عبداللہ بن حسن اکبر ؑ
جلد ۱۰‘‘ سے منقول ہے کہ حضرت قاسم کے بعد حضرت
عبداللہ بن حسن اکبر میدان میں گئے اور رجز پڑھتے ہوئے جہاد کیا۔۔۔ پس چودہ ملاعین
کو تہِ تیغ کر کے ہانی بن ثبیت حضرمی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
ابن شہر اشوب سے مناقب میں منقول ہے کہ امام حسین ؑ کے میدان کربلا میں چھ فرزند شہید ہوئے جن میں سے ایک کا نام ابراہیم تھا۔
اس ملعون نے امام مظلوم ؑ کی چادر اُتاری تھی اور اس نے عبداللہ بن کامل سے پناہ لی تھی اور اس کے گھرمیں پنہاں تھا، مختار کو بھی خفیہ ذریعے سے معلوم ہو گیا لیکن خاموش رہا کیونکہ عبداللہ بن کامل اس کے مخصوص دوستوں میں سے تھا، ایک دن عبداللہ بن کامل سے…
یہ شخص نامی گرامی بہادر۔۔شہسوار اورمرد میدان تھااورشیعان امیرالمومنین ؑ میں ممتاز فرد تھا، جنگ جمل وصفین ونہروان میں شاہِ ولایت کے ہمرکاب رہا، کوفہ میں حضرت مسلم کی طرف سے لوگوں کی بیعت لیا کرتاتھا، حضرت مسلم نے قبیلہ کندہ وربیعہ کی ۴/۱ فوج کا اس کو سپہ سالار مقررفرمایا تھا جب حضرت مسلم…
اس کی کوفہ میں رہائش تھی حضرت علی ؑ کے صحابہ میں سے تھا اورآپ ؑ کے ہمراہ جنگ جمل وصفین میں شریک رہ چکا تھا، کہتے ہیں کہ حجر بن عدی کا ہمنشین تھا جب حجر گرفتارہو اتویہ کسی طریقہ سے جان بچاکربھاگ نکلا تھا جب زیادواصل جہنم ہوا، تویہ دوبارہ واپس کوفہ میںآگیا…
بروایت ’’رجال کشی‘‘ امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے: (۱) لا تَسُبُّو الْمُخْتَارَفَاِنَّہُ قَتَلَ قَتْلَتَنَاَ وَطَلَبَ بِثَارِنَا وَزَوَّجَ اَرَامِلَنَا وَقَسَمَ فِیْنَا الْمَالَ عَلٰی الْعُسْرَۃِ مختار کوگالی نہ دوکیونکہ اس نے اورہمارے قاتلوں کوقتل کیا ہے اورہمارا بدلہ لیا ہے اورہماری بیوائوںکی شادی کرآئی ہے اورہم میں تنگدستی کی حالت میں مال تقسیم کیا…
اے اہل کوفہ! اے اصحاب محمد! ہم لوگ تمہارے پیغمبر کی ذرّیت ہیں میں علی ؑکی بیٹی ہوں نہ ہمارے سروں پررسول خداکا سایہ رہا اور نہ اپنے باپ علی ؑمرتضے کاسایہ؟ بی بی عالیہ کے یہ خطا ب سن کراہل لشکرمیں گریہ جاری ہوا بلکہ تمام موجودات میں کہرام بپاہوا، حیوانانِ صحرائی اورجانورانِ دریائی…