anwarulnajaf.com

خدا اور رسول مشرکین سے بری ہیں

بَرَاءةٌ مِّنَ اللّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدتُّم مِّنَ
الْمُشْرِكِينَ {التوبة/1}
بیزاری اللہ اور اس کے رسول
کی طرف ان کے جن سے تونے عہد کیاتھا مشرکین میں 
سے 
 براۃ من اللہ    یعنی خداور رسول کا ذمہ مشرکین سےبری ہے ان
سےجن سے عہد کیا جاچکا ہے  تو  یہاں ایک سوال پیدا ہو تاہےکہ عہد شکنی کو اس
مقام پر کیوں روا رکھا گیا ہے حالانکہ عہد کی وفاواجب ہواکرتی ہے تو اس کا جواب یہ
ہےکہ
تین صورتوں میں عہد کا توڑنا جائز ہوا کرتاہے 
جب کہ عہد مشروط ہو مثلا یہ کہاجائے 
کہ ہمارے درمیان عہد اس وقت تک ہے جب تک 
کہ خدابزریعہ  وحی  اس کو اٹھا نہ دے  مشرکین 
کی جانب سے خیانت اور عہد شکنی کی ابتداہو چکی ہو  عہد کی مدت مقرر ہو اور تفسیر مجمع البیان میں
ہے کہ روایت میں ہے حضور نے مشرکین کے ساتھ عہد مشروط کیا تھ ااور نیز یہ بھی مروہ
ہےکہ مشرکین نے  عہد شکنی کی ابتدا کی تھی
یایہ کہ وہ عہد شکنی  کا ارادہ رکھتے  تھے پس خداوند کریم  نےسورہ برات نازل فرمادی
فَسِيحُواْ فِي الأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَاعْلَمُواْ أَنَّكُمْ
غَيْرُ مُعْجِزِي اللّهِ وَأَنَّ اللّهَ مُخْزِي الْكَافِرِينَ {التوبة/2}

پس چل
پھر  لو زمین میں  چار مہینے اور جانو کہ تحقیق تم نہیں عاجز کرنے
والے  اللہ کو اور تحقیق اللہ  رسواکرنے والا ہے کافروں کو 

فسیحو افی الارض    یعنی
چار ماہ تک کی مدت یعنی   10 
ذلحجہ سے  10   ربیع الثانی تک  تم زمین میں بامن وامان چلو پھرو اس میعاد کے
گذرنے  کے بعد مسلمان  پر تمہارا خون مباح ہوگا اور بعضوں نے کہا ہے
کہ اس سال حج   10  ذوالقعدہ کو تھی اور یہی قربانی  کا دن تھا 
لہذا چار ماہ کی مدت    10 ربیع
الاول تک تھی اور دوسرے سال حجۃ الوداع کے موقع پر  10 ذی الحجہ قربانی کا دن مقرر ہوا مجمع البیان 


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *