مالک بن دودان
سے مروی ہے کہ یہ شخص رجز پڑھتے ہوئے دشمنان حسین ؑ پر حملہ آور ہو ا اور بروایت
ابو مخنف ساٹھ ملاعین کو جہنم پہنچا کر درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
یہ شخص حضرت امیر ؑ کے مخلص شیعوں میں سے تھا۔۔ کربلا میں اپنی عیال سمیت وارد ہوا اور حملہ اولیٰ میں شہید ہوا۔
اُن صحابہ کا ذ کر جو بنی ہاشم سے نہ تھے اور میدانِ کربلا میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے:
زیارت ناحیہ میں اس پر سلام وار دہے یہ شخص کوفہ میں مشہور و معروف شریف و مخلص شیعوں میں سے تھا۔۔ حضرت امیر مسلم کی بیعت میں داخل ہوا تھا، جب حضرت مسلم گرفتار ہوئے تو یہ چھپا رہا جب امام حسین ؑ کے قاصد قیس بن مسہّر صیداوی نے آکر خبر دی کہ…
حمید بن مسلم کا بیان ہے کہ شہادت امام حسین ؑ کے بعد جب فوج بدنہاد نے تاراجی خیام کا ارادہ کیا اورعورتوں میں شورماتم بپاہوا تو ایک لڑکا ترساںولرزاں باہر نکلااورڈرکے مارے دائیں بائیں دیکھتا تھا اتنے میں ایک ملعون نے تلوار سے اس کو شہید کر ڈالا،میں نے دریافت کیا کہ یہ بچہ…
زیارت ناحیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔۔۔ حملہ اولیٰ میں شہید ہوا۔
یہ بزرگوار بہت بوڑھے اور عبادت گزار تھے۔۔۔ جناب رسالتمآب کی صحابیت کا شرف بھی ان کو حاصل تھا، جنگ بدر۔۔حنین اور دیگر غزواتِ نبویہ میں شریک رہے، پس کمر کو مضبوط باندھا اور ایک رومال اپنے اَبروئوں کے بلند کرنے کے لئے پیشانی پر باندھا۔۔۔ حضرت امام حسین ؑ اس کی یہ جاں فشانی…