طرماح بن عدی
متکلم۔۔ قادر الکلام اور نہایت حاضر جواب تھے، جب آنحضرتؑ کوفہ میں تشریف فرما
ہوئے تو معاویہ نے آپ ؑ کی طرف گستاخانہ لہجہ میں ایک خط لکھا جس کا مضمون یہ تھا:
جیسے صحابہ کو قتل کیا ہے جن پر رسول خدا کو ناز تھا اور امّ المومنین سے جنگ کیا،
اب میں اس کا بدلہ لینے کیلئے تیار ہوں، لہذا آپ جنگ کیلئے تیار ہو جائیں۔
طلب فرمائی اور خط تحریر فرمایا:
فرزند۔۔۔۔ علی بن ابی طالب امیرالمومنین۔۔ برادرِ رسول۔۔ شوہرِ بتول۔۔ ابوالسبطین
الحسن و الحسین کی جانب سے۔۔۔۔ معاویہ بن ابی سفیان کی طرف ہے۔۔۔ اما بعد:
دادا۔۔ چچا اور ماموں کو تلوار کی گھاٹ اُتارا، ان کا خون پینے والی تلوارِ آبدار
اب بھی میرے پاس موجود ہے، میرے ہاتھ اور بازو میں اس کے اٹھانے کی قوت موجود ہے،
جس طرح رسول خدا نے اس کو میرے ہاتھ میں دیا ساتھ نصرت میرے پروردگار کے، جس طرح
میں نے اللہ کے علاوہ کسی کو پرودگار نہیں سمجھا اور حضرت محمد کے بدلے میں کسی
اور کو نبی نہیں تسلیم کیا اسی طرح میں نے اس تلوار کے بدلہ میں کوئی دوسری تلوار
نہیں لی، تو بے شک اپنی جان توڑ کوشش کر اور اس میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کر،
تیرے اوپر شیطان کا تسلط ہے اور تجھے جہالت اور سر کشی نے مخبوط الحواس کر دیا ہے۔
مبارک سے اس کو عمامہ باندھا اور نہایت تیز رو سرخ رنگ کے اونٹ پر سوار کر کے رخصت
کیا، طرماح نے بمثل شہباز پرواز کر کے منزل دور دراز کو تھوڑے عرصے میں طے کرتے
ہوئے باطل و شر کے پایہ تخت دمشق میں جا دم لیا۔
نے پوچھا کہ تیری مراد کن لوگوں سے ہے؟ جواب دیا کہ ابوالاعور اسلمی۔۔ ابوہریرہ
دوسی۔۔ مروان بن حکم اور عمرو عاص سے ملنا چاہتا ہوں، دربان نے جواب دیا وہ بابُ
الخضرأ کے قریب ایک باغ میں تفریح کے لئے گئے ہوئے ہیں، پس طرماح نے اس طرف کا قصد
فرمایا جب وہاںپہنچا تو وہ لوگ دروازہ پر موجود تھے ان لوگوں نے اس کو دیکھتے ہی
آپس میں مشورہ کیا کہ ایک لمبی قد کا بدوی شخص اس طرف آ رہا ہے آئو اس کے ساتھ
کوئی مذاق کریں۔۔۔ انہیں یہ کیا خبر تھی کہ وہ جس کو ایک عام بدوی سمجھ رہے ہیں وہ
درحقیقت خاندان علم و معرفت اور دودمانِ شرف و شہامت کے آستانہ قدس کا تربیت
یافتہ حاضر جواب اور قادرُ الکلام خطیب ہے؟
خبر لایا ہے؟ طرماح نے فوراً نقد جواب دیا بے شک میرا پروردگار آسمان کا مالک ہے،
ملک الموت ہوا میں ہے اور علی ؑ کی تلوار تمہارے سروں پر برقِ قہر بن کر نازل ہونے
والی ہے، اے اہل نفاق و شقاق اس بلا کے لئے تیار ہو جائو جو تمہارے سروں پر منڈلا
رہی ہے! ان کو اس جواب کے سننے سے ذرا ہوش آئی، کان کھل گئے، پوچھا کہاں سے تشریف
لائے ہو؟ طرماح نے فرمایا میں ایک شریف۔۔ خدادوست۔۔ دانشمند اور خدا کے برگزیدہ
انسان کی طرف سے قاصد بن کر آیا ہوں، انہوں نے دریافت کیا کہ کس سے ملنا چاہتے
ہو؟ تو فرمایا ایک ناقص اور ردّی انسان کو۔۔۔۔ جس کو تم بے وقوفوں نے اپنا امیر
بنا رکھا ہے، وہ سمجھ گئے کہ یہ امیرالمومنین کی طرف سے معاویہ کی جانب آیا ہے،
انہوں نے پوچھا کہ مطلب کیا ہے؟ تو جواب دیا کہ اُسے ملنا ہے، انہوں نے کہا وہ
فارغ نہیں، تو طرماح نے کہا کیا وہ خدا کے وعدوں کے متعلق فکر کر رہا ہے جو اطاعت
گزاروں کے لئے ہیں؟ یا اس کے عذاب کا انتظار کر رہا ہے جو نافرمانوں کے لئے ہے؟
انہوں نے کہا یہ بات نہیں بلکہ وہ اپنے مشاورتی کمیٹی کے ساتھ ملکی اہم معاملات پر
سوچ بچار کر رہا ہے، طرماح نے کہا پس اس کو ہلاکت کی بشارت ہو۔
اعرابی مرد ابھی وارد ہوا ہے جو نہایت فصیح اللسان۔۔ موقعہ شناس۔۔ حاضر جواب اور
طرّارخطیب ہے نہ اس کی زبان میں سکتہ ہے اور نہ اس کے بیان میں لکنت ہے، اس کے
جواب کے لئے کلام بلیغ تیار کر اور لاپرواہی کو یکسو کر کے اس کو جواب دے، جب
طرماح کو معلوم ہوا تو سواری سے اُترا اور ان کے ساتھ تبادلہ خیالا ت کے لئے بیٹھ
گیا، ادھر معاویہ کو اطلاع پہنچی تو اس نے اپنے بیٹے یزید کو حکم دیا کہ دروازہ پر
سیاہ لباس میں ملبوس صف بستہ غلام کھڑے کر دئیے جائیں، یزید نے تعمیل حکم کی اور
یزید کی ناک پر تلوار کے زخم کا ایک نشان بھی تھا، جب طرماح کو معاویہ کے دروازے
کی طرف لایا گیا اور اس نے صف بستہ سیاہ پوش غلام دیکھے کہنے لگا یہ لوگ کون ہیں؟
جو داروغۂ جہنم مالک کے عملے کے افراد معلوم ہوتے ہیں؟ جب آگے بڑھا تو یزید کے
میشوم چہرہ پر نظر پڑی تو کہنے لگا یہ ناک کٹا۔۔ پھولی ہوئی رگوں والا منحوس انسان
کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ یزید ہے، طرماح نے کہا خدا اس کو نہ بڑھائے اور نہ یہ
اپنی مراد پر پہنچے۔
پھر اس نے اپنے باپ کی ناراضگی کا احساس کرتے ہوئے غصے کی آگ کو ٹھنڈا کیا اور
طرماح پر سلام کیا اور کہنے لگا اے اعرابی! تحقیق امیرالمومنین (معاویہ) تجھے سلام
کہتا ہے، طرماح نے جواب دیا کہ امیرالمومنین (علی ؑ) کے سلام کوفہ سے میرے ساتھ
ہیں، یزید نے کہا بتا کیا چاہتا ہے؟ کیونکہ تیری مراد کا پورا کرنا میرے عہدے میں
داخل ہے، طرماح نے کہا میری مراد یہ ہے کہ اس سٹیج کو چھوڑ دو جس کے تم اہل نہیں
