anwarulnajaf.com

رکوع نمبر10 جنگ حنین کابیان

لَقَدْ
نَصَرَكُمُ اللّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ
كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الأَرْضُ بِمَا
رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ {التوبة/25}
ثُمَّ أَنَزلَ اللّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ
وَأَنزَلَ جُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا وَعذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَذَلِكَ جَزَاء
الْكَافِرِينَ {التوبة/26} 
ثُمَّ يَتُوبُ اللّهُ مِن بَعْدِ ذَلِكَ عَلَى مَن يَشَاء وَاللّهُ غَفُورٌ
رَّحِيمٌ
{التوبة/27}
تحقیق تمہاری مدد کی اللہ نے بہت مقامات پر اور حنین کے دن جب کہ ناز تھا تم کو اپنی کثرت کا تو اس نے نہ فائدہ دیا تم کو کچھ، اور تنگ ہو گئی تم پر زمین باوجود کشادگی کے پھر تم بھاگ گئے پشت دکھاتے ہوئے، پھر نازل کیا اللہ نے اپنا سکون اوپر اپنے رسول  کے اور
اوپر مومنوں
 کے اور اتاری فوج جو تم نے نہ دیکھی اور عذاب دیا ان کو جو
کافر تھے
 اور یہ بدلہ ہے کافروں کو، پھر
توبہ قبول کرتا ہے
 اس کے  بعد جس
کی چاہے (جو صاف نیت رکھتا ہو) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

لقد نصرکم اللہ: چونکہ
اس سے پہلے مومنوں پر ہجرت کے وجوب کی تاکید فرمائی کہ تمام محبتیں
 چھوڑ کر اللہ و رسول کی محبت کی طرف آ جاؤ اور اس
اۤیت میں اپنی نصرت کا تذکرہ فرما رہا ہے کہ باوجود تمہاری ظاہری کمزوریوں کے
خداوندکریم نے تم کو کیسی کامیابی اور کامرانی عطا فرمائی ہے؟ اور ایک دو نہیں بلکہ
بہت سے مقامات پر رحمت خدا نے تمہاری دستگیری کی پس اللہ کا رشتہ تمام رشتوں سے مفید
تر اور پائیدار ہے لہذا اس رشتہ کی خاطر تمام رشتوں سے بائیکاٹ قرین عقل اور ضروری ہے۔

مواطن کثیرۃ: صادقَین
علیہما السلام سے مروی ہے کہ ان کی تعداد اَسّی تھی، مروی ہے کہ ایک دفعہ متوکل عباسی
سخت بیمار ہوا تو اس نے منت مانی اگر خدا نے شفا دی تو مالِ کثیر خیرات کروں گا چنانچہ وہ
شفایاب ہوا تو علماء کو بلا کر مالِ کثیر کی
حد پوچھی انہوں نے اس کا جدا جدا معنی بتایا جس سے متوکل مطمئن نہ ہو سکا تو کسی  نے امام علی نقی علیہ السلام سے دریافت کرنے کا
مشورہ دیا اور اۤپ اس زمانہ میں متوکل کے ہاں قید تھے پس بذریعہ خط سوال کیا گیا
جس کے جواب میں امام علیہ السلام نے تحریر فرمایا کہ اَسّی درہم صدقہ کیا جائے جب اس کی دلیل طلب کی گئی تو آپ نے یہی آیت پڑھی اور فرمایا تاریخ سے معلوم
ہوا ہے کہ وہ مقامات اَسّی ہیں جن میں
مسلمانوں کی خداوند کریم نے غائبی نصرت کی ہے یاد رکھنا چاہیے کہ کثیر کا شرعی
اصطلاح میں 
معنی صرف اَسّی (80) نہیں ہے 
مثلًا کثیرُ الشک یا کثیرُ السفر کا
معنی یہ نہیں ہے  بلکہ مقصد یہ ہے کہ 
ایسے مقامات پر کثیر کا ایک معنی اَسّی بھی ہو سکتا ہے پس آپ نے اۤیت قراۤنی سے ایک مثال پیش کر دی اور اگر اَسّی سے زیادہ مراد لئے جائیں تو وہ بدرجہ اَولیٰ کثیر کا فرد بن
سکتے ہیں پس یوں سمجھئے  کہ یہ معنی کثیر کے
معنی عمومی کا ایک فرد ہے۔

و یوم حنین:  اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد اۤٹھ ہزار سے بارہ ہزار تک منقول ہے اور حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔

و علی المومنین: ان
سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت رسالت ماۤبؐ  کے ساتھ ثابت قدم رہے ایک قدم  رہے ایک ان میں حضرت علیؑ اور چند اۤدمی  بنی ہاشم
سے تھے۔

واقعہ کی تفصیل
سنہ 8ھ میں فتح  مکہ کے بعد ماہ رمضان کے اۤخر
یا شوال کی ابتداء  میں  حضور نے بمعہ صحابہ کے حنین کا رخ کیا قبیلہ ہوازن اور قبیلہ ثقیف سے جہاد کرنے کے لئے جب ان لوگوں کو معلوم ہوا تو قبیلہ ہوازن کے سردار لوگ مالک بن عوف نضری کے پاس جمع ہوئے اور اس کو اپنا سردار مقرر کیا اور مسلح ہو کر اپنی پوری جمعیت کے ساتھ
روانہ  ہوئے مال و متاع بچے اور عورتیں سب کو ساتھ لے لیا یہاں تک کہ مقام اوطاس میں  نازل ہوئے قوم جشم کا سردار ورید بن صمہ بھی ان میں تھا اور وہ کافی سن رسیدہ  ہونے 
کے علاوہ نابینا بھی تھا اس
نے پوچھاکہ اب ہم کہاں پہنچے ہیں تو اس کو جواب دیا گیا کہ مقام
وادی اوطاس ہے اس نے کہا خوب جگہ ہے نہ زیادہ سخت ہے اور نہ بہت نرم ہے اس میں گھوڑے خوب دوڑ سکتے ہیں لیکن میں اونٹوں گدھوں بیلوں بکریوں اور بچوں کی آوازیں سن رہا ہوں یہ کیا معاملہ ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ
مالک بن عوف کے حکم سے بال بچے عورتیں اور مال مویشی سب ہمراہ ہیں تاکہ لوگ اپنے مال و ناموس کی غیرت سے خوب جم کر لڑیں ورید نے کہا رب کعبہ کی قسم یہ شخص صرف گڈریا ہی ثابت ہوا ہے اس
کو میرے پاس لاؤ چنانچہ جب وہ آیا تو اس کو ورید نے کہا تو کس قوم کا رئیس ہے؟ فالتو قوم کو کہیں محفوظ مقام پر بھیج دو اور صرف جنگی مردوں کو گھوڑوں کی
پشت پر ڈال کر بلا خوف جنگ کرو یہاں صرف
مرد میدان تلوار اور کھوڑوں کی ضرورت ہے اگر تمہاری فتح ہوئی تو باقی قوم
خود بخود مل جائے گی  اور اگر کوئی  دوسری بات ہو تو بچوں اور ناموس کی ذلت 
تو نہ ہو گی مالک نے ورید کا مشورہ سن کر جواب دیا کہ تو بوڑھا ہو گیا ہے اور تیرا دماغ خراب ہے میں نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے۔
ادھر جناب رسالت ماۤبؐ کو قبیلہ ہوازن کا وادی اوطاس میں پہنچنا معلوم ہو گا تو اۤپ نے قبائل کو جمع کر کے ان کو جہاد کی ترغیب دی اور نصرت
کا وعدہ دیا کہ اللہ کا وعدہ ہے ان کی عورتیں بچے اور اموال سب غنیمت ہوں گے چنانچہ لوگ اپنے اپنے جھنڈے  بلند کر کے نکلے حضور نے فوج کا علم  حضرت علی علیہ السلام کے حوالہ کیا اور مکہ میں
پندرہ دن کے قیام کے بعد آپ روانہ ہوئے
تھے صفوان ابن امیہ سے ایک سوز رہ عاریتہ لی تھی اور صفوان خود بھی ہمراہ تھا 
فتح  مکہ کے نتیجے  میں جو لوگ مسلمان  ہوئے تھے ان میں سے  بھی دو ہزار مجاہد ہمراہ
تھے اور دس ہزار  مجاہد ہمراہ تھے اور دس ہزار مسلمان پہلے سے حضور کے ہم رکاب تھے پس کل بارہ ہزار کی تعداد میں روانہ ہوئے بروایت امام محمد باقر علیہ السلام تازہ  ملنے والوں میں سے  ایک ہزار اۤدمی بنی سلیم 
کا تھا جنکا سردار عباس بن مرواس
تھا اور ایک ہزار اۤدمی بنی مزینہ کا تھا
ادھر مالک  بن عوف نے  اپنی فوج میں اعلان کیا کہ ہر سپاہی اپنے بیوی بچوں اور مال کو اپنی پیٹھ کے پیچھے رکھے اور تلواروں کے نیام توڑ ڈالو اور اس وادی میں مورچے خوب جما کر بیٹھ جاؤ اور صبح کی
تاریکی میں  یکبارگی حملہ کر دو کیونکہ محمد نے ابھی جنگجو بہادروں کا منہ نہیں دیکھا۔
جناب رسالتماۤب نے صبح 
کی نماز ادا کی اور وادی میں اُترے ہی تھے کہ ہر طرف سے قبیلہ ہوازن کی فوج نے احاطہ میں لے لیا اور گھمسان کی لڑائی شروع
ہو گئی پس مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے سب سے آگے 
بنی سلیم تھے اور وہ بھاگ کھڑے
ہوئے  تو پھر سارا لشکر تتر بتر ہوگیا اس موقعہ پر چونکہ مسلمانوں کو اپنی کثرت کا
ناز تھا جس کو خدا نے توڑ دیا صرف  حضرت
علیؑ بچ گئے  جو برابر دادِ شجاعت لے رہے تھے عباس بن عبدالمطلب نے حضور کی سواری کی لگام تھامی ہوئی تھی فضل بن عباس اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب آپ کے دائیں بائیں تھے غرضیکہ نو تَن بنی ہاشم تھے اور دسواں اُمّ اَیمن کا لڑکا اَیمن تھا جو شہید ہو گیا۔
ادھر جناب رسالت
ماۤبؐ  خود آوازیں دے رہے تھے کہ اے انصار تم کہاں جا رہے ہو؟ میں رسول خدا یہ موجود ہوں لیکن اب کون سنتا تھا کہتے ہیں قبیلہ مازن کی ایک عورت جسکا نام نسیبہ بنت کعب تھا وہ  بھاگنے والوں کے منہ پر مٹی ڈالتی اور کہتی تھی
کہ خدا و رسول کو چھوڑ کر کہاں  بھاگے جا رہے ہو؟ اتنے  میں اس کے قریب سے حضرت عمر کا گزر ہوا تو کہنے لگی تم  پر وائے ہو 
کیا کر رہے  ہو؟ تو انہوں نے جواب
دیا تقدیر ایسی تھی جب رسول خدا نے لوگوں کی پسپائی دیکھی تو اپنی سواری کو حضرت
علیؑ کے قریب لے  گئے 
اور عباس کو حکم دیاکہ  اس چھوٹے سے
ٹیلے  پر بلند ہو کر آواز دو کیوں کہ عباس
کا آواز بلند تھا  پس انہوں نے بآواز
بلند صدا دی اے اصحاب شجرہ کہاں بھاگے جا رہے ہو یہ رسولؐ خدا موجود ہیں پھر حضور نے ابوسفیان بن حارث کو فرمایا مجھے سنگریزوں کی 
مٹھی اٹھا کر دو  پس شاھت
الوجوہ کہہ کر مشرکین کی طرف بھینکی۔
انصار  نے  جب
عباس کی اواز سنی تو واپس اۤنا شروع 
ہوگئے  اور علم کے ارد گرد جمع  ہوتے گئے 
لیکن شرم کے مارے  حضورﷺکے
سامنے  نہیں اۤتے  تھے 
حضورﷺ نے عباس سے پوچھا  یہ
کون  ہیں تو جواب دیاکہ  حضور ﷺ  یہ لوگ انصار ہی ہیں اۤپ نے فرمایا اۤج کا
دن  بہت سخت  ہے  اور
فرمایا انا النبی لا کذب انا ابن 
عبدالمطلب   پس خداوندکریم کیجانب
سے نصرت نازل ہوئی اور قبیلہ  ہوازن کو
شکست ہوئی مالک بن عوف بھاگ کر طائف  کے
قلعہ میں گھس گیا  ایک سوکے قریب مارے گئے
ان کے اموال بچے اور عورتیں سب مسلمانوں کے قبضے 
میں اگئیں
بنی نضر کا ایک شخص شرہ بن ربیعہ  جب مسلمانوں 
کے ہاتھ میں قیدی ہوا تو پوچھنے 
لگا کہ  وہ ابلق گھوڑے  کہاں 
ہیں  اور سفید پوش  سوار کہاں 
ہیں جنہوں نے ہمارے ساتھ لڑائی کی ہے اس وقت تم لوگ تو ان میں نظر  بھی 
نہیں  اۤتے تھے تو اس کو جواب دیا
گیا کہ وہ فرشتے تھے اس دن حضرت علی علیہ السلام 
کے ہاتھوں چالیس مشرک واصل جہنم ہوئے تھے 
سید بن مسیب  کی
روایت ہے  کہ مجھ سے ایک شخص نے  بیان کیاجو حنین کے دن فوج کفار میں تھا کہ جب
دونوں لشکر  اپس میں ملے تو ہم نے  بکری کے دوہنے 
کی دیر تک  بھی مسلمانوں کو اپنے
سامنے  نہ ٹھرنے دیا اور سب کو
پسپاکردیا  لیکن جب حضور  کی سواری کے قریب گئے تو نورانی چہروں والے
