رافع بن عبداللہ
آیا، روز عاشور جب لڑائی کی آگ گرم ہوئی تو اس کا آقا مسلم حملہ اولیٰ میں شہید
ہو گیا اور یہ خود بعد از ظہر جنگ کر کے ایک کثیر جماعت کو فی النار کرنے کے بعد
کثیربن شہاب تمیمی اور مخضر بن اوس اجنبی کے ہاتھوں درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
اس نے جناب زینب عالیہ کے بدن پر تازیانہ مارا تھا، پس اس کو ہزار تازیانہ مروا کر داخل آگ کیا گیا کہ وہ جہنم میں پہنچ گیا۔
زیارت ناحیہ و رجبیہ میں اس پر سلام وار دہے اس کا باپ قرظہ صحابی رسول تھا، جنگ احد اور اس کے بعد جتنی جنگیں ہوئیں ان سب میں شریک تھا بعد میں کوفہ میں سکونت اختیار کر لی، پھر جنگ جمل صفین و نہروان میں حضرت علی ؑ کی رکابِ ظفر انتساب میں شامل…
علمائے رِجال نے ذکر کیا ہے کہ یہ بزرگوار جناب رسالتمآب کی صحابیت کا شرف بھی رکھتے تھے اور کربلا میں ان کے ساتھ ان کا چچازاد ربیعہ بن خوط بھی آیا تھا اور وہ بھی صحابی رسول تھا۔۔ چنانچہ بعد میں اس کا ذکر بھی آجائے گا۔۔ یہ بزرگوار حضرت امیر ؑ کے خاص…
ان کے نام تفصیل وار نہیں ملے۔۔۔ یہ چاروں معاویہ کی فوج میں تھے، انہیں اپنی جوان کنواری بہن کے حاملہ ہونے کا شک ہوا۔۔۔ پس انہوں نے حضرت امیر ؑ کے سامنے معاملہ پیش کیا تو آنحضرت ؑ نے باعجازِ امامت اس کے شکم سے ایک آبی جانور کو نکالا پس یہ چاروں بھائی…
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے، اُمّ البنین کا لخت جگر حضرت ابوالفضل عباس کا یک مادری بھائی تھا، واقعہ کربلا میں اس کی عمر ۳۱ برس تھی، عثمان بن مظعون صحابی رسول کی وفات کے بعد امیر ؑ نے اپنے فرزند کا نام عثمان انہی کی یاد میں رکھا تھا؟ مروی ہے…
زیارت ناحیہ اور رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے، یہ شخص بصرہ کا رہنے والا ہے حملہ اولیٰ میں شہید ہوا ،بصرہ سے چند شیعہ امام حسین ؑ سے مکہ میں جا ملے تھے منجملہ ان کے یہ شخص اور اس کا غلام سالم بھی تھا جس کا ذکر گزر چکا ہے۔