ہو اور جو اہل ہے اس کے لئے جگہ خالی کرو، یزید نے کہا اس کے علاوہ اور کیا چاہتا
ہے؟ طرماح نے کہا میں اس سے ملنا چاہتا ہوں، پس پردہ اٹھایا گیا اور یہ معاویہ کے
پاس پہنچا۔
نے دائیں بائیں ایک نظر ڈالی اور پھر فرمایا کیا میں وادی مقدس میں آن پہنچا ہوں
کہ جوتے اتارنے کا حکم مل رہا ہے؟ پس معاویہ کی طرف دیکھا کہ تخت پر بیٹھا ہے اور
اردگرد فوجی افسر اور دیگر ملازمین موجود ہیں، اس نے سامنے جا کر کہا اے بادشاہِ
سرکش سلام ہو، معاویہ نے کہا تجھ پر وائے ہو اے اعرابی! مجھے امیرالمومنین کہہ کر
کیوں تو نے سلام نہیں کیا؟ طرماح نے جواب دیا تیری ماں تیرا ماتم کرے مومن لوگ تو
ہم ہیں تجھے ہمارا امیر کس نے بنایا ہے؟ معاویہ نے کہا کیا لایا ہے؟ جواب دیا کہ
مہرشدہ امام معصوم ؑ کا مکتوبِ گرامی، معاویہ نے کہا آکر مجھے دے دو۔۔ طرماح نے
کہا میں تیرے نجس فرش پر قدم نہیں رکھنا چاہتا، معاویہ نے کہا کہ پھر میرے وزیر
یعنی عمرو عاص کے حوالے کرو، طرماح نے کہا جیسے امیر ظالم۔۔ ویسے وزیر خائن،
معاویہ نے کہا میرے بیٹے یزید کو دو۔۔ طرماح نے جواب دیا جب ہم ابلیس پر راضی نہیں
تو اس کی اولاد پر کیسے راضی ہوں گے؟ معاویہ نے ایک غلام کی طرف اشارہ کیا جو سر
کی جانب کھڑا تھا کہ اس کو دے دو۔۔۔ طرماح نے کہا ناحق مال سے خریدا ہوا غلام اس
قابل نہیں۔
نے کہا تو بدل ناخواستہ خود اُٹھ کر لے جا، تاکہ پتہ چلے کہ یہ مردِ کریم اور سیدِ
علیم کا تحریر شدہ مکتوب ہے، پس معاویہ اپنے مقام سے اٹھا اور خط لے کر پڑھا اور
پھر اسے اپنے زانو کے نیچے رکھ دیا، پھر پوچھا کہ تو نے علی بن ابی طالب کو کس حال
میں چھوڑا ہے؟ تو طرماح نے جواب دیا کہ وہ ایک بدرِ منیر ہے جس کے اردگرد صحابہ
مثل ستاروں کے ہیں جب وہ ان کو حکم دے تو بلاتاخیر تعمیل ارشاد کرتے ہیں اور جس
چیز سے ان کو روکے تو قطعاً اس کے قریب نہیں جاتے، وہ ایسا شجاع و بہادر ہے کہ اس
کی ہیبت کے سامنے سخت چٹان نہیں ٹھہر سکتی، اس کا جلال حصار آہنی کو ریزہ ریزہ کر
دیتا ہے، مدّ مقابل کے لئے اس کے سامنے جانا ذلت و ہلاکت ہے، اور دشمن کے لئے اس
کا حملہ پیغام موت ہے۔
جواب دیا وہ دونوں نوجوان تقی۔۔ نقی۔۔ ادیب۔۔ خطیب۔۔ سیّد صد طیّب۔۔ طاہرفاضل۔۔
کامل اور عامل ہیں جو دنیا و آخرت کے لئے مصلح ہیں، معاویہ نے کہا اے اعرابی! تو
کس قدر فصیح ہے؟ طرماح نے کہا کہ اگر تو علی ؑ کے دروازہ پر جائے تو فصحا ٔ
۔۔بلغأ۔۔ فقہا۔۔ علمأ۔۔ نجبأ۔۔ ادبأ۔۔ اتقیأ۔۔ اصفیأ کی اس قدر تعداد دیکھے
گا کہ حیرت کے گہرے سمندر میں ڈوب مرے گا۔
کچھ انعام دے دیا جائے تو پیسے کی لالچ میں خود بخود تیری خوشامد کرے گا! اس دین
فروش کو کیا معلوم تھا کہ جن کے سینے معارفِ ربانیہ کے خزینے ہوں وہ چند کھوٹی
کوڑیوں میں نہیں خریدے جا سکتے اور وہ دولت ایمان کے مقابلے میں ذر و جواہر کو
ٹھیکریوں کے برابر بھی نہیں سمجھتے پس اس کورے باطن کے اغراض سے ننگِ مسندِ خلافت
اسی بات پر آمادہ ہوا کہ طرماح کی حق گوئی کے سامنے حرص و لالچ کا جال بچھا کر اسے
شکار کر لیا جائے۔۔۔۔۔ کہنے لگا کیا تو مجھ سے کچھ انعام قبول کرے گا؟ تو طرماح نے
فورا ً جواب دیا میں تیرے بدن سے تیرا روح لینے کو تیار ہوں، تو یہ مال کیسے نہ
لوں گا؟
اور بھی ہو تو طرماح نے جواب دیا بے شک دے دو کیونکہ تو اپنے باپ کے مال سے تھوڑا
ہی دے رہا ہے؟ اور میں یزید کی بہ نسبت اس مال کے تصرف کا زیادہ حقدار ہوں، پس دس
ہزار اور دئیے گئے۔۔۔۔ پھر طرماح نے کہا
اِنّ اللّٰہَ وِتْرٌ یُحِبّ الْوِتْر معاویہ نے تیسری مرتبہ پھر دس ہزار
دینے کا حکم دیا لیکن اس دفعہ خزانچی نے ایک گھنٹہ دیر کر دی تو طرماح بولا اے
معاویہ! شاید تو نے میرے لئے ہوا کی طرح کی چیز دینے کا حکم دیا ہے، معاویہ نے
پوچھا وہ کیسے؟ تو جواب دیا کہ تو نے انعام کا حکم دیا ہے جو نہ مجھے نظر آتا ہے
اور نہ تجھے دکھائی دیتا ہے، معاویہ نے جلدی دینے کا حکم دیا۔۔۔۔۔ پس جب تیس ہزار
پر قبضہ کر لیا تو خاموش ہو گیا۔
اور نڈر ہو کر جواب دیا یہ مسلمانوں کا مال ہے اللہ کے خزانہ سے ملا ہے اور اللہ
کے نیک بندوں تک پہنچا ہے لہذا درست ہے۔
نے میرے سامنے دنیا تاریک کر رکھی ہے۔۔۔ چنانچہ کاتب نے لکھنا شروع کیا:
عبدخدا اور عبد خدا کے بیٹے معاویہ بن ابی سفیان کی طرف سے علی بن ابی طالب
کی جانب۔۔۔ اما بعد:
پہلا حصہ کوفہ میں پہنچے گا تو آخری حصہ ساحل بحر پر ہوگا اور تجھے دکھائوں گا کہ
میرے پاس ہزار اونٹ رائی کے لدے ہوئے ہیں ہر دانہ رائی کے نیچے ایک ہزار جنگی مرد
موجود ہے۔
سکتا کہ تیرا کاتب جھوٹا ہے یا تو جھوٹا ہے؟ حالانکہ تو منبر خلافت کا دعویدار ہے؟
اگر تمام اہل مشرق و مغرب کو اکھٹا کر لیا جائے تو انسانی نقوش کی تعداد اس قدر نہ
ہو سکے گی؟ معاویہ نے کہا کاتب نے اپنی طرف سے لکھ دیا ہے، طرماح نے کہا کہ اگر اس
نے تیرے امر کے بغیر ایسا کیا ہے تو اس نے تجھے حقیر سمجھا ہے، اور اگر تیرے حکم
کے مطابق لکھا ہے تو تجھے ذلیل کیا ہے۔
میرے مولا علی بن ابیطالب کے پاس ایک بلند آواز اور لمبی چونچ والا مرغا ہے جو ان
تمام رائی کے دانوں کو چن کو اپنے حوصلہ میں بھر لے گا، معاویہ نے از راہِ اعتراف
کہا۔۔ خدا کی قسم بات تو ایسی ہی ہے اور وہ مالک اشتر ہی ہے۔۔۔۔۔۔ پس خط طرماح کو
دے کر رخصت کیا طرماح نے خط لیا ۔۔ مال اٹھایا اور اونٹ پر سوار ہو کر واپس چلا۔
میں سے کسی کو دوں تو تم لوگ اس کا دسواں حصہ بھی میری حق ادائیگی نہ کر سکو گے جس
طرح اس نے علی ؑ سے بغیر کچھ لئے حق ادائیگی کی ہے، دیا ہم نے لیکن پھر بھی تعریف
اسی ہی کی کرتا رہا۔۔۔۔ خدا کی قسم اس نے تو میرے اوپر دنیا تاریک کر دی تھی، عمرو
بن عاص نے جواب دیا اگر نبی سے تیری نسبت وہی ہوتی جو علی ؑ کو حاصل ہے اور تو حق
پر ہوتا تو ہم اس سے بھی کئی گنا زیادہ کرتے، معاویہ نے کہا خدا تیرا منہ توڑے
تیرا کلام اس کی بہ نسبت میرے لئے زیادہ تکلیف دہ ہے۔
جب امام ؑ کی فوج اور لشکرِ حر ّ چلے تو رات کے وقت سیدھے راستے کا کسی کو علم نہ
تھا پس اس وقت طرماح بن عدی ہی آگے آگے تھا کیونکہ ان کو اس بیابان کے عبور کرنے
کی راہیں معلوم تھیں، پس طرماح عدی خوانی کے طور پر یہ اشعار پڑھتا تھا:
سننا گوارا نہ کرتے تھے۔۔۔۔۔ آخر کربلا میں پہنچے اور روز عاشور طرماح نے خوب
جوہر شجاعت دکھائے لیکن یہاں دو قسم کی روایات ہیں:
تھا، ابھی اس میں رمق جان باقی تھی کہ اس کو قبیلہ والے اٹھا کر لے گئے اور پھر
تندرست ہو گیا تھا اور پھر وِلا و اخلاص کے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہوا۔۔۔۔ گویا اس
سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ طرماح شہدائے کربلا سے نہیں ہے۔
طرماح خود بیان کرتا ہے کہ جب میں روز عاشور زخموں سے چور ہو کر گرا اور لوگ مجھے
مقتول سمجھ کر چھوڑ گئے تو میں قسم کھا کر بیان کروں گا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے
دیکھا اور عالم بیداری میں دیکھا کہ وہاں بیس سوار پہنچے جن کے لباس سفید تھے اور
اُن کی آمد سے فضا عطر و کستوری کی خوشبو سے معطر ہو گئی، میں نے سمجھا کہ ابن
زیاد ہے اور شاید جسدِ حسین ؑ کی بے حرمتی کرنا چاہتا ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔۔۔۔
ان میں سے ایک سوار امام حسین ؑ کی لاش کے قریب آیا اور گھوڑے سے اتر کر بیٹھ
گیا، سر چونکہ کوفہ کی طرف لے جا چکے تھے تو اس جوان نے کوفہ کی طرف اشارہ کیا پس
میں نے دیکھا کہ حسین ؑ کا سر آ پہنچا اور جسم سے آکر ملحق ہو گیا پس اس شخص نے
کہا اے فرزند! تجھے ان لوگوں نے قتل کیا ہے؟ کیا تجھے انہوں نے پہچانا نہیں تھا؟
اور تجھے پانی بھی نہیں دیا؟ وہ کس قدر اللہ پر جری تھے؟ یہ کلمات کہہ کر وہ شخص
اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا اے بابا آدم ؑ۔۔۔ ابراہیم ؑ۔۔۔ اسماعیل
ؑ۔۔۔ اور اے میرے برادر موسیٰ و عیسیٰ کیا تم یہ دیکھتے کہ میری امت کے باغیوں نے
میرے فرزند کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ خدا ان کو میری شفاعت سے محروم رکھے، طرماح کہتا
ہے کہ میں نے پہچان لیا کہ یہ رسول خدا ہیں۔
کربلا میں سے تھے کہ طرماح میدان کارزار میں گیا اور خوب جوہر شجاعت دکھائے۔۔۔
ستّر ملاعین کو تہِ تیغ کیا پس اس کا گھوڑا بدکا اور یہ زمین پر گر پڑا پس کوفیوں
نے آکر اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔۔۔۔ اور اس مضمون کی روایات دوسری کتابوں میں
بھی موجود ہیں۔
کوئی دوسرا ہے، جس کا بنی طے سے ہونا غیریقینی ہے، کیونکہ حاتم طائی کے بیٹے عدی
کے تین فرزند تھے: طرفہ، طریف اور مطرف،
اور یہ تینوں حضرت امیرالمومنین ؑ کے ہمرکاب واقعہ کربلا سے قبل درجہ شہادت پر
فائز ہو چکے تھے، جب عدی بن حاتم کو لوگ کہتے تھے کہ تو اپنے تین بیٹوں کے درد و
فراق میں جلتا رہے گا یا مر جائے گا تو یہ نہات جرأت سے جواب میں کہتا تھا کہ یہ
تو تین تھے اگر مجھے خدا ایک ہزار فرزند عطا کرتا اور یکے بعد دیگرے علی ؑ کے
قدموں میں درجہ شہادت پر فائز ہو کر بہشت میں جاتے تو میرے لئے مایہ فخر تھا۔
کیا کیونکہ اس نے اپنے بیٹے حسن ؑ و حسین ؑ بچا لئے اور تیرے بیٹوں کو موت کے منہ
میں ڈال دیا؟ تو اس مرد مومن کو جوش آیا اور کہنے لگا کہ تو غلط کہتا ہے بلکہ بات
حقیقت میں یہ ہے کہ میں نے علی ؑ کے ساتھ انصاف نہیں کیا! کیونکہ وہ شہید ہو گئے
اور میں ان کے بعد زندہ رہا ہوں۔۔ پس عدی بن حاتم بے اولاد دنیا سے رخصت ہوا۔
اور وہ جنگ صفین میں درجہ شہادت پر فائز ہوا، اور عدی صحابی رسول بھی تھا اور حضرت
امیر ؑ کے خصوصی شیعوں میں اس کا شمار تھا۔۔۔ شریف۔۔ جواد اور بلند مرتبہ بزرگ تھا
اور کلام میں نہایت حاضر جواب اور سنجیدہ گو انسان تھا۔۔ جنگ جمل میں اس کی ایک
آنکھ تیر کے زخم سے ختم ہو گئی تھی، ۶۷ ھ یا ۶۸ ھ میں اس کا انتقال ہوا۔۔۔ قدّس روحہٗ الشریف
میں ملاقات ہوئی تھی، جو کوفہ سے سامان خوردونوش بچوں کے لئے لے جارہا تھا اور
امام ؑ کو اس نے اپنے پہاڑوں کی طرف لے جانے اور وہاں مددگار مہیا کرنے کی پیشکش
بھی کی تھی، لیکن جب امام ؑ نے اپنا مقصد بیان فرمایا تو اس نے فوراً واپس آنے کا
وعدہ کیا تھا، چنانچہ گھر سے وداع کر کے چلا تھا اور راستے میں امام ؑ کی شہادت کی
خبر سنی اور واپس پلٹ گیا۔۔۔ یہ طرماح بن حکم ہے نہ کہ طرماح بن عدی۔
