راہِ خدامیں خرچ
ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہ لَہااَضْعَافًا
کَثِیْرَةً وَاللّٰہُ یَقْبِضُ وَیَبْصُطُس وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ(245)
گنا زیادہ اور اللہ ہی تنگی اورفراخی عطاکرتا ہے اوراسی کی طرف تمہاری بازگشت ہے o
مجمع البیان میں آیت مجیدہ کا شانِ نزول یوں مروی ہے کہ جنا ب رسالتمآب نے صدقہ کا
ثواب بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ جوشخص صدقہ دے اس کو جنت میں اس کادگنا عطاہوگا
تو ایک شخص ابوالدحداح انصاری نے عرض کیا یارسول اللہ! میرے دوباغ ہیں اگر ان میں
سے ایک کو صدقہ میں دے دوں تو کیا جنت میں مجھے اس کادگناملے گا؟ فرمایا ہاں اس نے
عرض کیا کہ میرے بیوی بچے بھی میرے ہمراہ ہوں گے؟ فرمایاہاں پس اس نے ان دوباغوں
میں سے بہترین باغ بطور صدقہ کے جناب رسالتمآب کے حوالہ کردیا (مستحقین پر تقسیم
کرنے کے لئے) تو یہ آیت نازل ہوئی جب ابوالدحداح واپس آیا تو اس کے بیوی بچے اسی
باغ میں گئے ہوئے تھے جس کو وہ صدقہ میں دے چکا تھا فوراً باغ کے دروازہ پر کھڑے
ہوکر اپنی بیوی کوبلایا اورکہاکہ میں نے یہ باغ صدقہ میں دے دیا ہے اوراس کے بدلہ
میں باغ جنت خرید لیا ہے جس میں میرے بیوی بچے بھی میرے ہمراہ ہوں گے اس نیک بخت
بیوی نے جواب دیا خداتیرے سودا کو مبارک کرے پس وہ سب اس باغ سے نکل آئے اورباغ
حضور کے حوالہ کردیا۔
نازل ہوئی مَنْ جَائَ بِالْحَسَنَةِ فَلَہُ خَیْر مِّنْھَا یعنی جو نیکی کرے پس اس
کو اس کی بہتر جزا ملے گی تو جناب رسالتمآب نے عرض کیا اے پروردگار! اورزیادہ عطا
فرما، پس یہ آیت نازل ہوئی مَنْ جَائَ بِالْحَسَنَةِ فَلَہُ عَشْرُاَمْثَالِھَا
یعنی جو نیکی کرے گا اس کو اس کی دس گناجزا ملے گی، آپ نے عرض کیا اے پر وردگار!
اس سے بھی زیادہ عطا فرما پس یہ آیت مجیدہ نازل ہوئی کہ مَنْ ذَا الَّذِی جو بھی
اللہ کو قرض دے یعنی راہ خدامیں صدقہ وخیرات کرے گا تو اس کو اس کی جزا بہت زیادہ
بڑھا کردی جائے گی، تو آپ نے فرمایا کہ بہت زیادہ کا مطلب ہے کہ اس کو اس کی جزا
اتنی ملے گی کہ حساب وشمار سے باہر ہوگی۔
السلام سے مروی ہے کہ صدقہ کی پانچ قسمیں ہیں:
گناثواب اوروہ صدقہ یہ ہے جو ایک فقیر مومن کو دیا جائے جس کے اعضا صحیح اورسالم
ہوں
۰۷گنا کا ثواب یہ وہ صدقہ ہے جو ایسے مومن کو دیا جائے جو خود کماکراپنے اخراجات
کو نبھانے سے عاجز ہو
ہے جو مومن فقیر رشتہ دارکو دیا جائے
گنا کا ثواب یہ وہ صد قہ ہے جو والدین پر کیا جائے (یاوالدین کےلئے کیا جائے)
لاکھ گنا کا ثواب اوریہ وہ صد قہ ہے جو مستحق مومن علم دین طلب کرنے والے کو دیا
جائے
کرنے کے متعلق وارد ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ذاتِ پر وردگار کی جانب سے
ارشاد ہوا کہ اگر کوئی بندہ نبی مصطفےٰ حضرت خاتم الانبیا کے نواسہ کی محبت میں
اپنے مال سے کسی کوکھانا کھلائے گا یا اس سلسلہ میں کوئی درہم یادینار خرچ کرے گا
تو:
یاعورت کی آنکھ سے عاشورا یاکسی اوردن میں اس کی مصیبت پر ایک قطرہ آنسوجاری ہوگا
تو اس کے نامہ اعمال میں ایک سوشہید کا ثواب درج کروں گا۔
