یزید بن مطرح لعنہٗ اللہ
کوخیموں سے باہر نکالتاتھا؟ اس نے انکارکیا لیکن مختارنے اس کی زبان کاٹ کرپھر
ٹکڑے کرادیا۔
زیارت ناحیہ مقدسہ میں اس پرسلام وارد ہے، بصرہ سے اپنے باپ کے ہمراہ آیا اورحملہ اولیٰ میں درجہ شہادت پرفائزہوا۔
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے لیکن ’’ناسخ‘‘ سے منقول زیاد بن مصاہر کندی ہے جس نے لشکر اعدا پر حملہ کر کے نو (۹)افراد کو فی النار کیا اور پھر شہید ہوا ۔۔۔ واللہ اعلم
زیارت رجبیہ میں اس پرسلام واردہے۔
صرف زیارتِ رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے۔
زیارت ناحیہ ورجبیہ میں ان پر سلام وارد ہے انکی والدہ کا نام خوصا بنت حفص تھا بروایت اِبن شہر آشوب دس ملاعین کوفی النّار کرکے درجہ شہادت پر فائز ہوئے ان کے قاتل کا نام عامر بن نہشل تمیمی ہے۔ حضرت عبداللہ نے اپنے دونوں بیٹے امام حسین ؑ کی خدمت میں روانہ کئے…
یہ بھی سردارانِ کوفہ کی ایک جماعت کے ساتھ بصرہ میں مصعب کے لشکرسے جا ملاتھا، بحکم مختاران سب کے گھروں کوبربادکردیا گیا۔ امام مظلوم ؑ کے قاتلین نے مختارکی گرفت سے بچنے کے لئے بڑی کوششیں کیں چنانچہ بعض نے مکہ کا رخ کیااور عبداللہ بن زبیر سے جاملے اوربعض بصرہ میں پہنچ کرمصعب…