جوان دیکھے جنہوں نے  کہاشاہت الوجوہ پس
انہوں نے ہمیں شکست دی اور قید کیا اور وہ فرشتے ہی تھے 
حضور ﷺ مال غنیمت لے کر مقام جعرانہ پر ائے  اور یہاں 
بدیل  بن ورقاء خزاعی  کو محفوظ مقرر کرکے  خود بمعہ فوج 
مالک بن عوف  کے  تعاقب میں 
طائف کی طرف روانہ ہوئے  شوال کا
باقی مہینہ طائف کا محاصرہ  رہا اور ذلقعدہ
کے اوائل میں  واپس پلٹ کر اوطاس کی غنیمتوں  کو تقسیم فرمایا اس جنگ میں  چھ ہزار غلام وکنیزیں غنیمت میں تقسیم ہوئیں اور
مال کا توکوئی اندازہ ہی نہیں  کیا جاسکتا  اور یہ تقسیم صرف مہاجروں اور دیگر عرب
قبائل  پر تھی  انصار کو کچھ 
نہ دیا گیا  جس سے وہ ناراض  ہوگئے 
اور حضرت رسالتماۤبؐ  کے
سمجھانے  پر وہ  رضا مند ہوگئے   اپ نے فرمایا کیا تمہارے  لئے  یہ
کم  کہ 
لوگ مال لے کر گھروں  کوجائیں  گے  اور
تم لوگ اللہ کا رسول اپنے  ہمراہ  لے جاؤ گے 
کیا یہ تمہارے شان ہے کہ چند دنیا کے سکون 
سے میں نے نئے  اسلام  لانے والوں 
کے دلوں  کو مضبوط کیا  ہے  تو
تم ناراض ہوجاؤ  پس سب انصار  راضی 
ہوگئے اس کے بعد قبیلہ ہوازن  کے
وفد مسلمان ہوکر مقام جعرانہ  پر حاضر خدمت
نبی  ہوئے   اور ان کے خطیب  نے 
کھڑے  ہوکر عرض کی ان قیدیوں
میں  حضور کی خالائیں دائیاں  بھی موجود ہیں جنہوں نے  اپ کی کفالت کی تھی اگر ہم نعمان  بن منذر 
کے  ساتھ لڑتے  اور ہم کو شکست  ہوتی 
اور پھر اس سے  التجا کرتے  تو ہمیں 
توقع  ہے  کہ وہ 
بھی ہم  کو واپس کرادیتا اور اۤپ کی
شان  تو بہت اجل  ہے  پھر
اسنے کچھ  اشعار بھی   اسی مطلب کے پڑھے  پس اۤپ نے فرمایا  دوچیزوں میں سےایک اختیار کرلو  قیدیوں 
کی واپسی یامال  کی واپسی  تو اس نے جواب دیا  ہمیں 
مال سے  ناموس عزیز  ترہے 
ہم اونٹوں بکریوں  کے خوہش  مند نہیں ہئں 
تو اپ نے فرمایا جو کچھ  بنی
ہاشم  کے 
حصہ میں ایا ہے   وہ تو میں  واپس کرتاہوں  
اور باقی مسلمانوں سے  بھی  تمہاری سفارش کرتے ہوں  لہذا 
تم خود بھی  اپنے  اسلام کا اعلان کرو  اورخوہش 
بیان کرو پس جب نماز  ظہر ادا
ہوئی  انہوں نے  اپنا مطلب 
بیان کیا تو حضور نے فرمایا 
جو کچھ
بنی ہاشم
  کے حصے میں ہے  میں واپس کرتاہوں  اور جو کچھ تم 
میں سے کسی کے حصے میں ایا ہے  اگر
تم
  میں 
سے کوئی بغیر زبردستی  کے  اپنی مرضی 
سے واپس کرنا چاہے  تو فبہاورنہ اگر
مفت
  واپس کرنا چاہے  تو فدیہ لے لے   اور فدیہ میں 
ہی  ادا کروں گا  پس سوائے 
چند  کے  سب  نے
مفت واپس کردیا
  اور تھوڑے  لوگوں 
نے فدیہ  لے کر  واپس کیا 
اس کے  بعد  حضور نے 
مالک بن عوف  کی طرف پیغام  بھیجا کہ اگر تم مسلمان  ہوکر اجائے 
تو میں تیرے سب کچھ تجھے واپس کروں 
گا  اور انعام  میں ایک سوناقہ  بھی دوں گا 
تو وہ شخص طائف  سے واپس اکر مشرف
باسلام
  ہوا  اور حضور نے 
ایفاء عہد میں  اسے  اپنا سب کچھ واپس کرنے  کے علاوہ ایک سو انٹنی  بھی عطافرمائی اور اس کو اپنی جانب سے  اپنی 
مسلمان  قوم  کو عامل 
بھی مقرر کیا 

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *