anwarulnajaf.com

احکام ، مراتب اور آداب مساجد

إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّهِ مَنْ آمَنَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ
الآخِرِ وَأَقَامَ 
الصَّلاَةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلاَّ اللّهَ فَعَسَى
أُوْلَئِكَ أَن يَكُونُواْ مِنَ الْمُهْتَدِينَ
{التوبة/18}
صرف تعمیر مساجد خدا  ان کا حق 
ہے 
جو ایمان لائیں اللہ پر 
اور قیامت  پر اور قائم کریں  نماز کو اور دیں زکوۃ  اور نہ ڈریں 
مگر اللہ  سے  تو یقین 
ہے کہ ایسے لوگ  ہدایت یافتہ
ہوں
  گے۔ 

مساجداللہ: بعض لوگوں نے اس لفظ کو واحد کے
صیغے سے مسجداللہ پڑھا ہے کیونکہ
  اس کے
نزدیک یہ حکم صرف مسجد الحرام کے لئے
  مختص
ہے لیکن مشہور قرائت کی بناء پر اس کو مساجد پڑھنا چاہیے
  تاکہ تمام مساجد کے لئے حکم عام ہو جائے، لغت میں
مسجد اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں سجدہ
 کیا جائے لیکن اصطلاح میں اس مکان کو مسجد کہتے  ہیں جو نماز کے لئے تیار کیا جائے نیز نمازی کے
وہ سات اعضاء جو بوقت سجدہ زمین پر ہوتے ہیں ان کو اصطلاح فقہ میں مساجد کہا جاتا
ہے۔ 

احکام  مسجد
بناء مسجد: ابوعبیدہ حذاّء سے مروی ہے کہ  میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے
سنا
 فرما رہے تھے کہ جو شخص مسجد بنائے تو
خدا اس کے بدلہ میں اس کا گھر جنت میں تیار
 کرتا ہے راوی کہتاہے کہ حضرت امام
جعفر صادق علیہ السلام راہ مکہ میں میرے پاس سے گذرے
 جب کہ میں نے ایک مقام پر پتھروں کو درست کر کے مسجد کی جگہ بنارکھی تھی تو میں نے پوچھ لیا کہ حضور کیا یہ مسجد بھی اسی کا فرد ہے جو اۤپ نے فرمایا تھا؟ اۤپ نے فرمایا ہاں اور حضرت 
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص ایک پرندہ کے  بیٹھنےکی جگہ کے برابر بھی مسجد بنائے خدا اس کا
گھر جنت میں بنائے گا
  مقصد یہ ہےکہ چھوٹے
سے چھوٹی مسجد
  بنانا بھی جنت میں گھر
بنانے کے مترادف
 ہے۔
مسئلہ: مسجد کے
وقف کرنے کے لئے بالخصوص عربی میں صیغہ جاری کرنے کی ضروت نہیں 
بلکہ نیت کافی ہے جیسا کہ محققین کا قول ہے
اور اس میں ایک نماز پڑھنے سے وقف پختہ ہو جاتا ہے خواہ وقف کرنے والاخود ہی پڑھ
لے
 اور اکثر مساجد اسی طریقہ سے بنائی جاتی
ہیں اور سابق روایت بھی ظاہر اسی کی تائید کرتی ہے۔
   
مسئلہ: اپنے گھر میں جو مقام نماز کے لئے مخصوص کیا جاتا ہے اس پر مسجد کے احکام جاری نہیں
ہو سکتے
 اور اس کی تبدیلی بھی جائز ہے اگر
چہ اس پر گھر والے مسجد کا اطلاق بھی کرتے ہوں۔
مسئلہ: جس طرح
اصل مسجد میں یہ جائز نہیں کہ اس کو ایک جگہ سے نقل
 کر کے دوسری جگہ بنایا جائے اس طرح جو اشیاء مسجد
کے لئے وقف کی جائیں وہ بھی مسجد سے باہر استعمال نہیں کی جا سکتیں۔
 
