مبارک
درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
مالک اشتر کا فرزند جناب ابراہیم اپنے باپ کی طرح طاقت و شجاعت میں اپنی نظیر آپ تھا اور فن سپہ گری میں مہارت تامہ رکھتا تھا، جب اس کو امام زین العابدین کی جانب سے اجازت کی خبر ہوئی تو فوراً اس جماعت کے ساتھ شریک ہو گیا اور اس سے مختار کی قوت…
اس حرامزادے نے امام مظلوم ؑ کے پہلوپرنیزہ ماراتھا۔
زیارت ناحیہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے۔
ابن زیاد نے زجر بن قیس جعفی کو پانچ سو سوار کا افسر مقرر کر کے کربلا سے کوفہ جانے والے راستوں کی ناکہ بندی پر تعیینات کیا تھا تاکہ کوئی شخص امام حسین ؑ کی مدد کے لئے نہ جا سکے، لیکن جب عامر بن ابی سلامہ شوقِ شہادت کے خمار میں سرشار ہو…
جناب رسالتمآبؐ کے صحابہ میں سے تھا اور حضرت علی ؑ کا تلمیذ رشید تھا، ’’اصابہ‘‘ میں حدیث غدیر مَنْ کُنْتُ مَوْلاہ اسی سے روایت کی گئی ہے اور ’’اسد الغابہ‘‘ میں مذکور ہے کہ عبدالرحمن نے شہادت دی کہ میں نے یہ حدیث جناب رسالتمآبؐ سے اپنے کانوں سے سنی ہے اور ’’اصابہ‘‘ میں…
اس کا نام عروہ مذکور ہے لشکر اشقیا ٔ میں داخل تھا جب اپنے آقا حُر کو شہید دیکھا تو فوج اشقیا ٔ پر حملہ آور ہو گیا کافی ملاعین کو تہِ تیغ کر کے خدمت امام ؑ میں پہنچا اور اذن جہاد حاصل کر کے دوبارہ میدان میں گیا اور مصروف جہاد ہو کر…