مکروہاتِ جماعت
۱۔ جب صف میں
جگہ ہو تو مقتدی کا الگ تنہا صف میں کھڑا ہونا مکروہ ہے۔
۲۔ اقامت شرو ع
ہوجانے کے بعد نافلہ شروع کرنا مکروہ ہے۔
۳۔ قد قامت
الصَّلٰوۃ کے بعد باتیں کرنا
مکروہ ہے۔
۴۔ پیش نماز کا
مخصوص اپنے لئے دعا مانگنا مکروہ ہے۔ بلکہ مقتدیوں کو ساتھ شامل کرتے ہوئے جمع کے
صیغے سے دعا مانگے۔
۵۔ اگر منقول
دعائیں پڑھے، جن میں صیغہ واحد متکلم مستعمل ہو تو کوئی حرج نہیں۔
۶۔ مقتدی کا
قرأت یا ذکر کو اتنا بلند آواز سے پڑھنا کہ پیش نماز تک اس کی آواز پہنچے مکروہ
ہے۔
۷۔ صبح اور مغرب
کی نمازوں کے علاوہ باقی نمازوں میں حاضر کا مسافر کے پیچھے اور مسافر کا حاضر کے
پیچھے پڑھنا مکروہ ہے۔
نوٹ: یہ کراہت اس وقت ہے جبکہ پیش نماز اور مل سکتے
ہوں۔ نیز کراہت سے مراد ثواب کی کمی ہے، یعنی مسافر کی مسافر کے پیچھے اور حاضر کی
حاضر کے پیچھے نماز پڑھنے کا جو ثواب ہوگا۔ اختلاف کی صورت میں ثواب اس سے کم ہوگا
اور جماعت کا ثواب تو ہر صورت میں ملے گا۔
مسئلہ: پیش نماز کے لئے
مستحب ہے کہ اگر پہلے پہنچے تو مقتدیوں کو انتظار کرے اور مقتدیوں کے لئے مستحب ہے
کہ اگر پہلے آجائیں تو پیش نماز کا انتظار کریں کیونکہ اول وقت کی انفرادی نماز سے
جماعت کے ساتھ پڑھنا افضل ہے خواہ دیر ہی ہوجائے۔
مسئلہ: نماز جماعت میں
مقتدیوں کے ثواب سے پیش نماز کا ثواب زیادہ ہوتا ہے، حتّٰی کہ اس کے پیچھے تمام
نماز پڑھنے والوں کے ثواب کے برابر پیش نماز کا ثواب ہوتا ہے اور مقتدیوں کے ثواب
میں بھی کمی نہیں ہوگی۔
مسئلہ: پہلی صف میں بچوں
کو جگہ نہ دی جائے اگرچہ متمیز ہی ہوں بلکہ ان کا مقام پچھلی صف ہے۔
Leave a Reply