anwarulnajaf.com

درگذرکرنا

درگذرکرنا

یہ صفت  انتقام  کے بدلہ میں ہے  اس کا مقصد 
یہ ہے کہ انتقام  لینے کے بجائے
انسان  کو چاہیے  کہ خطاکار 
سے درگذر  کرکے اسے معافی دیدے اور
بدلہ لینے کی قدرت رکھنے کے باوجود اس کے جرم کو دامن عفو  میں جگہ دیدے

حضرت رسالتمآب  کا
ارشاد ہے کہ بادشاہوں  کا درگزر کرنا ان کے
ملک کی پائیداری  کا موجب ہوتا اسکایہ مطلب
ہرگز نہیں کہ جو لوگ معاشرہ میں قسم وقسم 
کے جرائم کرتے رہیں  انکو معاف
کیاجائے اور سزانہ دی جائے کیونکہ اس عمل سے ملک تباہی کے گڑھے  میں جاپڑے گا 
بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بادشاہ وقت کےسامنے گستاخانہ
انداز سے پیش آئے  تو اسے جابر حکمروانوں
کی طرح فورا تختہ دار پر نہ کھنیچ  دیاجائے
بلکہ ذاتی غصہ  کو ضبط کرکے  اسے معاف 
کردیاجائے جب رعایا بادشاہ  کا یہ
سلوک دیکھے گی تو ان کےدلوں میں بادشاہ کی محبت 
پیدا ہوگی اور یہ چیز حکومت کی پائیداری کی موجب ہوگی

حضؐور  نے فرمایاکہ
درگزر کیعادت اپنے اندرڈالو کیونکہ اس سے انسان کی عزت ووقار میں اضافہ ہوگا ہے

حضرت امیرالمومنین 
علیہ السلام  نے فرمایا جب خدا تجھے
دشمن پر قدرت دے  تو اللہ کی عطاکردہ قدرت
کا شکریہ  ہے کہ  اسکو معاف کردے

 آپ نے  فرمایا درگذرکرنے  والوں میں سب سےزیادہ ثواب اسکا ہے جو سزادینے
پر سب سے زیادہ قدرت رکھنے والا ہو

 امام محمد باقر
علیہ السلام نے فرمایا کسی کو معاف کرنے کے بعد جو پیشمانی لاحق  ہو وہ اس سے بہتر ہے جو  اسکو سزا دینے کے بعد لاحق ہو

 حضرت امام موسیٰ
کاظم  علیہ السلام نے فرمایا  جب دوگروہ 
آپس میں لڑ رہے ہوں  تو ان میں سے
جودرگزر کرنے  والا ہو اسکی غیبی نصرت  ہواکرتی ہے

ایک مرتبہ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام  کھان اکھارہے تھےکہ غلام پانی لایا اور اس
کےہاتھ سے جو برتن گرا  تو آپ نےکے کپڑے
آلودہ ہوگئے  آپ نے غلام کی طرف دیکھا تو
اس نے فورا قرآن مجید کی آیت پڑھی  
الکاظمین الغیظ  آپ نے فرمایا میں
نے غصہ کو ضبط  کرلیا پھر اس نےدوسرا ٹکڑا
آیت کا پڑھا والعافین عن الناس  تو آپ نے
فرمایا  میں نے معاف کردیا پھر اس نےآخری
حصہ آیت   کا پڑھ دیا واللہ یحب المحسنین  تو آپ نے فورا اس کو آزاد کردیا

ایک مرتبہ امام زین العابدین علیہ السلام کےگھر میں آکر ایک
رشتہ دار نے آپ کو برا بھلا کہا  آپ خاموشی
سے سنتے رہے جب وہ چلاگیا  توکچھ دیر آپ نے
اپنے غلاموں کو اپنے ساتھ چلنے کا حکم دیا انہوں نے سمجھا کہ شاید انتقام کےلئے
جارہے ہیں جب آپ  اسکے دروازہ پر پہنچے اور
دستک دی تو اس نے آواز پہچان  کر سمجھاکہ
شاید بدلہ لینےکےلئے آئے  ہیں آپ نے فرمایا
تو نے جو کچھ مجھے کہاہے اگر میں ان الفاظ کا مستحق ہوں تو اللہ سے معافی
مانگتاہوں  اور اگر میں مستحق نہیں
تھا  اور یقینا نہیں تھا تو تجھے معافی
دینے کےلئے چل کرآیا ہوں  فورا اس شخص نے
آپ سےمعافی مانگ لی

بہر کیف غصہ کو ضبط کرلینا 
اور مجرم کو معافی دے دینا بہت بڑاکارنامہ ہے اورجہاد اعظم واکبر ہے  اور اس میں شک نہیں کہ جب انسان اپنے غصہ پر
کنڑول کرلے  تو درگزر  توخود بخود ہوجاتاہے  پس سب سےاہم ہے اپنی صفات بد پر کنڑول کرنا اور
خواہش نفس کو پامال کرنا  اوریہی
انسانی  کمال ہے


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *