ابراہیم بن علی ؑ بن ابی طالب
الطالبین‘‘ سے مروی ہے کہ ابرہیم بن علی کی والدہ امّ ولد تھی اوریہ میدانِ
کربلامیں شہید ہوا۔
زیارت ناحیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔۔۔ حملہ اولیٰ میں شہید ہوا۔
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔
اسکے متعلق صرف اسی قدر ملتا ہے کہ روزِ عاشور حملہ اولیٰ میں درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
کتب سیرمیں اس مقام پربی بی عالیہ کا پانچواںخطاب بدرگاہ رب العزت منقول ہے کہ منہ آسمان کی طرف کرکے عرض کیا! اے پالنے والے! اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنَّا ھٰذَا الْقُرْبَان یااللہ ہماری اس قربانی کوقبول فرما۔ لاشوں کی پامالی کے متعلق روایات اکثر کتب معتبرہ میں موجود ہیں اوراس کے مقابلہ میں ابوالحارث کی روایت…
طوعہ نے ایک بار پھر عرض کیا کہ آقا کیا مرنے کا ارادہ ہے؟ تو فرمایا خداکی قسم اس کے سوااورکوئی چارہ نہیں ہے، پس آگ برسانے والی بجلی بن کر تلوار شرربار ہاتھ میں تھا م کرحیدرکرارکی طرح للکارتاہوا میدانِ قتال میں اُترا کہ ان کی تلوار کی جنبش سے ہاتھ اورسر پرندوں کی…
مخزن البکا ٔ اور کتاب محرق القلوب ص ۱۵۴ ۔۔۔۔۔ روزِ عاشور جب امام مظلومؑ زخموں سے چور خاکِ کربلا پر تشریف لائے۔۔ عمر سعد نے ایک شخص کو آپ ؑ کا سر تن سے جدا کرنے کے لئے بھیجا۔۔ جب وہ قریب آیا تو امام ؑ نے فرمایا کہ تو میرا قاتل نہیں ہے…