سورة المطففين (83) – Al-Mutaffifeen – The Defrauders – المُطَفِّفِیْنِ | tafseer surah al-mutfaffifeen | shia books online
إِذَا اكْتَالُواْ عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ (2) وَإِذَا
كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ (3) أَلَا
يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ (4) لِيَوْمٍ
عَظِيمٍ (5) يَوْمَ يَقُومُ
النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (6)كَلَّا
إِنَّ كِتَابَ الفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ (7) وَمَا
أَدْرَاكَ مَا سِجِّينٌ (8) كِتَابٌ
مَّرْقُومٌ (9) وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ
لِّلْمُكَذِّبِينَ (10) الَّذِينَ
يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ (11) وَمَا
يُكَذِّبُ بِهِ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ (12) إِذَا
تُتْلَى عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (13) كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِم مَّا
كَانُوا يَكْسِبُونَ (14) كَلَّا
إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ (15) ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُو الْجَحِيمِ (16) ثُمَّ يُقَالُ هَذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ
تُكَذِّبُونَ (17) كَلَّا إِنَّ
كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ (18) وَمَا
أَدْرَاكَ مَا عِلِّيُّونَ (19) كِتَابٌ
مَّرْقُومٌ (20) يَشْهَدُهُ
الْمُقَرَّبُونَ (21) إِنَّ
الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ (22) عَلَى
الْأَرَائِكِ يَنظُرُونَ (23) تَعْرِفُ
فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ (24) يُسْقَوْنَ
مِن رَّحِيقٍ مَّخْتُومٍ (25) خِتَامُهُ
مِسْكٌ وَفِي ذَلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ (26) وَمِزَاجُهُ مِن تَسْنِيمٍ (27) عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ (28) إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُواْ مِنَ
الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ (29) وَإِذَا
مَرُّواْ بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ (30) وَإِذَا
انقَلَبُواْ إِلَى أَهْلِهِمُ انقَلَبُواْ فَكِهِينَ (31) وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَؤُلَاء لَضَالُّونَ (32) وَمَا أُرْسِلُوا عَلَيْهِمْ حَافِظِينَ (33) فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُواْ مِنَ
الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ (34)
الْأَرَائِكِ يَنظُرُونَ (35) هَلْ
ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (36)
تول یا ناپ کر چیز لیں تو پوری لیں (2)
اور جب ان کو ناپ یا تول کر دیں تو کم دیں (3) کیا ان کو یہ یقین نہیں کہ ان کو
اٹھایا جائے گا (4) ایک بڑے دن کےلئے (5) جس دن لوگ عالمین کے پروردگار کے سامنے
حاضر ہوں گے (6) آگاہ ہو تحقیق فاجر لوگوں کی کتاب سجین میں ہو گی (7) اور تمہیں
کیا معلوم سجین کیا ہے ؟ (8) کتاب مرقوم
ہے (9) ویل ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لئے (10) جو یوم قیامت کی تکذیب کرتے ہیں
(11) اور اس کی تکذیب نہیں کرتے مگر سب سرکش گنہگار (12) جب ایسے شخص پر ہماری
آیات کی تلاوت کی جائے تو کہتا ہے یہ تو گزشتہ لوگوں کی کہانیاں ہیں (13) خبردار!
بلکہ ان کے دلوں پر سیاہی چھائی ہے اس کی جو کسب کرتے ہیں (14) خبردار! تحقیق وہ اپنے رب سے اس دن (اس کی رحمت
سے ) پوشیدہ ہونگے (15) پھر تحقیق وہ جلیں گے دوزخ میں (16) پھر کہا جائے گا یہ وہ
ہے جس کا تم جھٹلاتے تھے (17) خبردار! نیک لوگوں
کی کتاب علیین میں ہو گی (18) تمہیں کیا پتہ علیوں کیا ہے ؟ (19) کتاب مرقوم ہے (20) جس کو مقرب دیکھتے ہیں
(21) تحقیق نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے (22) اپنے تختوں پر دیکھ رہے ہوں گے (23) ان
کے چہروں سے نعمات خداوندی کی تازگی تم معلوم کرو گے (24) ان کو سیراب کیا جائے گا
رحیق مختوم سے (25) جس پر مہر کستوری کی
ہو گی اور اس میں رغبت کرنے والوں کو رغبت کرنی چاہیے (26) اور اس میں تسنیم کی ملاوٹ
ہو گی (27) (مسنگ) ہے جس سے مقرب لوگ پیئں گے (28) تحقیق وہ لوگ جو مجرم تھے ایمان
لانے والوں پر ہنستے تھے (29) اور جب ان
کے پاس سے گذرتے تو ایک دوسرے کو اشارے کرتے تھے (30) اور جب گھروں کو پلٹتے تھے
تو مزاح کرتے ہوئے پلٹے تھے (31) اور جب ان کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ تحقیق یہ
لوگ گمراہ ہیں (32) حالانکہ ان کو ان مومنوں کا نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا تھا
(33) پس آج مومن لوگ ان کفار سے ہنسی کریں گے (34)تختوں پر بیٹھے ہوئے دیکھ رہے
ہوں گے (35) (اور کہیں گے ) کیا بدلہ دیا گیا ہے کفار کو اس کا جو کرتے تھے (36)
یہ سورہ مکیہ ہے جو عنکبوت کتے بعد
نازل ہوا اور مکہ میں نازل ہونے والی سورتوں میں سب سے آخر یہی سورہ نازل ہوا اور
اس کی آیات کی تعداد بسم اللہ الرحمن الرحیم کو ملا کر سینتیس (37) ہے ۔
حدیث نبوی میں ہے جو اس سورہ مجیدہ کی
تلاوت کرے گا وہ بروز محشر رحیق مختوم سے سیراب ہو گا۔
اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام
سے منقول ہے جو شخص اس سورہ کو نماز فریضہ میں پڑھے گا اس کو خدا جہنم سے امان
دیگا ۔
پس نہ وہ جہنم کو دیکھے گا اور نہ
جہنم اس کو دیکھے گی اور نہ ہو دوزخ کی پل کو عبور کرے گا اور نہ اس کاحساب ہو گا
خواص القرآن سے منقول ہے حضورؐ نے
فرمایا اگر اس سورہ کو کسی خزانہ پر پڑھا جاے تو وہ ہر آفت سے محفوظ رہے گا ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے
فرمایا کہ جس طیز پر اس سورہ کو پڑھا جائے وہ چیز محفوظ رہے گی اور حشرات الارض اس
کے نزدیک نہ آئیں گے انشاء اللہ
وارد مدینہ ہوئے تو مدینہ کے دکاندار اس مرض مبتلا تھے کہ لینے کے وقت پورا
لیتے اور دیتے وقت کم دیتے تھے اور
اس کا نام تطفیف ۔ چنانچہ ابو جہینہ نامی
ایک شخص تھا اس نے لین اور دین کے لئے دو پیمانے رکھے ہوئے تھے پڑے پیمانے سے چیز
لیتا تھا اور چھوٹے پیمانے سے دیتا تھا پس یہ آیتیں اتریں اور حضورؐ نے ان کو پڑھ
کر سنائیں تو لوگ اس بد عادت سے رک گئے۔
چیز کی ہی چوری کرتا ہے اس لئے اس پر اس نام کا اطلاق کیا گیا ہے اور علامہ سید
محمد کاظم طباطبائے اعلیؑ اللہ مقامہ سے منقول ہے کہ ان کے نزدیک تطفیف مطلق کی
کرنا ہے اور خواہ کیل دوزن میں ہو یا عدد زرع ہو۔
ایسا کرتے تھے اس لئے کہ چونکہ لین دین کیل و وزن دنوں سے ہوتا تھا پس کیل کے ذکر
میں وزن بھی سمجھا جاتا ہے چنانچہ اگلا فقرہ اس پر دلالت کرتا ہے ۔
اسلام نے عقیدہ قیامت پر زور دیا ہے اور جگہ بہ جگہ اس پر دلائل قائم کئے ہیں اس
جگہ فرماتا ہے کیا ان لوگوں کو اپنے مبعوث ہونے کا یقین نہیں ہے اور حضرت مقداد
ابن اسود سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ؐ سے سنا ہے کہ قیامت کے دن سورج آ جائے
گا یہاں تک کہ ایک یا دو میل کا فاصل رہ جائے گا راوی حدیث کہتا ہے میں نہیں سمجھ
سکا اس میل سے مراد فاصل ناپنے والا میل
ہے یا آنکھوں میں سرمہ لگانے والا سرمچو ہے جس کا عربی زبان میں میل کہا جاتا ہے
اور مقصد یہ ہے کہ سورج بہت نزدیک ہو گا جیسے عام اصطلاح میں کہا جاتا ہے کہ نیزے
برابر ہو گا پس لوگ اپنے عرق میں غرق ہوں گے اور اپنے اعمال کی مناسبت سے وہ عرق
میں ڈوبے ہوئے ہوں گے کسی کی ایٹری تک ہو گا تو کسی کے منہ تک پہنچے گا اور راوی کہتا ہے کہ رسول اللہ ؐ نے یہکہتے ہئوے اپنا ہاتھ دہان اقدس پر رکھا
اور فرمایا بعض لوگوں کو اپنے عرق کی اس طرح لگام چڑھی ہو گی۔
سے منع کرنے کےلئے لایا جاتا ہے ۔
اور حضرت رسالتمابؐ سے مروی ہے کہ سجین ساتویں زمین کے بھی نیچے ہے (2) مروی ہے کہ
ابن عباس نے کعب الاحبار سے دریافت کیا کہ اس آیت کا معنی کیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ روح فاجر کو آسمان کی طرف لے جایا جائے
گا تو آسمان اس سے انکار کرے گا پس اس کو
زمین پر لایا جائے تو زمین بھی اس کے قبول کرنے سے انکار کر ے گی پس ساتویں زمین
کے نیچے اس کو پہنچایا جائے گا اور وہاں سجین ہے جہاں ابلیس کا لشکر رہاتا ہے (3)
ایک قول ہے کہ سجین جہنم میں ایک کنواں ہے جس کا منہ کھلا ہے اور اس کے مقابلہ میں
فلق بھی جہنم میں ایک کنواں ہے جس کا منہ بند ہے (4) بعض نے کہا ہے کہ سجین
جہنمیوں کی کتاب کا نام ہے جس طرح آیت مجیدہ
سے ظاہر ہوتا ہے یعنی جس کتاب میں کفار پر عذاب جہنم فرض کیا گیا ہے اس
کتاب کا نام سجین ہے (5) امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ ساتویں زمین
کا نام ہے ۔
وہ قید خانہ جس یں قیدی کو ہمیشہ رہنا ہو اور سخت دشوار ہو چنانچہ شریب شارب سے
سکیر مسکر سے اور شریر شر سے مبالغہ کے اوازان ہیں۔
کو بڑھانے کےلئے لایا گیا ہے تا کہ مجرم
لوگ اپنے جرم سے باز رہنے کی سعادت حاصل کر سکیں اور اس کے بعد کتاب مرقوم کے
متعلق بعض نے کہا ہے کہ یہ سجین کی تفسیر ہے لیکن علامہ طبرسی فرماتے ہیں کہ سجین
کی تفسیر نہیں بلکہ کتاب الفجار کی تسیر ہے یعنی فجار کی کتاب جو سجین میں ہو گی
وہ کتاب فرقوم ہے یعنی تحریر شدہ ہے اور تفسیر برہان میں حضرت امام جعفر صادق علیہ
السلام نے فرمایا کہ کتاب الفجار لفی سجین کے مصداق شیخین ہیں۔
کی باز پرس کا خطرہ ان کی عیاشیوں میں خلل انداز ہوتا ہے پس سرے سے قیامت کومانتے
ہی نہیں ۔
حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
اس چیز کا جو وہ کامتے ہیں اور مروی ہے کہ جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں
ایک کتہ سیاء پیدا ہوجاتا ہے جب دوسرا گناہ کرتا ہے تو دوسرا نکتہ پیدا ہو تا ہے ۔
جوں جوں گناہ بڑھتے جاتے ہیں سیاہی بڑھتی جاتی ہے حتی کہ سیاہی غالب آ جاتی ہے پس
ایسا شخص پھر توبہ کی طرف مائل ہی نہیں ہوتا ۔ اور روایت میں ہے کہ ہر انسان کے دل
میں سفید نکتہ ہے جب گناہ کرتا ہے تو اس میں سیاہ داغ پیدا ہو جاتا ہے پس اگر توبہ
کر لے تو وہ سیاہی دھل جاتی ہے لیکن اگر بجائے توبہ کے دوسرا گناہ کر لے تو وہ
سیاسہی بڑھ جاتی ہے اور گناہ بڑھتے بڑھتے ان کی سیاہی دل کی سفیدی پر چھا جاتی ہے
تو وہ پھر توبہ نہیں کر پاتا اور نہ نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے اور آیت میں ران علی
قلوبھم کا یہ معنی ہے اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ انسان کا دل
زنگ آلود ہوتا ہے پس جب اللہ کی نعمات کا ذکر کیا جائے تو اس سے دل کا زنگ دور ہو
جاتا ہے اور کفر کی عادت گناہوں کی کثرت اور فسق و فجور میں انہماک توبہ کے خیال
سے غافل کرنے والے اسباب ہیں پس ایسے لوگ بروز محشر اللہ کی رحمت سے محجوب ہوں گے
۔
ہو گی یعنی مراتب عالیہ میں ہو گی جہاں مومنین کے ارواح کی قیام گاہ ہے اور علیون
کے معنی میں بھی اقوال ہیں (1) علیوں کا معنی جنت (2) بلندی کے مرابت (3) بعضوں نے
کہا ہے کہ وہ زبر جد سبز کی تختی ہے جو عرش کے نیچے ہے اور اس میں مومنوں کے اعمال
درج کئے جاتے ہیں (4) ایک روایت میں ہے کہ علینن ساتویں آسمان پر زیر عرش ہے ۔
علیین والے جنت کی طرف دیکھیں گے تو جنت
چمک اٹھے گی اور جنتی کہیں گے آج علیین کے
بسنے والے ہمیں دیکھ رہے ہیں
ہے کہ جنت کی شراب بدبودار نہیں نہ ہو گی بلکہ خوشبودار ہو گی اور مروی ہے اگر
دنیا کا آدمی اس میں اپنی انگلی ڈال کر باہر نکالے تو تمام اہل زمین خواہ انسان
ہوں یا حیوان تمام کے تمام اس کی خوشبو محسوس کریں گے حدیث میں ہے کہ گرمیوں کے
روزہ رکھنے والوں کو رحیق مختوم سے سیراب کیا جائے گا اور حضرت پیغمبر نے فرمایا
علیؑ جو شخص دنیا میں شراب کو ترک کرے گا خدا اس کو بروز محشر رحیق مختوم سے سیراب
کرے گا ۔
کی جائے گی جس سے اس کے لطف میں مزید اضافہ ہو گا صفحہ نمبر 192 پر عیناً یعنی
تسنیم ایک جنتی شراب کا ایسا چشمہ ہے جس سے خاص خاص جنتی جو نہایت مقرب ہوں گے
پئیں گے اور عام جنتیوں کو جو شراب دی جائیگی اس میں تسنیم کی آمیزش ہو گی خالص
تسنیم نہ ہو گی اور جنت کی اعلٰی ترین شراب کا نام تسنیم ہے ۔
علیؑ بن ابی طالب ہے اور ایک روایت میں ہے کہ ابو جہل ولید بن مغیرہ اور عاص بن
وائل جب اصحاب نبی کے پاس سے گزرتے تھے مثلاً عمار خباب اور بلال وغیرہ تو وہ ان
سے مزاح کرتے تھے اور دوسرے کو اشارے کرتے تھے یعنی مومنوں کی توہین کا ہر ممکن
طریقہ اختیار کرتے تھے اور مومنوں کو گمراہ کہتے تھے ان کے جواب میں اللہ فرماتا
ہے کہ یہ لوگ کوئی مومنوں پر چوکیدار تو مقرر نہیں ہیں کہ ایسی باتیں کرتے ہیں ۔
تو مومن بھی کافروں سے مسخری کریں گے اور ہنسی اڑائیں گے اور اپنے اپنے تختوں پر
بیٹھ کر ان کو جہنم میں جلتا دیکھیں گے اور ایک دوسرے سے کہیں گے کہ کفار کو اپنے
کر توتوں کا بدلہ مل گیا ہے اور ممکن ہے کہ ھل ثوب فرشتوں کا قول ہے یا اللہ کا
قول ہو کہ مومنوں سے خطاب کر کے استعمال کیا جائے گا تا کہ مومنوں کی دلجوئی ہو
جائے ۔
