پارہ2 رکوع 8
الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوتَ مِنْ ظُھُوْرِھَا وَلَکِنَّ الْبِرَّ مَنِ
اتَّقٰی وَاْ تُوا الْبُیُوْتَ مِنْ
اَبْوَابِھَا وَاتَّقُوا اللّٰہَ
لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن ( 189)
چاندوں کے متعلق فرمادیجئے کہ یہ تعیین اوقات کا ذریعہ ہیں لوگوں کے لئے، اورحج کے
لئے اورنیکی یہ نہیں کہ تم گھروں میں آﺅ پیچھے سے، لیکن نیکی اس کی ہے جو تقویٰ کرے اور آﺅ
گھروں میں دروازوں سے اوراللہ سے ڈرو تاکہ فلاح پاو o
تفسیر رکوع 8
نے عرض کیا یارسول اللہ! یہود ی لوگ ہم سے
چاند کی بابت دریافت کرتے ہیں کہ یہ چھوٹا بڑا کیوں ہوتا رہتا ہے؟ اورہمیشہ یکساں
حالت میں کیوں نہیں رہتا؟ تب یہ آیت اُتری۔
ھِیَ مَوَاقِیْتُ: خداوند کریم نے چاند
کی کمی اورزیادتی کی مصلحت کو اس کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ اسی کمی وبیشی کی
وجہ سے لوگوں کے وقتوں کی تعیین ہو تی ہے، روزوں کا زمانہ افطار کا زمانہ حج کا
وقت عورتوں کی عدت حمل کا زمانہ اوردودھ پلانے کی میعاد وغیرہ یہ سب باتیں اسی سے
معلوم ہوتی ہےں، اگر چاند ہمیشہ ایک حالت میں رہتا تو اس سے اوقات کی تعیین نہ کی
جاسکتی، یعنی تمہارے سامنے علم ہیئت کی باریکیاں اورعلم الافلاک کی گتھیاں سلجھانے
کی ضرورت نہیں اورنہ تمہیں چاند کی زیادتی کے واقعی علل واسباب پر اطلاع حاصل کرنا
چنداں مفید ہے البتہ اس کی مصلحتوں کا علم تمہارے لئے کسی حد تک فائدہ مند ہے
اوروہ ہم بتائے دیتے ہیں۔
اپنے گھروں کے اندر دروازوں کے بجائے پیچھے کی طرف سے دیوار وں میں نقب لگا کر
آمدورفت کرتے تھے، بعض کہتے ہیں کہ قریش کا یہی دستور تھا پس یہ آیت اُتری کہ نیکی
کا معیار یہ نہیں جسے تم نے سمجھاہوا ہے بلکہ نیکی تقویٰ کا نام ہے
یہ ہے کہ ہر کام کو اُلٹے طریقے سے کرنا خوبی کی بات نہیں بلکہ خوبی واچھائی اس
میں ہے کہ تمام امور کی بجا آوری صحیح طریقہ سے ہو
کی امید رکھنا اچھا نہیں بلکہ معروف کی امید اہل معروف سے ہی ہونی چاہیے
