Similar Posts
چونتیسویں — مجلس اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلام
ارشادِ پروردگار ہے آپ کی زندگی کا دستور العمل میں نے تجویز کیا ہے جس کا نام اسلام ہے، جو تم سب تجویز کرو گے اس میں غلطیاں ہوں گی لیکن جو میں تجویز کروں گا اس میں کوئی غلطی کی گنجائش نہیں عَسٰی أنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَ ھُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَ عَسٰی أنْ تَکْرَھُوْا…
اُنتیسویں مجلس — وَ الضُّحٰی ء وَ اللَّیْلِ اِذَا سَجٰی ء مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی ء وَ لَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی ء وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ء اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی ء وَ وَجَدَکَ ضَآ لًّا فَھَدٰی ء وَ وَجَدَکَ عَائِلًا فَأغْنٰی ء
مجھے پھیلی ہوئی روشنی کے وقت چاشت کی قسَم اور چھائی ہوئی تاریکی والی رات کی قسَم یعنی دن رات کی قسَم۔۔ یا یوں عرض کروں سیاہ و سفید کی قسَم یا نور وظلمت کی قسَم نہ اے میرے حبیب! تجھے تیرے ربّ نے چھوڑا ہے اور نہ تجھ پر ناراض ہے، اندازِ بیان سے…
ستائیسویں مجلس — حُبُّ عَلِیٍّ یَّـأ کُلُ الذُّنُوْبَ کَمَا تَـأ کُلُ النَّارَ الْحَطَبَ
حضرت علی ؑکی محبت گناہوں کو اس طرح کھاتی ہے جس طرح آگ خشک لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ ہر شئے کے چار وجود ہوتے ہیں اور ان میں سے صرف ایک کار آمد ہوتا ہے: وجودِ حقیقی ، وجودِ ذہنی ، وجودِ ملفوظی ، وجود ِ مکتوبی مثلاََ ایک ہے پانی کا وجودِ حقیقی…
حسینی دوھڑے — امیر مسلم — جے توں وکیل شبیرؑ دا ہیں میں ہاں زہرا ؑ دی بانی
۱۰ جنوری ۱۹۸۱ء _____ (امیر مسلم ؑ ) جے توں وکیل شبیرؑ دا ہیں میں ہاں زہرا ؑ دی بانی میڈی ہے دعاشالا خوش پیا وسے وچ گھر دے زہراؑ جانی میں سنیائے شاہ توں وطن چھڑایا کہیں استبداد دے بانی ڈس وطنیں ہے یا نال بھرا دے ٹری سفریں زہراؑ ثانی ترائے منزلہ اُچی…
چوتھی مجلس — مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنَ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ — مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنَ عبدیت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان مال وجان اس کی راہ میں قربان کردے نہ اپنے مال پر ملکیت کادعویٰ رکھے اورنہ اپنے جسم پر ملکیت کا سکہ قائم کرے۔ دیکھئے۔۔ کسی کی حکومت کاعملی اعتراف اس حکومت کے سکہ کی مقبولیت سے…
چھبیسویں مجلس — ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لا یَعْلَمُوْنَ
کیا برابر ہیں وہ جو جانتے ہیں اور وہ جو نہیں جانتے؟ اللہ تعالیٰ نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر فیصلہ طلب کیا ہے کہ کیا تمہاری عقلیں یہ فیصلہ کر سکتی ہیں کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے سب ایک جیسے ہیں؟ یقینا تمہارا ضمیر اور تمہاری عقل اس برابری کی قائل نہ…