مسئلہ: مسجد گر جائے تو اس کو از سر نو بنانے میں کوئی حرج نہیں اسی طرح مسجد کی توسیع یا
گرا کر پختہ بنانا بھی جائز ہے۔
مسئلہ: اگر ایک
مسجد سے
 کوئی سامان وافر ہو تو دوسری مساجد
میں اسے صرف کیا جاسکتاہے۔
 
مسئلہ: اگر مسجد
سے متعلق کسی چیز کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو اور اس مسجد میں یا دوسری مسجد میں
 وہ صرف بھی نہ کی جا سکتی ہو تو ایسی صورت میں اس
کو فروخت کر کے
  اس کی قیمت مسجد کی
ضرویات
  میں صرف کی جا سکتی ہے۔   
مسئلہ: مسجد کو
ملکیت میں داخل کرنا حرام ہے اور اسی طرح مسجد کو راستہ بنانا یا راستہ میں اس کا
کچھ حصہ داخل کرنا ناجائز ہے۔
مسئلہ: اگر مسجد
گر جائے اور مسجد کے آثار بھی ختم ہو جائیں تاہم اس جگہ کو کسی دوسرے تصرف میں
لانا
 جائز نہیں اور اس جگہ کو پاک رکھنا ضروری ہے اور اس میں پڑی ہوئی نجاسات کو دور کرنا واجب ہے کیونکہ مسجد
کو پاک رکھنا واجب ہے اور اس کو نجس کرنا حرام ہے اسی بناء پر مسجد میں سونا مکروہ
قرار دیا گیا ہے۔
 
مسئلہ: اگر
نماز کا وقت ہو اور مسجد میں نجاست موجود
 ہو تو
نمازی پر واجب ہےکہ پہلے نجاست
 کو دور کرے
اور پھر نماز پڑھے
 بشرطیکہ نماز کا وقت تنگ نہ ہو ورنہ پہلے نماز پڑھ کر پھر
تطہیر مسجد کرے۔

مساجد میں مراتب کا فرق
گھر میں نماز پڑھنا صرف فرض کی ادائیگی  ہے اور گلی کی مسجد میں ایک نماز بارہ نمازوں
کے برابر
  ہے اور محلہ کی مسجد میں ایک
نماز پجیس نمازوں کے برابر ہے اور جامع مسجد میں ایک نماز ایک سو نماز کے برابر ہے۔
مسجد کوفہ: حدیث میں وارد ہے کہ جنت کے باغات میں سے ایک
باغ
  ہے، امام محمد باقر علیہ السلام  سے منقول ہے کہ یہ جنت کے باغات میں سے ایک
باغ
  ہے اس میں ایک ہزار ستر پیغمبروں نے
نماز ادا فرمائی
 الخ
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ اس میں ایک ہزار نبی اور ایک ہزار وصی نے نماز پڑھی بلکہ ایک روایت میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ کوئی عبد صالح نہیں گزرا بلکہ کوئی نبی نہیں گزرا جس نے اس مسجد میں نماز نہ ادا کی ہو اور اس میں نافلہ پانچوں نماز کے برابر ہے اور اس مسجد میں بغیر تلاوت و عبادت بیٹھا رہنا بھی عبادت ہے الخ
اور ایک حدیث  میں آپؑ نے فرمایا  کہ پہلے  پہل اس
کا نشان حضرت آدم نے قائم کیا تھا،
 حضرت
امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ خدا اور رسول کے حرم کے بعد زمین کا 
کونسا قطعہ افضل ہے؟ تو آپؑ نے فرمایا کوفہ، یہ پاک وپاکیزہ  ہے
اس میں نبیوں اور وصیوں کی قبریں ہیں، اس
میں مسجد سہلہ  ہے جس میں ہر نبی نے نماز
ادا کی ہے، اسی میں اللہ تعالی کا عدل قائم
ہوگا الخ 
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا مکہ اللہ کا حرم ہے
اور نبیﷺ  و علیؑ کا حرم ہے اس میں ایک نماز ایک لاکھ نماز کے
برابر ہے اور ایک درہم خرچ کرنا ایک لاکھ درہم کے برابر ہے اور مدینہ اللہ و رسولؐ
و علیؑ کا حرم ہے اس میں ایک نماز دس ہزار
نماز کے برابر ہے اور ایک درہم دس ہزار درہم کے برابر ہے اور کوفہ خدا و رسولؐ و علیؑ
کا حرم ہے اس میں ایک نماز ایک ہزار نماز
کے برابر ہے۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے ایک دن فرمایا اے اہل
کوفہ! تم کو خدا نے وہ چیز عطا کی ہے  جو
اور کسی کو نہیں عطا کی گئی، تمہاری جائے عبادت حضرت آدم  کا گھر ہے، حضرت نوح کا گھر ہے اور حضرت ادریس
کا گھر ہے اور حضرت ابراہیم حضرت خضر اور میرا مصلا ہے اور تمہاری مسجد ان چار
مسجدوں میں سے ہے جن کو خدا نے چن لیا ہے اور یہ مسجد بروز محشر اپنے اہل کے لئے اور ان
لوگوں کے لئے شفاعت کرے گی جس نے اس میں نماز پڑھی ہو گی اور اس کی شفاعت قبول ہو گی
اور زمانہ نہ گذرے گا کہ اس میں حجر اسود نصب کیا جائے گا اور ایک زمانہ ہو گا کہ یہ
مسجد حضرت مہدی علیہ السلام کا مصلے ہو گا جو میری اولاد سے ہو گا اور ہر مومن کا مصلے
ہو گا اور مومن جہاں بھی ہوں گے اس میں اکٹھے ہو جائیں گے پس اس کو نہ چھوڑو اور اللہ
کے قرب کے لئے اس میں نماز پڑھا کرو اور
اپنی حاجات طلب کیا کرو اگر لوگ اس کی برکات جانتے ہوتے  تو اطراف زمین سے اس کی طرف کھینچ کر آتے  اگرچہ برف پر ہی ان کو چلنا پڑتا، بعض روایات
میں ہے کہ اس میں ایک نماز حج کا ثواب رکھتی ہے اور مروی ہے کہ حضرت نوح  نے کشتی اسی جگہ تیار کی تھی اور کشتی
یہیں سے چلی تھی، تفسیر انوار النجف کی اسی ساتویں جلد میں آگے اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ 
مسجد سہلہ: امام
جعفر صادق علیہ السلام  سے مروی ہے کہ اس
میں حضرت ادریس  اور حضرت ابراہیم کا گھر
ہے اور حضرت خضر  کا مقام ہے اور اسی میں
نفخ صور ہو گا پس اس مسجد کے پہلو سے ستر ہزار آدمی اٹھیں گے جو بلا حساب جنت میں
جائیں گے اس مسجد میں مغرب و عشاء کے درمیان دو رکعت نماز حاجت کا پڑھنا دفع مصیبت کا
باعث ہے اور بعض روایات میں ہے کہ بدھ کی رات یہ عمل کیا جائے، جیساکہ صاحب جواہر نے ذکر کیا ہے اور مروی ہے کہ  یہ مسجد بھی تمام انبیاء کا مصلا ہے اور ہم نے نجف کے قیام کے دوران میں دیکھا ہے
کہ اکثر صلحاء بدھ کی شب کو وہاں جا کر
ہمیشہ نماز مغربین ادا کرتے ہیں۔
مسجد خیف: مروی ہے
کہ اس میں ایک ہزار نبی نے نماز پڑھی ہے، یہ مسجد منٰی میں ہے اور روایت میں ہے کہ
اس مسجد میں ایک سو رکعت نماز ادا کرنا ستر سال کی عبادت کے برابر ہے۔
مسجد الحرام: یہ
مسجد بیت اللہ کے ارد گرد ہے، مروی ہے کہ جو شخص اس میں ایک نماز ادا کرے گا اس کی عمر بھر کی تمام نمازیں مقبول ہو جاتی ہیں، حضورﷺ نے فرمایا کہ میری مسجد میں نماز باقی مسجدوں کی ایک ہزار نماز کے برابرہے
اور مسجد الحرام کی ایک نماز میری 
مسجد کی ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے اور مروی ہے کہ رکن
اور مقام کے درمیان کی جگہ انبیاء کی قبروں سے پُر ہے۔
مسجد براثا: اس
میں حضرت مریم، حضرت عیسی، حضرت ابراہیم اور حضرت علی علیہم السلام نے نماز پڑھی۔
حضرت امیر علیہ السلام 
جب واقعہ نہروان سے واپس تشریف
لائے  تو مسجد براثا کے مقام پر آکے رکے
اور ہر ایک راہب نے اپنے عبادت خانہ سے سر نکال کر کہا کہ اس جگہ مت اُترو کیونکہ یہاں نبی یا وصی نبی کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں اُتر سکتا، آپ نے فرمایا میں آخر الزمان
پیغمبرﷺ کا وصی ہوں، راہب جلدی سے اُترا اور مشرف بہ اسلام ہوا، کہنے لگا میں نے انجیل میں
تیرے اوصاف پڑھے ہیں کہ تو نے زمین براثہ میں اترنا ہے جو حضرت مریم و عیسٰی کا
گھر تھا، پس حضرت نے ایک مقام پر پاؤ ں سے
ٹھوکر لگائی تو ایک چشمہ پھوٹ نکلا، حضرت
نے فرمایا یہ وہ چشمہ ہے جو حضرت مریم کے لئے ظاہر ہوا تھا، پھر اس سے سترہ ذراع کے
فاصلے  سے زمین کو کھود کر ایک سفید پتھر
نکالا اور فرمایا کہ یہ وہ پتھر ہے جس پر حضرت مریم نے عیسٰی کو سلا کر نماز اداکی
تھی، پس آپ نے وہاں نماز پڑھی اور چار دن قیام فرمایا اور فرمایا یہاں نبیوں نے
نماز ادا کی تھی۔ 
مسجد بیت المقدس: یہ ان چاروں مسجدوں میں سے ہے جو دنیا میں جنت کے محل ہیں
اور وہ چار یہ ہیں مسجد الحرا م، مسجد نبی، مسجد بیت المقدس اور مسجد کوفہ، جیسا کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول
ہے۔
مسجد نبوی: معاویہ بن وہب سے روایت ہے کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ
السلام  سے دریافت کیا کہ حضرت رسالت مآبﷺ نے فرمایا تھا  ما بین بیتی و منبری روضۃ من
ریاض الجنتہ یعنی میرے گھر اور منبر کے
درمیان کا حصہ جنت کے باغات میں سے ایک
باغ ہے، تو آپ نے فرمایا ہاں، اس مسجد میں نماز کا ثواب مختصر ابیان ہوچکا ہے اور نماز حاجت کا پڑھنا بھی اس میں مستحب  ہے، اس مسجد کے فضائل بہت ہیں جن کا ذکر طول کا
باعث ہے۔


مسجد کو جانا
(1) حضرت امیر المومنین علیہ السلام 
فرماتے تھے جو شخص مسجد کو جائے گا وہ آٹھ فائدوں میں سےکوئی ایک تو
ضرور ہی حاصل کرے گا:

  1. خالص اللہ کی رضا مندی
    کے لئے کسی مومن بھائی سے ملاقات
  2. علم کی کوئی بات
  3. آیت محکمہ
  4. ہدایت کاکلمہ
  5. رحمت
    پروردگار
  6. ہلاکت سے بچانےکا کلمہ
  7. ترک گناہ خوف سے
  8. ترک گناہ شرم سے (وسائل)
(2) آپؑ نے فرمایا خداوند کریم زمین والوں کو ان کے گناہوں کی
وجہ سے عذاب عام میں مبتلا کرنا چاہتا ہے لیکن جب سفید ریش نماز کے لئے مسجد کا رخ
کرتے ہیں اور بچے قرآن پڑھنےکو چلتے ہیں تو وہ اپنے عذاب کو ٹال دیتاہے (مستدرک)
(3) حضرت رسالت مآبﷺ نے فرمایا جس دن کوئی سایہ نہ ہو گا سات
قسم کے لوگوں کو خدا اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ دے گا:

  1. امام عادل
  2. نوجوان عابد
  3. مسجد کا محب
  4. دو شخص جو اللہ  کی اطاعت میں اکٹھا وقت گزاریں اور اسی حالت پر ایک دوسرے سے
    جدا ہوں۔
  5. وہ شخص جو عالم تنہائی میں اللہ کی عظمت کو یاد کر کے گریہ کرے اور
    اس کی اۤنکھوں میں آنسو اۤجائیں۔
  6. وہ شخص جس کو تنہائی  میں خوبصورت عورت زنا کی دعوت دے اور وہ کہہ دے
    کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔
  7. جو شخص خفیہ
    صدقہ کرے کہ بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کے دیے کا علم  نہ ہو (وسائل) 
(4) حدیث  قدسی میں
خدا ارشاد فرماتاہے زمین پر مساجد میرے گھر ہیں، طوبی ہے اس شخص کے لئے جو اپنے گھر میں طہارت کر کے میرے گھر میں میری ملاقات
کو آئے اور میزبان پر واجب ہے کہ وہ اۤنے والے مہمان کی عزت کرے۔(وسائل)
(5) حضرت علیؑ نے فرمایا جنت میں بیٹھنے سے مسجد میں بیٹھنا افضل ہے کیونکہ جنت میں بیٹھنا نفس
کے لئے ہے اور مسجد میں بیٹھنا اللہ کے لئے ہے۔
(6) امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جو شخص مسجد کی طرف
روانہ ہو زمین کے خشک و تر پر جہاں بھی قدم رکھتاہے ساتوں زمینیں اس کے لئے تسبیح
کرتی ہیں۔
(7) جناب رسالت مآبﷺ نے فرمایا جو شخص مسجد کی طرف چلتا ہے اس کے
ہر قدم کے بدلہ میں اس کے نامہ اعمال  میں
دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں دس گناہ محو کئے جاتے ہںں اور اس کے دس درجے بلند کئے
جاتے ہیں۔ (وسائل)
(8) آپ نے فرمایا مسجد میں نماز کی انتظار  میں بیٹھنا عبادت ہے۔ (مستدرک)
(9) آپ نے فرمایا خدا فرماتا ہے 
زمین میں میرے گھر مساجد ہیں جو
اہل اۤسمان کے لئے ایسے چمکے ہیں جس طرح ستارے اہل زمین کو چمکتے نظر اۤتے ہیں، طوبیٰ ہے اس عبد کے لئے جو گھر میں وضو کر کے
میرےگھر میں میری زیارت کو آئے  اور جس کی
زیارت کی جائے اس پر اپنے زائر کی عزت واجب ہے جو لوگ تاریکیوں میں مساجد کی طرف
جاتے ہیں ان کے لئے بشارت ہو کہ قیامت کے دن اُن کے چہروں سے نور ساطع ہوگا۔
(10) آپ نے فرمایا بہتر
انسان وہ ہے جو سب سے پہلے مسجد میں جائے اور سب کے آ
خر میں باہر نکلے۔ (مستدرک)
(11) آپ نے فرمایا جب دیکھو کسی انسان کو کہ وہ مسجد کا عادی ہے
تو اس کے ایمان کی گواہی دو کیونکہ خدافرماتاہے انما یعمر مسجداللہ الایۃ  یعنی مساجد کی آبادی وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ
و قیامت پر ایمان رکھتے ہوں اور نماز و زکوۃ کے پابند ہوں الخ
(12) اۤپ نے فرمایا جب لوگ مسجد میں قراۤن  مجید پڑھتے ہیں اور ایک دوسرے کو سناتے ہیں تو
اس وقت وہ اللہ کے مہمان ہوتے ہیں اور فرشتے ان پر اپنے پروں سے سایہ کرتے ہیں جب
تک وہ اس عبادت میں مشغول رہیں الخبر (مستدرک)


مسجد سےکنارہ کشی 
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام  نےفرمایا جو ہمسایہ مسجد ہو کر فراغت رکھتےہوئے
بھی نماز فریضہ مسجد میں نہ ادا کرے تو اس کی کوئی نماز نہیں ہے۔
حضرت امیر علیہ السلام کو ایک مرتبہ اطلاع پہنچی کہ ایک قوم
مسجد میں نماز کے لئے حاضر نہیں ہوتی، تو آپؑ نے خطبہ پڑھا اور فرمایا جولوگ مسجد میں
نماز کے لئے حاضر نہیں ہوتے تو ان کا کھانا پینا مشورہ نکاح اور باقی لین دین ہمارے
ساتھ بند ہے جب تک کہ ہماری جماعت میں شریک نہ ہوں اور اگر وہ باز نہ آئے تو قریب
ہے کہ میں ان کے گھروں کو جلا کر خاکستر کر دوں، پس لوگوں نے ان سے قطع تعلقی کر لی
کھاناپینا وغیرہ سب بند کر دیا تو وہ مسجد میں آنے لگ گئے۔
امام جعفر صادق
علیہ السلام نے فرمایا تین چیزیں قیامت کے روز شکوہ کریں گی:

  1. مسجد خراب جس
    میں نماز کوئی نہ پڑھے۔
  2. جہال کے درمیان عالم۔
  3. قراۤن لٹکا ہوا جس پر گرد و غبار جمع ہو چکا ہو۔
اور دوسری حدیث نبوی میں عالم کی جگہ عترت کا ذکر ہے، قراۤن
کہے گا اے اللہ! انہوں نے مجھے جلایا تھا اور پھاڑا، مسجد کہے گی انہوں نے مجھے معطل
کیا تھا اور ضائع کیا تھا اور عترت کہے گی انہوں نے ہمیں قتل کیا تھا، جلاوطن کیا تھا
اور گھروں سےنکال دیا تھا، پس میں زانوؤں کے
بل خصومت کےلئے بیٹھوں گا تو خدا فرمائے گا اس خصومت کے لئے میں خود سزاوار تر ہوں۔
مروی ہے کہ غیر مسجد میں باجماعت نماز  سے مسجد کی فرادی نماز اٖفضل ہے اور دوسری روایت میں ہے کہ جماعت افضل ہے، بہر
کیف مسجد  بھی ہو اور جماعت بھی ہو تو اس
کے افضل ہونے میں کوئی شک ہی نہیں ہے۔ 
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا جو شخص پہلے مسجد میں
موجود ہو اور اذان سن کر باہر نکل جائے تو وہ منافق ہے مگر یہ کہ پلٹنے کا ارادہ
رکھتا ہو۔


آداب مسجد

  1. مسجد میں با طہارت
    داخل ہونا چاہیے جیسے بعض احادیث کے مضمون سے معلوم ہو چکاہے
  2. خوشبو لگا نا
  3. اچھا لباس پہن کر مسجد میں جانا مستحب ہے، چنانچہ امام زین العابدین علیہ
    السلام ٹھنڈی راتوں میں بھی اسی طرح تیاری سے مسجد نبوی میں جاتے تھے 
  4. مسجد میں
    جھاڑو دینا مستحب ہے، حضرت رسالت مآبﷺ نے
    فرمایا جو جمعرات کو مسجد میں جھاڑو دے اور آنکھ میں ڈالنے کے برابر بھی خس و خاشاک نکالے تو خدا اس کے گناہ بخش دیتا ہ،ے نیز آپ
    نے فرمایا جو مسجد میں جھاڑو دے اس کو ایک
    غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے، نیز ایک روایت میں آپ نے فرمایا جو شخص مسجد سے اس قدر
    خس و خاشاک نکالے جو آنکھ کو چندھا دینے  میں کافی ہوتاہے تو خدا اس کے لئے
    اپنی رحمت کے دو کفل معین فرمادیتا ہے۔
  5. مسجد میں چراغ جلانا، حضرت رسالت مآبﷺ نے فرمایاکہ جو شخص
    مسجد میں چراغ روشن کرے تو فرشتے اور حاملین عرش اس کے لئے استغفار کرتے رہیں گے جب
    تک کہ اس چراغ کی روشنی مسجد میں رہے گی۔
  6. امام جعفر صادق علیہ اسلام  نے فرمایا مسجد میں داخل ہو تو پہلے دایاں پاؤں
    داخل کرے اور باہر نکلتے ہوئے پہلےبائیں پاؤں 
    سے ابتداکرے۔
  7. مسجد میں درود شریف پڑھ کر داخل ہو اور قبلہ رخ بیٹھ کر
    حمد وثنا بجا لائے۔
  8. ہر مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت نماز تحیہ مسجد پڑھنا مستحب
    ہے۔
  9. حضورﷺ نے فرمایا مسجد قراۤن کے لئے ہے شعر خوانی کےلئے نہیں ہے اگر کوئی شخص شعر پڑھتے ہوئے
    مسجد میں سنو تو اس کو ٹوک دو۔
  10. آپ نے فرمایا آخر زمانہ میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو
    مساجد میں حلقہ باندھ کر دنیاوی باتیں کریں گے پس ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا
    چھوڑ دو کیونکہ خدا کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے۔
  11. مسجد کے کنگرے مینار اور نقش نگار  ممنوع ہیں اور حضرت امام محمد باقر علیہ
    السلام  نے ایک حدیث طویل میں فرمایا جب
    حضرت قائم آل محمدؑ تشریف لائیں گے تو کنگرے مینار گرا دیں گے۔
  12. مسجد کے قبلہ میں آیات قراۤنی و ذکر سبحانی کی کتابت میں
    کوئی حرج نہیں۔ 
  13. مسجد میں دنیاوی کاروبار کرنا مکروہ ہے۔
  14. مسجد میں منہ ناک وغیرہ کی غلاظت ڈالنا مکروہ ہے۔
  15. پیاز و تھوم وغیرہ کی بدبو منہ میں لے کر مسجد میں جانا
    مکروہ ہے۔
  16. مسجد میں خرید و فروخت کرنا، فیصلے کرنا،  آواز بلند کرنا، لغو و باطل کی گفتگو اور گم شدہ
    چیز کا اعلان مکروہ ہیں۔
  17. وہ بچے جن کو طہارت کا پتہ نہ ہو اور اسی طرح دیوانوں کو
    مسجد میں ٹہرانا مکروہ ہے۔
  18. ناف سے زانووں تک کا حصہ مسجد میں داخل ہونے والے کا مستور
    ہونا چاہیے۔
  19. جنبی، حائض اور نفاس والی عورت کا مسجد میں ٹھرنا ممنوع
    ہے، البتہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے علاوہ باقی مساجد سے گذر جانا ان کے لئے
    جائز ہے۔  
  20. جنبی انسان مسجد میں کوئی چیز
    رکھ نہیں سکتا لیکن وہاں سے حسب ضرورت چیز اٹھا سکتا ہے۔
  21. نوافل گھر میں پڑھنا مستحب ہے اور فرائض مسجد میں ادا
    کرنا زیادہ ثواب کا موجب ہے۔
  22. عورت کے لئے اپنا گھر مسجد ہے  پس اس کے لئے گھر میں نماز ادا کرنے کا وہی 
  23. ثواب ہے  جو مرد کے لئے مسجد میں مقررہے۔

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *