anwarulnajaf.com

سورہ برائت کا شان نزول

مفسرین اور محدثین 
کا اس امر پر اتفاق ہے  کہ جب سورہ
برات نازل ہوئی تو حضرت رسالت ماب نے اہل مکہ کو حکم خداوندی سنانے کےلئے حضرت
ابوبکر کو مامور فرمایا اور پھر ان کو اس عہدہ جلیلہ  سے معزول 
کرکے حضرت علیؑ  کو متعین  فرمایا اس کی تفصیل میں الفاظ روایات میں قدرے
اختلاف ہے لیکن  مقصد سب کا ایک ہے کہ حضور
نے ابوبکر کو روانہ فرمایا کہ سورہ برات کی دس اۤیتیں ان کے سامنے جاکر پڑھے اور
ان کے ساتھ  کئے ہوئے عہدوپیمان کو منسوخ
کردے اور پھر حضرت علیؑ کو روانہ فرمایا کہ حضرت ابوبکرسے عہدہ لے کر خود جائے
چنانچہ حضرت علی ؑ جناب رسالت ماب کی مخصوص سواری 
ناقہ عضباء پر سوار ہو تیزی  سے
روانہ ہوئے  اور مقام ذوالحیلفہ  یاعرج 
یاضخبان یاحجفہ پر انکو جاملے اور ان کو اپنی معزولی کا مذدہ سنا کر اپنے
عہدہ کا چارج سنبھالا اور اۤگے روانہ ہوئے کہتے ہیں  حضرت ابوبکر واپس ائے اور خدمت نبوی میں پہنچ
کر عرض کی کہ حضور کیا میرے حق  میں کوئی
سرزنش کی قسم کی آیت تو نہیں  اُتری  آپ ﷺنے فرمایا نہیں کوئی بات نہیں لیکن یہ
اعلان چونکہ میری طرف سے ہے  لہذااس کو میں
نے ہی پہنچانا  ہے یامیری جانب سے صرف وہی
پہنچاسکتاہے جو مجھ  سے ہو روایت کے لفظ یہ
ہیں  لَایُؤَدِّیْ عَنِّیْ اِلَّا اَنَا
اَوْ رَجُلٌ مِّنِّیْ اور یہ روایت اکابر صحابہ 
سے مروی ہے         
1 حضرت امیر المومنین علی علیہ
السلام  جب جناب رسالتمآبؐ  پر سورہ 
برات کی دس اۤیتیں اُتریں تو اۤپ نے ابوبکر کوبلایا تاکہ اہل مکہ کے سامنے
پڑھے  پھر مجھے بلایا اور فرمایا جلدی سے
جاؤ ابوبکر کو جس مقام پر ملو اس سے کتاب لے لو 
اور خود جاکر اہل مکہ کو سناؤ پس میں مقام حجفہ پر جاملا  اور ان سے کتاب لےلی ابوبکر واپس ائے اور عرض
کی یارسول اللہ کیا میرے بارے میں کچھ اُترا ہے تو آپؐ نے فرمایا نہیں بلکہ جبریل
پہنچا ہے اور اس نے اطلاع دی ہے کہ آپؐ خود پہنچائیں  یاوہ شخص پہنچائے  جو تجھ 
سے ہو
 ْدرمنثورج 2  ص209 
کنزالعمال ج  ص247  مسند احمد ج 
1 ص151                 تفسیر
شوکانی ج 2 ص319 تاریخ ابن کثیر ج  5 ص38
وج7  ص357                             عینی شرح بخاری
ج  8 ص637    خصائص نسائی    ص2 میں ہے کہ ابوبکر غمگین واپس آئے اور
پوچھا کہ کیا میرے بارے میں کچھ  اُترا ہے
تو آپؐ نے فرمایا  نہی لیکن مجھے حکم ہوا
ہے کہ یاخود پہنچاؤں یا وہ شخص پہنچائے جو میری اہل بیت سے ہو
2 حضرت ابوبکر جناب رسالت مآب نے برات دے کر ان کو اہل مکہ
کی طرف روانہ کیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج 
نہ کرے گا اور کوئی برہنہ بیت اللہ 
کا طواف نہ کرے گا اور جنت میں صرف مسلمان ہی جائے گا اور جس جس کاجناب
رسولؐ خدا کے ساتھ عہدوپیمان ہے تو وہ 
اپنی مدت  تک رہے گا  اور اللہ اور اس کا رسولؐ مشرکوں سے بیزار
ہیں  پھر تین روز کے بعد حضرت علیؑ کو
روانہ فرمایا کہ ابوبکر کو واپس  بھیج دو
اور خود برات کااعلان پہنچاؤ چنانچہ  ایسا
ہی ہوا   تو ابو بکر نے خدمت بنوی میں پہنچ
کررودیا اور عرض کی حضور  کیامجھ سے کچھ
صادر ہو اہے آپﷺ نے فرمایا نہیں  تم سے کچھ
صادر نہیں ہوا لیکن مجھے حکم ہوا ہے کہ خود پہنچاؤں  یاوہ پہنچائے 
جو مجھ سے ہو
 مسند احمدج 1  ص 3کنزالعمال ج 1  ص 246کفائی کنجی  ص 125 تاریخ ابن کثیر ج 7ص 357
3ابن عباس  کہ جناب
رسالتماب  نےابوبکر کو بھجا کہ اہل مکہ میں
مندرجہ بالااعلان کرے پھر علیؑ کو پیچھے روانہ کیا  ابوبکر نےراستہ میں ایک مقام پر پیچھے سے جناب
رسالتمآب کی ناقہ قصواء کی اواز سنی تو گھبرا گیا کہ شاید حضورؐ خود ہی تشریف
لارہے ہیں  پس حضرت علی ؑپہنچے اور ابوبکر
سے جناب رسولؐ خدا کا نوشتہ لے لیا  اور
جاکر اہل مکہ کو سنایا 
      الحدیث  جامع نرمزی ج 2ص135 سنن  بیقی  ج
9ص224  مناقب خوار زمی     ص 99 
مطالب الئسول ابن طلحہ ص17تفسیر شوکانی ج 2 ص 319                                
4انس بن مالک  کہ جناب
رسالتمآب نے  ابوبکر کو برات دی کہ اہل
مکہ  کو پہچائے لیکن  پھر ان کو واپس بلالیا اور فرمایا کہ  یہ اور کوئی نہیں  پہنچا سکتا مگر  وہ جو میری اہل سے ہو  پس علیؑ کو بلایا اور ان کو یہ عہدہ تفویض کیا
دوسری روایت میں ہے کہ  جب
ابوبکرذوالحیلفہ  پر پہنچ  گئے تو حضرت علیؑ کو مامور فرمایا  کہ اس کونہ 
پہنچائے  مگر  میں خود یا وہ 
جو میری اہل بیت  سے ہو
(مسنداحمدج3 ص212و 
ص283ترمزی ج2ص135خصائص نسائی ص
20 تاریخ ابن  کثیر ج     5  
ص38 تفسیر  ابن کثیرج  2ص 333 قسطلانی شرح صحیح  بخاری 
ج27 ص  126فتح الباری  ج8 ص256 
عینی ج8 ص637  درمنثور  ج3 ص209 وغیرھا
5ابوسعید خدری حضورؐ نے برات دے کر ابوبکر  کو روانہ کیا پھر علیؑ کو بلا کر فرمایا کہ اس
کو یامیں پہنچاؤں  یاتم پہنچاؤ پس اپنی
ناقہ عضبا ء  پر سوار  کرکے روانہ کیا اور راستہ  میں انہوں 
نے ابوبکر سے وہ عہدہ سنبھال لیا پس ابوبکر کو خوف لاحق ہوا کہ کہیں  میرے بارے میں کچھ اترا نہ ہوتو خدمت نبوی
میں  آکر 
عرض کی کہ حضورﷺ   کیا بات ہے
الحدیث درمنثور  ج ص روح المعانی ج ص  وغیرذلک 
6ابورافع حضرت  نے
ابوبکر کو بھیجاتو بعد میں جبریل نازل ہوا کہ یاخود پہنچاؤ یاوہ پہنچائے جو  تجھ سے ہو 
پس حضرت نے علیؑ کو روانہ 
فرمایاجنہوں   نے مکہ اور مدینہ
م  کے درمیان  ابو بکر سے اپناعہدہ سنبھال لیا فتح الباری ج ص
درمنثور  ج ص
7سعد بن ابی وقاص حضورؐ نے ابوبکر کو بھیجا اور بعد میں
علیؑ نے بحکم رسولؐ ابوبکر سے عہدہ لے لیا تو ابو بکر غمگین ہوئے جناب رسالت مآب
نے فرمایا اس کو ادا نہیں کرسکتا مگر میں یاوہ جو مجھ سے ہو  خصائص نسائی ص 
درمنثور ج ص 
وغیرہ  ذلک 
اور ابن عباس  نے
حارث بن مالک  سے روایت کی ہے کہ میں نے
مکہ میں سعد بن ابی وقاص سے ملاقات کی اور پوچھا کہ تو نے علی ؑ کی  کوئی فضیلت سنی ہے تو سعد نے جواب دیا کہ میں
حضرت علیؑ کی چار فضیلتوں کا شاہد ہوں کہ اگر ان میں سے میرے لئے ایک بھی ہوتی تو
میں پوری دنیا کی حکومت سے  افضل سمجھتا جب
کہ حضرت نوح کے برابر عمر بھی دی جاتی ان میں سے ایک یہ  ہے کہ حضور نے ابوبکر کو برات دے کر مشرکین مکہ
کی طرف روانہ کیا وہ ایک دن رات کا سفر کرچکا تو علیؑ کو فرمایا کہ ابوبکر کو جاکر
ملو  اور ان سے وہ لے لو  اور خود جاکر پہنچاؤ  اور ابوبکر کو واپس میری طرف بھیج  دو پس ابوبکر روتا ہو اواپس ایا  اور عرض کی یارسول اللہ کیا میرے کیامیرے بارے
میں کچھ اُترا ہے تو آپ نے فرمایا  نہیں
بلکہ اچھائی ہے ہاں میری طرف سے نہیں پہنچاسکتا مگر میں خود یاوہ جو مجھ سے  ہو یاوہ جو میری اہل بیت  سے ہو
8ابوہریرہ     
عبداللہ بن عمر  حبشہ بن جنادہ  عمران بن حصین 
ابوذر غفاری جابر بن عبداللہ ان سے بھی کتب صحاح میں اسی مضمون کی احادیث
باختلاف الفاظ  مروی ہیںٰ  تفصیلی بحث 
الغدیر ج ص تا ص  بہر کیف
اگر کسی حدیث کو متواترکہا جاسکتا ہے تو حدیث برات  یقینا متواترات  میں سے 
ہے تہتر  اہل  سنت کے علمائے اعلام   نے اپنی معتبر تصانیف میں  اس حدیث کو تیرہ اکابر صحابہ سے روایت کیا
ہے  اگر 
چہ جزوی طور پر اختلاف  ہے کہ حضرت
علیؑ مقام ضنحبان  میں یاعرج میں یاذوالحلیفہ
میں  یاحجفہ  میں جاکر 
ابوبکر سے  ملے اور عہدہ ان سے واپس
لیا بہر کیف اس میں شک  نہیں کہ حضرت نے
پہلے ابوبکر کو بھیجا تھا اور وحی کے اُترنے کے بعد حضرت علیؑ کو بھیج کر
ابوبکر  کو اس عہدہ سے معزول کیاگیااس حدیث
سےچند نتائج نکلتے  ہیں جوارباب بصیرت کےلئے
غور وفکر  کا محل ہیں
1حضرت ابوبکر سے اس عہدہ کا چارج لیا گیا اور ان کو معزول
کرکے واپس بلالیا گیا
2عہدہ کی اہمیت اس امر سے خوب واضح ہے کہ یا اس کو رسولؐ
خود پہنچائے یا وہ پہنچائے  جو رسولؐ سے ہو
یا رسولؐ  کی اہلبیت  سے ہو
3 عہدہ تبلیغ برات کی معزولی  سے حضرت ابوبکر کے دل پر صد مہ ہوا اور غمزدہ
واپس ائے حتی کہ فرط غم سے رودیا
4 رسولﷺ کا کسی کو اپنےعہدہ سے معزول کرنا وحی کی امد اور
اللہ کے حکم کےماتحت ہوتاہے
5اگر حضرت ابوبکر 
تبلیغ برات کےلئے اللہ کے نزدیک موزوں ہوتے تو ان کی بلاوجہ  معزولی خلاف عدل قرار پاتی
6 حضرت ابوبکر کا پوچھنا کہ کیا میرے بارے میں کوئی چیز
نازل ہوئی ہے یامجھ سے کوئی غلطی صادر ہوئی ہے باختلاف روایت اور حضور  ؐکا نہیں میں جواب دے کر فرمانا کہ یہ میرا
یامیری اہل بیت کافریضہ ہے یعنی ہم خود ہی اس کے اہل ہیں  اس کا صاف مطلب  ہے کہ تم کو اس لئے معزول  کیا گیا ہے کہ تم اس کے اہل نہیں ہو
7 جو شخص دس اۤ   
ئیتوں کی تبلیغ کےلئے صرف اہل مکہ کا مبلغ نہیں ہو سکتا توکل قرآن کی تبلیغ
کےلئے  کل عالم کا مبلغ کیسے بن سکتا ہے
8 روایات سے صاف واضح ہے کہ حضرت علیؑ کی تبلیغ میں وہی شان
وحیثیت تھی جو خود جناب رسالت مآب  کی ہے
9حضرت کا اپنی مخصو ص سواری پر روانہ کرنا اس امر کی طرف
واضح اشارہ ہے کہ جو مقام رسولﷺ کےلئے ہے ان کے بعد وہ مقام  صرف علیؑ کو ہی زیب دے سکتا ہے چنانچہ یہاں
اپنی سواری عطافرمائی  اور شب  ہجرت اپنا بستر عنایت فرمایا
01سعد بن ابی وقاص کیروایت سے معلوم ہوتا ہےکہ لوگ حضرت
علیؑ کی فضیلت پر پر دہ ڈالنے کے عادی تھے اور اس امر کی کوشش کی جاتی تھی کہ حضرت
علیؑ کی منقبت لوگوں کے کانوں تک نہ پہنچ سکے اور ڈھوند نے والے صحابہ رسولؐ  سے علیحد گی اور خلوت میں کچھ نہ کچھ پوچھ  ہی لیا کرتے تھے جیسا کہ حضرت حارث بن  مالک نے ایک ڈھنگ سے سعد بن ابی وقاص سے
پوچھا  لیا  اور یہ فضیلت اتنی  واضح تھی کہ سعد بن ابی وقاص کو کہنا  پڑا کہ پوری روئے زمین کی حکومت سے یہ فضیلت
بہتر ہے


by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *