مزید تشریح

مزید تشریح

مقصد یہ ہے کہ ہر انسان فطری طور پر اپنے اندر ہر بری صفت کے اپنانے کی قوت
اور جذبہ رکھتا ہے لیکن س کے مقابلہ میں عقل کے پاس اس کا متبادل انتظام بھی خالق
فطرت کے فیض عظیم کا مرہون منت ہے بلکہ جس طرح فرمان ہے ۔ و سعت رحمۃ غضبہ یعنی اس
کی رحمت اس کے غضب سے وسیع ہے اسی طرح عقل انسانی پر صفات حسنہ کی افواج کی فیاضی
اس کی رحمت بےپایاں اور فضل نمایاں کی ناقابل فراموش دلیل ہے اور اس کی بدولت ہی
تو انسان کو باقی تمام مخلوقات کے مقابلہ میں تاج کرامت کا اہل قرار دیا گیا ہے۔

صفحہ ہستی پر جنم لینے کے بعد ابتدائیں چونکہ عقل ایک سر بمہر خزانہ کی طرح دماغ
کے خلیوں اور پردوں میں مکتوم و محفوظ بلکہ ساکن و ساکت ہوتی ہے اور اعضاء جسم کی
تردریجی ترقی کے ساتھ ساتھ اس میں حرکت نمودار ہوتی ہے اور دماغ کے پردوں سے جھانک
جھانک کر کبھی کبھار وہ مملکت جسم میں ہونے والی ان دھاندلیوں کا جائزہ لیتی رہتی
ہے جو جہالت کی افواج کی پیداوار ہوتی ہیں لیکن اپنی انتہائی ناتوانی سے بے بس ہو
کر اس کا ایکش لینے کی جرآت نہیں کرتی اور جسم کے سن بلوغ تک پہنچتے پہنچتے عقل
بھی جوانی کے میدان میں قدم رکھتی ہے لیکن اس سفر میں باوجود خاموش رہنے کے مملکت
انسانی کے اندر واقع ہونے والی ہر خرابی اور افواج جہالت کی لائی ہوئی ہر غلط
پالیسی کا نوٹس لے چکی ہوتی ہے پس اس مرحلہ پر اگر اس کو صحیح قیادت مل جائے اور
حکومت الٰہیہ کے معصوم نمائندگان کی ہدایت سے بہرہ اندوز ہو جائے تو عقل کو مقصود
زنگی بھی نظر آ جاتا ہے اور اپنی افواج کی طاقت کا اندازہ کر کے اس میں افواج
جہالت سے ٹکرانے کا جذبہ بھی تیز سے تیز تر ہو جاتا ہے کیونکہ بچپنے میں عقل خود
بھی بے بس اور دم بخود تھی تو اس کی افواج و عساکر بھی دم بخود تھے پس جہالت اور
اس کی افواج بچپنے میں بلا مقابلہ مملک جسم پر قابض تھے گویا حرص و ہوس بخل و غفلت
اور جلد بازی بلکہ تمام اوصاف خسیسہ کا دور دورہ تھا اب جو عقل نے آنکھ کھولی اور وہ
سمجھی کہ اس مملکت کا پایہ تخت میری جاگیر ہے اور جہالت ناجئز طور پر قابض ہے تو
اس نے اپنی طاقت اور افواج کی پختگی و عظمت کا جائزہ لے کر حکومت جہالت کو چلینج
کر دیا (بشرطیکہ اس کی قیادت خدائی نمائندوں کے ہاتھ میں ہو)

یہ یاد رکھئے کہ جاہلانہ صفات منفی پہلو ہیں جبکہ عاقلانہ صفات انسانی کردار
میں مثبت پہلو کا درجہ رکھتی ہے یعنی عقلی صفات وجودی ہیں اور جہالت کی صفات عدمی
ہیں ۔۔۔ مثلاً علم و جہالت میں سے علم مثبت اور جہالت منفی حیثیت رکھتی ہے جس طرح
روشنی کے مقابلہ میں تاریکی اور یہ ظاہر ہے کہ جب مثبت و منفی کا مقابلہ ہو تو
کبھی منفی پہلو مثبت پہلو سے ٹکرایا نہیں کرتا بلکہ مثبت کو دیکھتے ہیں وہ میدان
چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے جس طرح علم کے آتے ہی جہالت خود بخود بھاگ جاتی ہے روشنی کو
دیکھتے ہی تاریکی خود بخود کافور ہو جاتی ہے اور حیا کے آتے ہی بے حیائی اپنی موت
خود مرجاتی ہے و علیٰ ہذا القیاس پس افواج عقل کے مقابلہ میں افواج جہل کا انا صرف
افہام و تفہیم کے لئے ہے ورنہ جب افواج عقل مملکنت انسانی میں پیش قدمی کرتی ہیں
تو افواج جہالت خودبخود میدان چھوڑ کر بھاگ جاتی ہیں بلکہ اپنی موت خود مرجاتی ہیں
۔

لہذا افواج عقل کے لئے افواج جہل سے ٹکر لینے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ۔

البتہ مشکل یہ ہے کہ عرصہ شباب میں قدم رکھتے تک یا عقل کے اپنی افواج کی کمان
سنبھالنے کے عرصہ تک جو اس مملکت میں افواج جہالت نے دھاندلی مچائی ہوئی تھی حتا
کہ خواہش نفس نے انسانی قوتوں کو جہالت کے زیر سایہ رہ کر اپنا مطیع و فرمانبردار
بنایا ہوتا تھا اس کے اثرات کو یکسر ختم کر دینا اور ان کے مزاج کو فوراً بدل دینا
اس عمل و اسباب کی دنیا میں اگر محال نہیں تو دشوار ضرور ہے اس لئے عقل کی تمام
افواج کا بیک وقت اپنے اپنے مخصوص محاز کا رخ کرنا ظاہراً اشدنی امر ہوتا ہے پس
انبیاء و اوصیاء کے لئے تو یہ بات اس لئے مشکل و دشوار نہیں کہ وہ ابتداء ہی سے
جہالت اور اس کی افواج کی دسترس سے بحفظ خدا مامون و مصون ہوتے ہیں لیکن عام
انسانوں کے لئے یہ امر وقت طلب ہے پس سب سے پہلے آسان ترین محاز پر قدم جمانا ہوگا
پھر رفتہ رفتہ بڑھتے بڑھتے پوری مملکت پر قبضہ جمانے کی نوبت آئے گی کیونکہ ہر صفت
خیر آمد صفت شر کی موت کا باعث ہو گی اور مومن وہ ہے جو نیکیوں کی طرف قدم بڑھاتا
رہے پس اس کے وجود سے تدریجاً برائیاں ختم ہو جائیں گی یہاں تک کہ وہ اپنے مقصود اعلیٰ
تک پہنچ جائے گا جو ارتقاء انسانی کی آخری منزل ہے اور افواج عقل کی افواج جہل کے
ساتھ جنگ کا دوسرا نام جہاد اکبر ہے ۔

Similar Posts

  • کوثر

    کوثر حضرت رسالتمآب  نےارشاد فرمایا جو شخص میرے خوض پر ایمان نہیں رکھتا خدا اسکو اس سےسیراب نہ کرے آپ نے فرمایا تم لوگ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچوگے  جس کی چوڑائی شام سےیمن تک  کےبرابر ہے  اور اس پر پیالے ستاروں کی تعداد کے برابر ہوں گے اسکا پانی دودھ  سےسفید تر اور…

  • عدل کی فضیلت

    عدل کی فضیلت عدل کا معنی  ہے ہر شیئ کو اس کے موزوں ومناسب مقام پر رکھنا اور صاحبان  حقوق کے حقوق کی پاسداری کرنا عدل مخلوق کےدرمیان اللہ کا قائم کردہ میزان ہے اور عدل ہی سے آسمان وزمین قائم ہیں عقلی احکام میں وجوب عدل سے واضح تر کوئی حکم نہیں کیونکہ کوکئی…

  • حقیقت نفس اور اس کے اقسام

    حقیقت نفس اور اس کے اقسام محمد بن حسن عاملی کی کتاب “اثنا عشریہ” سے بروایت کمیل بن زیادہ منقول ہے کہ میں نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے عرض کی کہ مجھے آپ نفس کی پہچان کرائیں آپ نے فرمایا تو کون سے نفس کی پہچان چاہتا ہے؟ تو میں نے عرض کی…

  • سلام ومصافحہ

    سلام ومصافحہ حسد وکدوت کے دور کرنے اور باہمی رواداری وملنساری کی قضا کو پیداکرنے اور برقرار  رکھنے کے لئے انسانیت کے بہی  خواہوں نے سلام ومصافہ کو حسن خلاق کا سنگار قرار دیا ہے چنانچہ ہر ہر مذہب  وملت اور ہر قوم وفرقہ نے باہمی ملاقات کے جملہ آداب  میں ہے سلام ومصافحہ کو…

  • رشوت

    رشوت فرائض سے کوتاہی کی بد ترین محرک رشوت ہوا کرتی ہے جس کو شریعت مقدسہ اسلامیہ نے حرام اور سحت قرار دیا ہے پس رشوت لینا بھی حرام ہے کیونکہ فرائض ناشناسی اور انسانی اقدار کی پامالی کے لئے یہ پیش خیمہ ہے اور رشوت دینا بھی حرام ہے کیونکہ اس میں دوسروں کو…

  • شہوت

     شہوت یہ صفات مذمومہ کی اصل ہے اور اسی کی مطلق العنانی ہی غضب، حرص اور حسد کو  بلکہ فروعی تمام قسم کی برائیوں کو جنم دیتی ہے شہوت سے مراد نفس کی چاہت اور انسان دنیا میں قدم رکھتے ہی اسی صفت میں اپنی آزادی منوانے کا عادی چلا آیا ہے اور زمان بچپن…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *