مبارک
درجہ شہادت پر فائز ہوا۔
صرف زیارتِ رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔
اس کو صحابیت رسالتمآبؐ کا شرف حاصل تھا اپنے زمانہ میں بڑا شجاع دلیر اور مرد میدان تھا کئی جنگوں میں جوہر شجاعت دکھا چکا تھا عمروبن سعد کے ہمراہ کربلا آیا اور جب دیکھا کہ انہوں نے صلح کی تمام شرائط ٹھکرا دی ہیں تو امام حسین ؑ کی فوج میں شامل ہو گیا…
زیارت ناحیہ مقدسہ اورزیارت رجبیہ میں اس پرسلام وارد ہے اوراس کے قاتل پرلعنت بھی وارد ہے، عبدالرحمن بن عقیل نے روز عاشورجہاد کیا اورسترہ ملاعین کوفی النار کیا، عثمان بن خالد جہنی اوربشربن خوط ہمدانی کے ہاتھوں درجہ شہادت پر فائز ہوا، جب مختارؒ نے خروج کیا توعبداللہ بن کامل کوحکم دیا کہ عبدالرحمن…
زیارت ناحیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔۔۔ حملہ اولیٰ میں شہید ہوا۔
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وار دہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص شہدائے کربلا میں سے ہے۔
زیارت ناحیہ میں عبد اللہ رضیع پر سلام وارد ہے لیکن اس میں اختلاف ہے کہ آیاعبداللہ رضیع وہی شہزادہ علی اصغر ؑ ہے؟ یا وہ الگ الگ ہیں؟ ذخیرۃ الدارین سے منقول ہے کہ یہ عبداللہ رضیع اِسی دن یعنی روز عاشور پیدا ہوا اورامام حسین ؑ نے اس کا نام عبداللہ رکھا اس…