سورة الشرح (94) — ash-Sharh — The Expansion — اَلَمْ نَشْرَحْ
— ash-Sharh — The Expansion — اَلَمْ نَشْرَحْ
وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ (2) الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ (3) وَرَفَعْنَا لَكَ
ذِكْرَكَ (4) فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (5) إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
(6) فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ (7) وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ (8)
کرتا ہوں)
کو (1) اور ہم نے اتار دیا تجھ سے تیرا بوجھ (2) جس نے تیری پشت بھاری کر دی تھی
(3) اور ہم نے تیرا ذکر بلند کیا (4) پس تحقیق مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہوتی ہے (5)
بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہوتی ہے (6) پس جب فارغ ہو تو مشقت اٹھا (7) اور اپنے
پردگار کی طرف رغبت کر (8)
ہے ۔
کو اللہ یقین اور عافیت عطا فرمائے گا۔
کر پاس رکھے تو سینے کے درد سے شفا پائے گا۔
بند ہو تو کسی برتن پر اس سورہ کو لکھ کر اس کا پانی پئیے تو پیشاب کی بندش ختم ہو
جائے گی اور اللہ اس کا اخراج آسان کر دے گا ۔
شفا ہو گی اور جو سردی زیادہ لگی ہو اس سورہ کو دھو کر پلانے سے اس کی سردی دور ہو
گی (باذن اللہ ) (برہان)
اس سے پہلی سورہ ایک سورہ کے حکم میں ہیں وہاں خداوند کریم نے اپنے حبیب پر اپنے
احسانات کا تذکرہ کیا تھا کہ الم یجدک یتیما الخ اور اس جگہ فرماتا ہے الم
نشرح الخ کیا ہم نے تیرے سینے کو نہیں
کشادہ کیا کہ علوم نبوت اور علوم قرآنیہ کا اس کو مخزن بنایا جن لوگوں نے روایت کی
ہے کہ حضورؐ کے پاس جبرئیل آیا اور ان کے سینے کا آپریشن کر کے سیاہ نقلہ نکالا
اور اس کی جگہ نورت نبوت بھر کر پھر زخم کو سی دیا گیا یہ شیعہ عقیدہ کی رو سے
بالکل باطل ہے کیونکہ اپریشن کے ذریعے سے نہ جہالت کو نکالات جا سکتا ہے اور نہ
نبوت کو بھرا جا سکتا ہے پس عقلاً یہ روایت مضیحکہ خیز ہونے کے علاوہ اس میں
شاننبوت کی تنقیص بھی ہے ۔
ابو طالب کی کفالت سے پوری ہوئی اور تنگدستی کی کمی حضرت خدیجہ کی دولت سے پوری
ہوئی اسی طرح سینہ کی کشادگی حضرت علی ولایت و محبت سے ہوئی اور دشمنوں کی مخالفانہ
سرگرمیوں کی وجہ سے پشت کے بوجھ کی تکلیف حضرت علیہ السلام کی تائید و نصرت سے دور
ہوئی۔
توحید کا نعرہ بلند ہو تا ہے وہاں حضور کا نام نامی بھی ساتھ ہو تا ہے چنانچہ
مسلمانوں کے قریۃ قریۃ میں تا قیامت اذان میں اور اتشہد نماز میں شہادت توحید کے
ساتھ حضور کی نبوت کی شہادت بھی دی جاتی ہے ۔
اٹھایا کرو اور روایات اہلبیت میں تواتر سے منقول ہے کہ یہ حکم حضور کو حجتہ
الوداع کے موقعہ پر ملا کہ جب حج کے اعمال سے فراغت حاصل کرو تو اعلانیہ اپنے
بھائی علیؑ کو لوگوں کے لئے خلیفہ نامزد کر لو چنانچہ آپ نے خم غدیر کے بھر مجمع
میں فرمایا۔ من کنت مولاہ فعلی مولاہ۔

