عقبہ بن سمعان
کربلامیں سے تھا اوریہ وہی عقبہ بن سمعان ہے جس کوحُرکی ملاقات کے وقت آپ نے
فرمایا تھا کہ وہ تھیلالائو جس میں کوفیوں کے خطوط ہیں پس اسی نے ہی یہ تھیلاپیش
کیا تھا، بعض روایات میں ہے کہ یہ جناب رباب کا غلام تھا۔
صبح عاشور جب شہزادہ علی اکبر ؑ نے دیکھا کہ باپ تنہاہے اورقربانی کے بغیر چارہ نہیں حاضر خدمت ہوکرطالب اذنِ جہاد ہوا، پس امام عالیمقام ؑ نے اجازت دی ثَمَّ نَظَرَاِلَیْہِ نَظْرآئِسٍ مِنْہُ وَاَرْخٰی عَیْنَیْہِ وَبَکیٰ (ملہوف) امام مظلوم ؑ نے اپنے نوجوان فرزند کو سرسے پاؤں تک ایک مرتبہ مایوسانہ نگاہوں سے دیکھا…
یہ کوفہ سے بمعہ چند ساتھیوں کے خفیہ طور پر نکل کر خدمت امام ؑ میں پہنچا اور روز عاشور شرف شہادت سے فیض یاب ہوا۔
سہل سے روایت ہے کہ میں اپنے ایک نصرانی ساتھی کے ہمراہ بیت المقدس جارہا تھا اور ہم بازار شام میں اس دن پہنچے جس دن اہل بیت کا اسیر قافلہ داخل ہو رہا تھا، میرے نصرانی ساتھی کے پاس تلوار تھی جو کپڑوں میں اس نے چھپائی ہوئی تھی جب اس نے سر مظلوم…
زیارت رجبیہ میں اس پر سلام وارد ہے اس کے علاوہ اس کے تفصیلی حالات کا علم نہیں ہو سکا۔
غالباً حبیب بن مظا ہر کا بھائی ہے، رجز پڑھتے ہوئے فوج اشقیأ پر حملہ آور ہوا اورستّر ملاعین کوتہ ِتیغ کرکے شہید ہوا۔
اس کو صحابیت رسالتمآبؐ کا شرف حاصل تھا اپنے زمانہ میں بڑا شجاع دلیر اور مرد میدان تھا کئی جنگوں میں جوہر شجاعت دکھا چکا تھا عمروبن سعد کے ہمراہ کربلا آیا اور جب دیکھا کہ انہوں نے صلح کی تمام شرائط ٹھکرا دی ہیں تو امام حسین ؑ کی فوج میں شامل ہو گیا…