”اِیَّاکَ نَستَعِینُ“ اور شیعی عقیدہ
”اِیَّاکَ نَستَعِینُ“ اور شیعی عقیدہ
نَستَعِین کا مطلب ہے اے اللہ! ہم صرف تجھ سے مدد چاہتے ہیں
لہذا آئمہ طاہرین سے مدد طلب کرنا اور ان کو خطاب کرکے پکارنا اس آیت کے صریح منافی ہے لہذا
ناجائز بلکہ کفر ہے؟
خداوندکریم نے امر، خلق، رزق،موت، حیات وغیرہ کے تمام معاملات محمد وآلِ محمد کے سپرد کردیئے ہیں پس وہی پیدا کرتے ہیں اور ما رتے ہیں اور وہی خلائق کو
رزق دیتے ہیں اور خدا اپنے مقام میں بےکارسا رہ گیا ہے-
سے افضل اور کل مخلوق کا سردار بنایا پس یہ لوگ اللہ تک رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ
ہیں جس طرح احکام خدا کے ہم تک پہنچانے کےلئے وہ مامور من اللہ ہیں اسی طرح ہماری
دعا و مناجات کی قبولیت کا بھی وہی وسیلہ ہیں-
رکھا جائے تو اس سے کفر وشرک لازم آتا ہے اور آئمہ معصومینکی طرف سے اس عقیدہ فاسدہ کی پر زور تردید کی گئی ہے جیسا کہ کتاب ہذاکی جلد
اوّل یعنی مقدمہ تفسیر [1] میں عقلی و نقلی طریقہ سے اس کو بالکل باطل کیا گیا ہے اور
اگر حضرات محمد وآلِ محمد کو وسیلہ قرار دے کر ان کو
پکارا جائے اور مدد طلب کی جائے تو جائز اور موجب نصرتِ خدا ہے اور اس بارے میں
اہل بیت عصمت سے جوآثار و روایات منقول ہیں حد تواتر سے زیادہ ہیں-
بن قیس ہلالی جناب رسالتمآب ﷺسے منقول ہے جس میں اہل بیت عصمت کے متعلق یہ
الفاظ صراحت سے موجود ہیں (وہ قرآن کے ساتھ ہوں گے اور قرآن ان کے ساتھ ہو گا قرآن
ان کو نہ چھوڑے گا اور وہ قرآن کو نہ چھوڑیں گے میری امت پر اللہ کی مدد انہی کے
ذریعہ سے نازل ہوگی انہی کے ذریعہ سے مینہ برسے گا اور انہی کے وسیلہ سے مصائب دور
ہو گے اور انہی کے واسطہ سے دعا مستجاب ہوگی) اس کے بعد حضورﷺ نے بارہ اماموں کی تعداد بیان فرمائی اور نام بھی بتائے- [2]
پیش کی ہے اب اس مقام پر ادعیہ ماثورہ کے چند اقتباسات پیش کرنا چاہتا ہوں تاکہ یہ
مطلب صاف ہوجائے اور تعلیم آئمہ کے پیش نظر نظریات اور
اعتقادات میں سے صحیحہ و فاسدہ کا جائزہ لیاجاسکے-
