اعمالنامہ

اعمالنامہ

بروز محشر ہر شخص کا
اعمالنامہ بطور گواہی وتصدیق کے اس کو دیاجائیگا 
اور انسان دیکھ کر حیرانہوگاکہ اس میں کوئی چھوٹی سےچھوٹ نیکی  یابرائی بھی نظر انداز نہیں کی گئی اور سخت
تاریکی یاتنہائی کے مقام پرکی گئی نیکی یابرائی کا بھی اس میں اندراج  ہوگا پس جن لوگوں کو اعمالنانے بائیں ہاتھ میں
ملیں گے وہ انکی کامیابی کی نشانی ہوگی پس 
وہ جنت کی طرف جائیں اور جن کواعمال نامے بائیں ہاتھ میں ملیں گے  یہ انکیناکامی کی دلیل ہوگی  اور وہجہنم میں داخل ہوں گے  اور مروی ہے کہ مومن کے اعمالنامے  کےسرانامے پر ولاء وعلؑی بن ابی طالب تحریر
ہوگی  اور لوگوں کا بلاوا اپنے اپنے  امام کے نام 
سے ہوگا چنانچہ جو امت جس امام کیپیرو کار تھی  وہ اس کے پیچھے  اور اسکے نام سے محشور ہوگی

Similar Posts

  • صدق

    صدق یعنی سچائی  اور اس کے تین مراحل ہیں نیت  میں سچائی  قول میں سچائی اور عمل میں سچائی  اور پوراسچاانسان وہہے جو تینوں مراحل میں صادق ہو  کیونکہ نیت میں سچائی ہوگی تو منافقت  سے بچ جائے گا قول میں سچائی ہوگی تو جھوٹ سے بچ جائے گا اور عمل میں سچائی ہوگی توخدا…

  • خوف و رجا

    بکثرت احادیث محمدؐ و آل محمد علیہم السلام سے وارد ہیں کہ مومن کا یمان خوف اور رجا کے دونوں پہلوؤں میں ہوتا ہے پس مومن وہ ہے جس کے دل میں جس قدر خوف خدا ہو اسی قدر امید رحمت بھی ہو اگر دل میں خوف ہو اور امید رحمت نہ ہو تب بھی…

  • بخل

    اس کے متعلق قرآن مجید میں ارشاد ہے : الزین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ فبشرھم بعذاب الیم: وہ لوگ جو سونے اور چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور ان کو راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سناؤ۔ دوسرے مقام پر ارشاد ہے : لاتحسبن…

  • شفاعت

     بروز محشر محؐمد  وآل محؐمد  کےلئے حق شفاعت  ہے اور وہ گنہگاروں کے حق میں سفارش کریں گے آپ نے فرمایا بروز محشر تین قسم کےلوگ شفاعت کریں گے  انبیاء علماء اور شہداء  اور آپ نے فرمایا جو شخص میری شفاعت پر ایمان نہیں رکھتا خدا اس کو میری شفاعت نصیب نہکرے  حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  سے منقول ہے  جو شخص…

  • علماء کی طرف رجوع

    علماء کی طرف رجوع ابتداً عرض کیا جا چکا ہے کہ عقل اگرچہ صفات کی اچھائی و برائی کو سمجھتی ہے کیونکہ مذہب امامیہ میں اشیاء کا حسن اور قبح عقلی ہے یعنی مستحسن چیز کو عقل اچھا کہتی ہے اور قبیح چیز کو عقل قبیح اور برا کہتی ہے گویا چیزوں کی اچھائی یا…

  • درگذرکرنا

    درگذرکرنا یہ صفت  انتقام  کے بدلہ میں ہے  اس کا مقصد  یہ ہے کہ انتقام  لینے کے بجائے انسان  کو چاہیے  کہ خطاکار  سے درگذر  کرکے اسے معافی دیدے اور بدلہ لینے کی قدرت رکھنے کے باوجود اس کے جرم کو دامن عفو  میں جگہ دیدے حضرت رسالتمآب  کا ارشاد ہے کہ بادشاہوں  کا درگزر…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *