صفا ومروہ کا ذکر
اواعتمر فلاجناح علیہ ان یطوف بھما ومن تطوع خیر افان اللہ شاکر علیم ()
پس جوشخص حج بیت اللہ یاعمرہ بالائے پسکوئی حرج اس پر نہیں کہ ان دونوںکاطواف
بھیکرے اورجوشخص بجوشی نیک عمل کرے تو اللہ اس کی نیکیکاقدردان ااورجاننے والاہے
مابیینہ للناس فی الکتب اولئک یلعنھم اللہ ویلعنھم اللعنون ()
واضح طور پر ہدایت کے لئے نازل کیا بعد اس کے کہ ہ نے اس کوبیان کردیا لوگوں کے
لئے کتا(تورات وانجیل) میں ایسے لوگوں پر کدالعنت کرتاہے اورباقی لعنت کرنیوالے
بھی لعنت کرتے ہیں
لوگ جنہوں نے توبہ کرلی اوراپنی اصلاح کی
حضرت آدم صفی اللہ اترے تھے اورمروہ کو مروہ اس لئے کہا گیا ہے کہ اس پر حضرت
حوااتری تھیں اوریہ مراۃ سے متعلق ہے جس کا معنی عورت ہے
کئے جائیں وہ مردہ نہیں ہوتے اورجو مصائب پر ثابت رہتے ہیںان پر اللہ کی رحمت
اوردرود ہوتا ہے
اورمصائب پر صبر کرنے والوں کی زندگی کی ایک مثال پیش فرمادی کہ دیکھو اللہ کی راہ
میں مصائب والام پر صبر کرنے والے جس طرح نعمات جنت میں ہمیشہ کی زندگی سے ہمکناار
ہیں اسی طرح دنیا میں بھی ان کے نقوش ویاد گاریں تاقیامت باقی رہتی ہیں اورظاہری
آنکھوں سے اوجھل ہیں لیکن ان کے اثار ونشانات کو میں نے اپنے شعائر قرار دے کر
ہمیشہ کی زند گی عطا کردی پس تاقیامت جو شخص فریضہ حج یاعمرہ ادا کرے گا اس پر
لازم ہے کہ وہ صفاومروہ کے درمیان دوڑے کیونکہ یہ میرے شعائر ہیں پس جب گزشتہ
انبیا کی یاد گاریں شعائر اللہ ہیں تو حضر ت رسالتمآب یاان کے اوصیاء کی یاد
گااریں کیوں نہ شعائر اللہ ہوں گی جن کی مظلومیت اورناحق خون کی داستان صفحہ
آسمان کے اطراف پر افاق کی سرخی سے نمایا طور پرلکھی ہوئی ہے جیسا کہ وعلامہ
سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں ذکر کیا ہے کہ امام حسین علیہ اسلام کی شہادت سے پہلے
افق پر یہ سرخی نہیں تھی جو صبح وشام ظاہر ہوا کرتی ہے
طواف کے بعد صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنا(دوڑنا) واجب ہے لیکن آیت میں یہ ہے کہ
اگران کاطواف کرے تو حرج کوئی نہیں اس سے ظاہر ایہی معلوم ہوتاہے کہ اگر نہ بھی
کرے تب بھی حرج نہیں تو اس کا جواب تین طریقوں سے دیاگیاہے
حکم ہوا تو ابتداء مسلمانوں کا یہ خیال تھاکہ شاید صفا ومروہ کے درمیان طواف
کرناکفار و مشرکین کی ایجاد ہے لہذا یہ آیت اتری کہ صفا ومروہ کے درمیان دوڑنا
بھی خدائی حکم ہے کفار کی ایجاد نہیں
بہت توبہ قبول کرنیوالامہربان ہوں
اللہ والملئکۃ والناس اجمعین ()
مرگئے تو ایسے لوگوں پر اللہ کی لعنت ہے اورفرشتوں کی اورتمام لوگوں کی
عذاب اورنہ وہ مہلت دئے جائیں گے
کے نہیں وہ رحمن و رحیم ہے
حضرت صادق علیہ السلام سے ایک روایت میں ہے کہ یہ آیت عمرہ قضامیں اتری کہ جب
جناب رسالتمآبؐ قضائے عمرہ کیلئے وارد مکہ ہوئے تو کفا ر سے کہا کہ صفاومروہ سے
وہ اپنے بت اٹھا لیں چنانچہ انہوں نے اٹھالئے اورحضرت رسو خدانے مع صحابہ صفا
ومروہ کے درمیان سعی کی اس کے بعدکفار نے پھر اپنے بت وہاں رکھ دئے ایک صحابی کو
کچھ دیر ہوگئی تھی جب وہ سعی کرنے کے لئے ایاتو بت رکھے جاچکے تھے لہذ اس نے سعی
کرنا پسند نہ کیا تب یہ ایت اتری کہ کوئی گناہ نہیں ہے تم اپنا رکن حج ترک مت کرو
ہیں کوہ صفا پر جوبت تھا اس کا نام اساف تھا اورمروہ پر جوبت تھا اس کا نام نائلہ
تھا مشرک لوگ ان کا طواف کرتے ہوئے ان کو بوسہ بھی دیتے تھے اورمسلمان اس کوگناہ
سمجھتے تھے لہذا یہ آیت اتری کہ سعی کرنا گناہ نہیں ہے بلکہ فعل ثواب ہے
ظاہری طورپر یہ ایات گو اہل کتاب کے لئے ہیں لیکن باطنی طور پر
تاقیامت جو بھی اس صفت سے متصف ہوگا وہی ان ایات کا مصداق ہوگاچنانچہ حضرت امیر سے
پوچھا گیاکہ انبیاء اورائمہ کے بعد مخلوق خداسے افضل کون ہے فرمایا کہ نیک علماء
اورپھر سوال کیا کہ ابلیس وفرعون کے بعد بدترین انسان کو ن ہے تو آپ نے فرمایاکہ
وہ علمائے بد ہیں جو باطل کوظاہر کریں اورحق پر پردہ دیں ان پراللہ کی اورتمام
لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے البرہان
مسئلہ دریافت کیا جائے اوروہ باوجود جاننے کے اس کوچھپائے بروز محشر اس کے منہ میں
آتش جہنم کی لگام دی جائے گی المجمع البیان
