پیروں و مریدوں کی ایک دوسرے سے بیزاری
اللہ والذین امنو ااشدحباللہ ولویری الذین ظلموااذ یرون العذاب ان لاقوۃ للہ جمیعا
وان اللہ شدید العذاب ()
شریک جن سے وہ محبت کرتے ہیں جس طرح کہ اللہ سے محبتکرنی چاہیے اورایمان والے پکے
محب ہیں خداکے اورکیا اچھا ہو تا کہ سمجھ لیتے (ظالم) مشرک جب کہ دیکھتے عذاب کو
کہ تحقیق طاقت سب اللہ کیلئے ہے اورتحقیق اللہ سخت عذاب دینے ولاہے قیامت میں
وتقطعت بھم الاسباب ()
پیروی کرنے والوں سے اورعذاب کو دیکھ لیں گے اورٹوٹ جائیں گے ان کے تعلقات
پلٹنا
اللہ سے اللہ جیسی محبت واطاعت کااظہارکررہے ہیں لیکن اس کا باطن ہر باطل پرست کیلئے
ہے چنانچہ جابر سے مروی ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے اس آیت
کی تفسیر دریافت کی تو آپ نے فرمایاخداکی قسم کہ اس سے مراد فلاں وفلاں کے دوست
ہیں جنہوں نے ان کو امام تسلیم کیا اوراس امام کوچھوڑ دیا جس کو خدانے عہدہ امامت
عطافرمایا تھا اس کے بعد آپ نے آیت مجیدہ کی تلاوت فرمائی اوراخرمیں فرمایااے
جابر خداکی قسم اس سے ظالم امام اوران کے پیروکار مراد ہیں
برہان
صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ بروز محشر حق سبحانہ کی جانب سے ندائے گی
خَلِیْفَۃُ اللّٰہِ فِیْ اَرْضِہٖ کہا ں ہے وہ جس کو اللہ نے زمین پر عہدہ خلافت
عطا فرمایا تھا پس حضرت امیر المومنین کھڑے ہوں گے پھر اللہ کی جانب سے ندائے گی
کہ اے گروہ مخلوق یہ علی ابن ابی طالب زمین پر اللہ کا خلیفہ اوربندوں پر خداکی
محبت موجود ہے پس جس کسی نے د نیامیں اس سے تمسک پکڑ اتھا وہ اب بھی اس کے دامن سے
وابستہ ہو جائے اوراس کی نورانیت سے فیض یاب ہو کر جنت کے بلند درجات کی طرف اس کے
پیچھے پیچھے چلاجائے پس وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں ان کادامن پکڑا ہو گا ان کے
پیچھے پیچھے جنت کی طرف چلیں گے اس کے بعد دوسری ندائے گی کہ دنیا میں جس شخص نے
جس امام کی پیروی کی تھی وہ اس کے پیچھے ہوجائے جہاں اس کا امام جائے گا اس کو بھی
وہاں جانا پڑے گا پس اس وقت لوگ اپنے اپنے اماموں سے بیزار ہوں گے اورکہیں گے کاش
ہمارے لئے ایک دفعہ دنیاکی طرف پلٹنے کی اجازت ہوتی تو ہر گز ان کے پیچھے نہ چلتے
ان ایات
حسرات علیھم وماھم بخارجین من النار () ہو تو ہم بھی ان سے بیزار ہو جاتے جس
طرح وہ ہم سے بیزار ہوئے ہیں اسی طرح دکھائے گا خداان کو ان کے کرتوت باعث حسرت
بنا کرحالانکہ وہ کبھی بھی آتش جہنم سے نکلنے نہ پایہں گے
الشیطن انہ لکم عدو مبین ()
اورنہ پیچھے چلو قدم بقدم شیطان کے تحقیق وہ تمہارا دشمن صریح ہے
اوراس بات کا کہ اللہ کے متعلق ایسی باتیں کرو جو تم نہ جانتے ہو
ایک شخص جس کو خدانے دنیا میں مال عطا فرمایا اوراس نے کسی نیک کام میں اس کو صرف
نہ کیا اورمرگیا پھر اس کا کوئی اوروارث ہوا جس نے اسی مال کو نیک کاموں میں خرچ
کیا تو پس وہ مال جمع کرنے والااپنے مال کی نیکیاں دوسرے کے میزان عمل میں دیکھ کر
پچھتائے گا
حصے ہیں اورسب سے افضل ہے حلال کی تلاش کرنا قَالُوْ بَلْ نَتَّبِعُ ۲۰۹یہ آیت صاف بتلاتی
ہے کہ جہاں باپ دادا خدااوررسول کے خلاف چلنے کاحکم دیں تو اولاد پر ان کی اس
معاملہ میں اطاعت واجب نہیں بلکہ حرام ہے
الَّزِیْنَ ۲۰۹امام محمد باقر علیہ السلام سے اس آیت کا معنی اس طرح مروی ہے
کہ تمہارا کافروں کو اسلام کی طرف بلانا ایسا ہے جس طرح چرواہااپنے مویشیوں کو
بلاتا ہے جس طرح مویشی چرواہے کی بات نہیں سمجھتے بلکہ صرف اوازوپکار سنتے ہیں اسی
طرح یہ بھی تمہاری بات سنتے ہیں سمجھتے نہیں ہیں یعنی ازراہ عناد سمجھنے کی کوشش
نہیں کرتے
چکی ہے
گیا ہے کہ باغ سے مراد خواہش لذب کرنے والا اورعاد سے مراد قدر ضرورت سے تجاوز
کرنے والااوربعض روایات میں ہے کہ باغی سے مرادظالم اورعادی سے مراد غاصب ہے
ہے توکہنے لگے بلکہ ہم تو پیروی کریں گے اس کی جس پر پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو
کیا اگر
اباء نا اولوکان اباء ھم لایعقلوم شیئا ولایھتدون ()
اورنہ خبر رکھتے ہوں
بکم عمی فھم لا یعقلون ()
کے بتوں کو پکارنے کی اس شخص جیسی ہے جو بلائے ایسی چ
گونگے ہیں اندھے ہیں کچھ سمجھتے نہیں ہیں
ایاہ تعبدون ()
اورشکر کرواللہ کا اگر تم صرف اسی کے عبادت گزار ہو
فمن الضطر غیر باغ ولاعاد فلااثم علیہ ان اللہ غفوررحیم ()
اورسور کاگوشت اوروہ چیز جس پر نام لیا جائے غیر خداکا پس جو شخص ناچار ہو کہ نہ
امام حق پر بغاوت کرنے والااورنہ تجاوز کرنیوالاچور ڈاکو) ہو پس اس پر کوئی گناہ
نہیں تحقیق اللہ بخشنے والا مہربان ہے
اولئک ما یاکلون فی بطور نھم الا انار والا
سے اور حاصل رکتے ہیں بدلے اس کے قیمت معمولی وہ لوگ نہیں بھرتے اپنے پیٹیوں
میں مگر آگ اور نہ
تورات میں موجود تھے چھپاتے تھے تاکہ عوام یہود مطلع ہو کردین یہود سے برگشتہ ہو
کر دائرہ اسلام میں داخل نہ ہو جائیں جس سے ان کی عوم یہود کی طرف سے مقررہ آمدنی
میں خسارہ تھا خداوندکریم ان کے اس فعل کی مذمت فرمارہا ہے کہ ثمن قلیل کی خاطر
جناب رسولؐ پاک کے اوصاف پر پردہ ڈالتے ہیں اور گویا اپنے پیٹ کو آتش جہنم سے بھر
رہے ہیں کیونکہ ان کا انجام آخر جہنم ہوگا
اور ان کیلئے ازب درد ناک ہے
علی
بخشش کے پس کس قدر ان کا حوصلہ ہے آگ پر
شقاق بعید
وہ لوگ جہنوں نے اختلاف کیا تکاب میں البتہ وہ بڑھی بدبختی میں ہیں
اباللہ والیوم الخر ولمئکۃ والکتب وانبیین اواتی المال علی حبہ زوی الربی وایتمی
ومسکین وبن السبیل واسائلین وفی رقاب
مگترب کے بلکہ نیکی اس شخص کی ہے جو ایمان لائے اللہ پر اور وز قیامت اور فرشتوں
پر اور کتاب پر اور نبیوں پر اور دے مال پانا باوجد پیا را ہونے کے اصاحاب قرابت
کو اور یتمیومونن اکاور مسکیوں کو اور مسافروں کاور منگیتوں کواور غلاموں کے آزاد
کرنے میں
کا چر چا عام ہوگیااور یہود نصاری نے ہر مقام پر اسی مسئلہ ک محل بحث بنالیا پس یہ
آیت اتری کہ نیکی کا انحسار صرف مشرق ومغرب کی طرف منہ کر لینے میں نہیں ہے کہ
بلکہ جب تک ان ذکر ہونے والے احکام پر عمل نہ کیا جائے تو صرف قبلہ کی طرف منہ
کرلینا کوئی فائدہ مند نہ ہوگا
رفع پڑھا جائے تو اسم لیس کا اور مابعد خبر اس کی دونوں ترکیبیں صحیح ہیں اور ہر
دوصورتوں میں معنی ایک ہے
ماننا پڑتا ہے یا اسم میں اور یا خبر میں اگر اسم میں تصرف کریں گے تو ذُومضاف
محذوف مانیں گے اور اگر خبر میں تصرف کریں گے تو برِّ مضاف ماننا پڑے گا تاکہ مصدر
یا ذات میں اسم اور خبر ایک دوسرے کے مطابق ہوجائیں
اور اس صور ت میں ترجمہ وہی ہوگا جو نیچے موجود ہے اور اگر مرجع ضمیر اللہ کو قرار
دیا جائے تو معنی ہوگا کہ اللہ کی محبت میں مال خرچ کرتے ہیں
