حضرت امام حسین کا بروقت اقدام | Hazrat imam hussain ka bar waqt iqdam| khilafat o malookiat
حضرت امام حسین علیہ السلام کے زمانہ میں جب اقتدار کی باگ ڈور یزید بن معاویہ نے سنبھالی تو یہ شخص چونکہ
اعلانیہ فاسق تھا اور سیاسی حکمرانوں میں یہ دستور پہلے سے چلا آرہا تھاکہ وہ اپنے آپ کو خلیفہ ونائب رسول بھی کہلاتے تھے اگر یہ سنت علی اور ان کے شیعوں نے ان کی دینی سربراہی کو کبھی قبول نہیں کیا لیکن عوام الناس کے لئے اقتدار اور دیں دونو ںکولازم و ملزوم ثابت کیا جا رہا تھااور جمہور اہل اسلام نے تعلیمات اسلامیہ کو ایسا کچکداربنا رکھا تھاکہ وہ ہر سلطان وقت کے احکام کواحکام خداوندی سمجھنے لگے تھے۔ اور ان کے خلاف آواز اٹھانا ان کے نزدیک دین کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کے مترادف تھا پس امام حسین علیہ السلام اس صورت حال سے پوری طرح واقف تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ ان حالات میں خاموشی رفتہ رفتہ دین اسلام کی ظاہری شکل کو بھ مسخ کر کے رہے گی اور باقی ماندہ صحابہ میں یہ جرات ہی نہ تھی کہ وہ خلیفہ کہلانے والے کے کردار کے خلاف لب کشائی کر سکیں پس امام حسین نے دین اسلام کی آبرو کی حفاظت کی خاطر آواز حق بلند کی اورحقیقی اسلام کا جھنڈہ بلند کر کے میدان میں نکل کھڑے ہوئے۔ یہ وہ زمان تھاجب معاویہ کے حکم سے ہر شھر و دیہات میں ہر تقریب کے موقعہ پر ہر جمعہ اور ہر عید کے خطبات میں بلکہ سبہی مجالس و محافل میں بھی حضرت علی اور ان کے شیعوں پر سب و شتم کی بوچھاڑ ہوتی تھی اور لوگ خوشنودی خدا سمجھ کر اور اسے دین کا اہم کردار سمجھ کر ثواب کے لئے بجالاتے تھے۔ اور یقیناً اگار ماام حسین علیہ السلام خاموش رہتے تو امت اسلامیہ خواب خرگوش سے بیدار نہ ہوسکتی ۔ اور یہی طرعقہ ہمیشہ کے لئے اسلام کا رکن بن جاتا۔
حضرت امام حسین علیہ السلام کی پہلی بدائے حق پراگرچہ نہت سوں نے ہاتھ بلند کئے اور کوفہ کی طرف سے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے نصرت کا وعدہ کیا اور ہر ممکن قربانی کی بعشکش کی لیکن وقت جوں جوں قریب آتا گیا دست تعاون بڑھانے والوں میں غیرمعمولی کمی واقع ہوتی گئی اسی دوران میں واقعات کی نزاکت کا جائزرہ لے کر یزید نے عبیداللہ بن زیاد کو کوفے کی گورنری کا عہدہ دیا۔ اس نے دارالامارہ کفہ پر قبضہ جماکر جامع مسجد کو فہ میں ایک تہدید آمیز خطبہ دیا تو جن لوگوں نے اس کے باپ
“ولدالحرام” کی گورنری کے دوران میں کوفہ کے شیعان علی پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹتے دیکھے تھے وہ ان کا تصورکر کے لرز اٹھے پس امام حسین علیہ اسلام کے ساتھ وفاداری کا عہد توڑ کرحکومت وقت کے ہمنوا ہوگئے اور مذہب اقتدار کو قبول کر کے ظلم واستبداد کی چکی میں لینے سے بچاؤ کاسامان مہیا کر بیٹھے۔
حضرت امام حسین علیہ السلام نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے لئے اگر یہ اقدام کیا ہوتا تو یقین ًبدلے ہوئے حالات میں وہ بھی ہاتھ پر ہاتھ دھر کے بیٹھ جاتے اور حکومت وقت کو اپنی وفاداری کی یقین دہانی کر ادیتے لیکن وہ چونکہ وہ حق و باطل دین و سیاست بلکہ امامت اور جمھوری اقتدار کے درمیان امتیاز کا ایک مضبوط حصار تعمیر کرنا چاہتے تھے تاکہ خلافت نبویہ کے نام سے موسوم ہونے والی حکومتوں کے زیرسایہ روز افزوں بد سے بدتر ہونے والے حالات میں دین اسلام شاہان وقت کا کھلونا نہ بن جائے وہ چاہتے تھے کہ لوگوں کو ایک مرتبہ اس بات کی سمجھ آجائے کہ دین ایک چیز ہے اور اقتدار الگ چیز ہے اور ملوکیت اور چیز ہے۔
جناب رسالت مآب کے بعد سے اب تک مسلمان اسلامی تعلیمات سے تدریجاً بیگانہ ہوتے بہت دور نکل چکے تھے اور اقتدار کے سائے میں اپنی کھوئی ہوئی دولت اسلام اور اخلاق وکردار کی پاکیز گی کے فقدان کے احساس سے بھی وہ غافل ہو چکے تھے اب ان کو اس طویل غفلت سے متنبہ کرنے اور بے حسی کی گہری نیندسے جگانے کے لئے ایک بہت بڑے دھماکے کی ضرورت تھی پس امام حسین علیہ السلام کا بالکل قلیل جماعت کے ساتھ خراسان سے لے کر شمالی افریقہ تک اور عدن سے لے کر اندلس تک کی لمبی چوڑی مملکت کے مطلق العنان حکمران کوللکارنا اوران کے خلاف علم بلند کرنا ایک بہت بڑا کارنامہ تھا جس نے مسمانوں کو بالعموم حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے کے لئے دعوت فکر دی اور واقعہ شہادت کے بعد خاندان رسالت کی دربدر تشہیر نے اس تحریک کو مزید کامیابی سے ہمکنار کر دیا اور ایک بار خواب رفتہ ملت کو ان واقعات و حالات نے جنجھوڑ جنجھوڑ کر جگا دیا اور اس وقت تک جن لوگوں نے امامت اور ملوکیت کے درمیان فرق معلوم کرنے کی کوشش نہ کی تھی یا نہ کرسکے تھے وہ اس واقعہ عٰظمی کے بعد سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون اور امامت کیا چیز ہے اور جمہوریت کیا ہے؟اور مودودی صاحب نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے جیسا کہ سنہ 26 پر خلافت و ملوکیت کے سنہ211 کے حوالہ سے گذر چکا ہے ۔
اوراس میں شک نہیں کہ واقعہ کربلا کے بعد آنے والی حکومتوں کے دلوں میں بھی یہ احساس شدت سے پیدا ہوتا رہا کہ شیعان علی کا مسلک جھمور ا بل اسلام کے مسلک سے الگ ہے اور ان کے عقیدہ میں امامت الگ چیز ہے اور جمہوریت سے قائم ہونے والی خلافت الگ چیز ہے اور انہیں یہ بات روز روشن کی طرح معلوم ہو گی کہ ان کے نزدیک دینی قیادت کی علمبردارا مامت ہے اور سیاسی قیادت کی علمبردار حکومت وقت ہے اور یہ کہ سیاسی قیادت اگر دینی قیادت کو اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرے تو وہ سر دھڑ کی بازی لگاکر اپنی دینی قیات کی استقلالی حیثیت کو ختم ہرگز نہین ہونے دیتے اور نہ وہ جہمور اہل اسلام میں جزب ہونا جانتے ہیں جن کا مزہب اقتدار کے تابع ہو بلکہ شیعان علی وہ ہین جو اقتدار کو مزہب پر قربان کرنا جانتے ہیں لیکن کسی قیمت پر مزہب لو اقتدار کی بھیٹ نہیں چڑھاسکتے۔
اوریہ امر حقیقت ہے کہ واقعہ کربلا تاریخ اسلام میں ایسا ذبردست المیہ تھا جس پر بعد میں پردہ ڈالنا کسی حکامت کے بس میں نہ رہا جہاں ساکاری حکم کے ساتھ ہر مجلس و وعظ میں حضرت علی ان کی اولاد اور ان کے شیعوں پر سب و شتم ایک سنت بن چکا تھا وہاں اس واقعہ کے بعد لوگ سوچنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ حق پر کون تھا اور باطل پر کونَ اور یہ کہ اسلام صرف برسراقتدار پارٹی کے ہاں میں ہاں ملانے کا نام ہے۔ یا اس کی استقلالی حیثیت کچھ اور بھی ہےَ اور سچ ہے کہ جہمور اہل اسلام کے دانشور طبقہ کی بھی اس واقعہ کے بعد آنکھ کھلی کہ خلافت کچھ اور ہے اور اقتدار کچھ اور ہے چناچہ انہوں نے یہاں پہنچ کر قیادت کو دو حصوں میں تقسیم کردیا کہ دینی قیادت الگ ہے اور سیاسی قیادت الگ ہے جیسا کہ مودودی صاحب نے ظاہر کیا ہے۔
سلاطین سے بے نیازی اور ان کے قہر و غحب کے مقابلہ میں ثابت قدمی مسلمانوں کے اندر دینی قیادت کی اہلیت کا معیار بن گئی تھی۔ اس معیار سے ہٹ کر اگر کوئی اللہ کا بنکہ چلا تو قوم بڑی کڑی نگاہوں سے اس کا جائزہ لیتی رہی اور اس کی بزرگی کو اس نے صرف اس وقت تسلیم کیا جب سلطان کے قریب جاکر بھی اس نے دین کے معاملہ میں کوئی مصالحت نہ کی سن 303
اور آگے چل کر لکھتے ہیں اسی طرح پہلی صدی کے وسط ہی سے دینی قیادت کا راستہ سیاسی قیادت کے راستے سے الگ ہوچکا تھا۔
بہر حال شیعانِ علی تو پہلے دن سے ہی دینی قیادت اور سیاسی قیادت کے دوراستوں میں فرق معلوم کر چکے تھے لیکن اکثریت اقتدار کی رو میں بہ نکلی اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت عظمیٰ نے جہاں شیعانِ علی کے ایمان میں جلائے نو بخشی اور انہیں باطل کے سامنے دبنے کے بجائے ابھرنا سکھایا اور حق پر جم کر ثابت قدمی اور موت کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر خود اعتمادی کا جذبہ تعلیم کیا وہاں جہموراہل اسلام کو بھی دعوت فکر دی کہ دینی قیادت اور سیاسی قیادت دو رستے ہیں بلکہ پورے اویان عالم کے سربراہوں کے لئے باطل سے ٹکر لینے کی راہیں ہموار کردیں یا یوں سمجھئے کہ پہری انسانیت کو انسان نما درندوں کی سخت گرفت سے بچنے کے لئے قربانیاں دے کر اور مظالم برداشت دہی کی جو رہتی دنیا تک انسانیت سے خراج تحسین لیتی رہے گی۔

%20(15).jpg)
Leave a Reply