شبث بن ربعی لعنہٗ اللہ
کے گھروںکومسمارکرادیا۔
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پر بھی سلام وارد ہے اور جب امام حسین ؑ نے اس کو چھوڑ کر چلے جانے کی اجازت دی تھی تو اس نے جواب میں عرض کیا تھا کہ مجھے جنگلی درندے نوچ کر کھا جائیں اگر میں آپ ؑ کو چھوڑ کر چلا جائوں۔۔۔۔۔ ایسا ہرگز نہ کروں…
ابن شہر آشوب اور دوسرے محققین نے ان کو بھی شہدائے کربلا کی فہرست میں ذکر کیا ہے۔۔۔ انہوں نے بیس سے زیادہ ملاعین کو فی النار کر کے جام شہادت نوش فرمایا۔۔۔ اس کے علاوہ ان کے متعلق اور کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔
چونکہ اس کی رہائش قبیلہ بنی شاکر میں تھی اس لئے اس کو مولیٰ شاکر کہا جاتا ہے ورنہ درحقیقت یہ ان کا غلام نہیں تھا یہ شخص سربرآوردہ شیعان علی ؑ میں سے تھا، مشہور حفّاظ حدیث اور نامی گرامی شہسوارانِ کوفہ میں سے اس کا شمار تھا، جناب امیر ؑ سے بہت کچھ…
جب حضرت سید الشہدا ٔ نے آخری استغاثہ بلند کیا تو انصار میں سے جن پندرہ آدمیوں کو نام لے کر پکارا ان میں سے ایک اسد کلبی بھی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی شہدائے کربلا میں سے ہے۔۔ اس کے علاوہ کہیں صراحت سے اس کے متعلق کچھ نہیں…
یہ شخص حضرت علی ؑ کا خاص شیعہ تھا، ایک دفعہ معاویہ کے پاس گیا تو معاویہ نے دیکھتے ہی کہا: تو شریک ہے حالانکہ اللہ کا کوئی شریک نہیں اورتیراباپ اعور (یک چشم) تھا حالانکہ آنکھوں والااعور (ایک چشم ) سے اچھا ہوا کرتاہے اورنیز توبد صورت ہے اورخوبصورت بد صورت سے بہتر ہے؟…
۵ شوال ۳۶ھ کو کوفہ سے روانگی ہوئی بروایت مسعود ی اوریکم صفر ۳۷ھ بروز بدھ یہ لڑائی شروع ہوئی، اس میں معاویہ کا لشکر ایک لاکھ بیس ہزار تھا، بقو لے ۸۵ہزار تھا اور حضرت علی ؑ کی فوج کی تعداد نوے ہزار تھی، اسلامی لڑائیوں میں یہ لڑائی نہایت سخت تھی، معاویہ کی…