anwarulnajaf.com

روایات بطریق اھل بیتؑ

تفسیر برہان میں بروایت علی بن ابراہیم حضرت امام جعفر صادق
علیہ السلام سے منقول ہے  کہ سنہ 9ھ کو جب جناب رسالتمآبﷺ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو یہ آیتیں اُتریں اور حضورؐﷺ  نے جب مکہ فتح کیا تو مشرکین کو اس سال حج کرنے سے منع نہیں فرمایا تھا اور عربوں کا دستور  تھا کہ جو مکہ میں داخل ہو کر اپنے لباس میں طواف کرتا تھا پھر اس لباس کو صدقہ کر دیتا تھا اور
طواف کے بعد اس لباس کا پہننا وہ اچھا نہ سمجھتے تھے لہذا باہر سے اۤنے والے عاریۃ یا کرایہ پر بھی لباس لے لیا کرتے تھے اور اس میں طواف
کر کے مالک کو واپس لوٹا دیا کرتے تھے اور جس کوعاریۃ یا کرایہ پر لباس نہ مل سکتا تھا وہ
برہنہ طواف کیا کرتے تھے چنانچہ ایک حسین وجمیل نوجوان عورت مکہ میں بغرض طواف پہنچی  تو اس کو عاریۃ اور کرایہ پر لباس نہ مل سکا
اور اس کو کہا گیا کہ اگر تو نے اپنےلباس میں طواف کیا تو یہ لباس تجھے صدقہ کرنا
پڑے گا کہنے لگی میرے پاس کوئی دوسرا لباس تو ہے نہیں اس کو کیسے صدقہ کرسکتی ہوں؟ پس اس نے لباس اُتار کر برہنہ طواف کیا اور لوگ گردنیں اٹھاکر اس کو دیکھنے
لگے  تو اس نے اپنے آگے اور پیچھے پر ہاتھ
رکھ لئے اور اس مضمون کا اس نے شعر بھی پڑھا جب طواف سے فارغ  ہوئی تو لوگوں نے اس سے شادی کی خواہش کی لیکن اس نے صرف ایک بات کہہ کر سب کی
امنگوں  پر پانی پھیر دیا کہ میں شوہر دار
ہوں۔
سورہ برائت کے
نزول سے پیشتر حضورؐﷺ کا یہ دستور تھا کہ خود لڑائی کی ابتدا نہ
کرتے  تھے بلکہ صرف ان سے جہاد کرتے تھے جو
پہل کریں اور سورہ برائت میں قتل مشرکین کا عام حکم تھا لیکن حضورؐﷺ نے بعض لوگوں کے
ساتھ فتح مکہ کے موقعہ پر معاہدہ کیا تھا اب 
ان کو چار ماہ کی مدت دی گئی جو دسویں ذوالحجہ سے لے کر دسویں ربیع
الثانی تک تھی پس آپ نے سورہ برائت کی
آیتیں ابوبکر کو دے کر روانہ فرمایا چنانچہ مقام روحاء پر حضرت علیؑ نے ابوبکر  سے وہ آیات لے لیں اور ابوبکر واپس آ گیا  اور عرض کی کہ حضورؐ کیا میرے بارے میں کوئی
چیز اُتری ہے؟ تو آپ نے  فرمایا نہیں بلکہ خدانے مجھے حکم دیا ہے کہ میں
خود پہنچاؤں یا وہ شخص جو مجھ سے ہو
پہنچائے۔
 بروایت عیاشی امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ فتح  مکہ سن8ھ میں برائت سنہ9ھ میں اور حجۃ الوداع سنہ10ھ میں 
ہوئی اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ حضرت علیؑ نے
تلوار نیام سے نکال کر اعلان  فرمایا کہ
ائندہ کوئی مشرک حج نہ کرے اور کوئی برہنہ طواف 
نہ کرے اور جن کے عہد کی مدت مقرر ہے وہ اپنے مدت تک ہوگا اور جن کی مدت مقرر نہیں اب اس کی
مدت چار ماہ ہو گی  اس کے بعد اس کا قتل
حلال ہوگا۔صافی
 تفسیر مجمع البیان میں ہے حضرت علیؑ سے پوچھا گیا کہ آپ کس لئے بھیجے
گئے تھے؟ تو فرمایا چار چیزوں کے پہنچانے کے لئے:

  • کعبہ میں سوائے مومن کے کوئی داخل نہ ہو
  • بیت
    اللہ کا طواف عریاں ہو کر کوئی نہ کرے
  • اس سال کے بعد مومن و کافر مسجد الحرام میں
    جمع نہ ہوں گے
  • جس کے عہد کی مدت مقرر ہے
    وہی مدت رہے گی اور جس کی مدت مقرر نہیں اس کی چار ماہ مدت ہوگی

اور تفسیر برہان
میں ہے کہ مشرکین نے جواب دیاکہ ہم تیرے اور تیرے چچا زاد کے عہد سے بیزارہیں اور اب ہمارے
درمیان تلوار و نیزہ چلے گا اور اگر اۤپ چاہیں تو ہم خود ہی اس کی ابتداکریں گے تب
حضرت علی ؑنے فرمایا کہ

ا َنْتُمْ غَیْرُ مُعْجِرِی اللّٰہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے ہو الخ


نظر وفکر
 آل محمد کی تنقیص
ان کے دشمنوں کا محبوب ترین مشغلہ رہا ہے
حتی کہ کسی شخص کی عمومی مقبولیت کامعیار بھی عداوت آل محمد قرار پاگئی پس جس کسی
نے آل محمد کی مخالفت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا وہ علامہ بھی
کہلایا، پیر ومرشد بھی بنا اور امام کے لقب سے بھی نوازا گیا اور یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں جس جس مقام پر آل محمدؐ کی
مدح موجود ہے وہاں سستی شہرت کے خواہشمند اوربڑے بڑے القاب کے دلدادہ  حضرات نے آل محمدؐ پر زیادہ سے زیادہ
کیچڑ اچھالنے کی کوشش کی اور جہاں بھی آل محمدؐ کے اعداء کی تنقیص قرآن مجید  میں صراحۃ یا کنایہ موجود ہے وہاں ان ضمیر
فروش ملاؤں نے ان کی تاویلات کرکے کسی نہ کسی طریقہ سے ان کو فضائل کا لباس اوڑھانے
کی سعی نامسعود کی، لیکن بقول شاعر:
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھا یا نہ جائے گا
فضائل
آل محمد
 کو چھپانا ان لوگوں کے بس کا روگ
نہیں
 بلکہ خود ہی ان لوگوں کے قلم
بسا اوقات حق اگلنے پر مجبور ہو جایا کرتے ہیں اور حق بین نگاہیں باطل کے تہ بہ تہ
گہرے پردوں کے باوجود
 حقیقت کاسراغ لگا لیا کرتی ہیں جیساکہ سورہ برائت  کے متعلق
وارد شدہ روایات ببانگ دہل اس امر کی شاہد
 ہیں اور آل محمدؐکی صداقت کی اس سے زیادہ واضح دلیل اور کیا ہو گی کہ دشمن کا قلم بھی بے بس ہو کر دبے طریقہ سے ان کی فضیلت کا اعلان کر جاتا ہے ع  والفضل ماشھدت بہ الاعداء 

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *