ ملاعین کو باختلافِ روایات فی النار کر کے درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
بعض کتب معتبرہ میں اس بزرگوار کو شہدائے کربلا میں شمار کیا گیا ہے اور اس کا شہدائے کربلا میں ہونا اس سے بھی ثابت ہے کہ حضرت امام حسین ؑ نے آخری استغاثہ میں جب اپنے اصحاب کو نام لے لے کر پکارا تو ان میں ابراہیم بن حصین کانام بھی آتا ہے۔ ’’نفس…
’’ابن عساکر‘‘ سے منقول ہے کہ اس کو صحبت جناب رسالتمآبؐ کا شرف بھی حاصل تھا اور پھر حضرت امیر ؑ کی فوج ظفر موج میں بھی شامل رہا ور کوفہ میں سکونت پذیر رہا یہاں تک کہ کربلا میں درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
زیارت ناحیہ و رجبیہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے دیگر تفصیلی حالات معلوم نہیں ہو سکے۔
جب مشکور نے شہزادوں کو زندان سے باہر بھیجاتو ابن زیاد نے مشکور کو بلوایا اور دریافت کیا کہ فرزندانِ مسلم کہاں ہیں؟ مشکور نے جواب دیا میں نے ان کو خوشنودی خدا کی خاطر آزاد کردیا ہے، ابن زیاد نے پوچھا تجھے میرا ڈر نہ تھا؟ تو مشکور نے جواب دیا میرے لیے اللہ…
یہ بزرگوار قبیلہ ہمدان سے تھے۔۔ کوفہ میں سکونت پذیر تھے۔۔ حضرت سید الشہدأ کے بزرگ ترین صحابہ میں سے ان کا شمار ہوتا ہے، عبادت گزاروں۔۔پرہیزگاروں اور زُھّاد میں سے آپ صف اوّ ل میں تھے۔۔۔ ان کو سیدالقرأ کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔۔۔۔ نیز حضرت امیر ؑ کے حواریّین اور اشراف کوفہ…
زیارت ناحیہ میں اس پر سلام وارد ہے، یہ شخص حضرت امیر علیہ السلام کے ہمرکاب جنگ جمل صفین ونہروان میں شامل رہا، بصرہ کی طرف جاتے ہوئے اس نے حضرت امیر ؑ سے دریافت کیا تھا کہ حضورؑ! آپ بصریوں سے کیا سلوک کریں گے؟ توآپ ؑ نے فرمایاتھا ان کو اطاعت خداکی طرف…