رُمیث بن عمرو
نہیں ہو سکا۔
یہ شخص تابعی تھا اور حضرت امیر ؑ کے اصحاب میں سے تھا۔۔۔ شہسوار اور شجاع تھا، اس کا قیام کوفہ میں تھا۔۔ حضرت امیر ؑ کے ہمراہ لڑائیوںمیں خصوصاً جنگ صفین میں اس نے خوب حصہ لیا، جب کربلا میں امام حسین ؑ کی آمد سے مطلع ہوا تو کوفہ سے نکل کھڑا ہوا…
’’ریاض الشہادۃ‘‘ میں اس کو شہدائے کربلا میں سے شمار کیا گیا ہے۔
’’بحارالانوار‘‘دیگر کتب امامیہ سے اس کا میدانِ کربلا میں شہید ہونا منقول ہے۔
جون غلام ابوذر یہ علاقہ نوبہ کے رہنے والا سیاہ فام غلام تھا۔۔ حضرت امیر ؑ نے فضل بن عباس سے ایک سو پچاس دینار پر خرید کر ابوذر کو بخشا تھا تاکہ ان کی خدمت کرے، پس یہ ابوذر کی خدمت میں رہا۔۔۔ جب خلیفہ عثمان نے ابوذر کو ربذہ کی طرف جلاوطن کیا…
س کا باپ مسعود مشاہیر شیعانِ علی ؑ میں سے تھا اورنہایت بہادرتھا، عبدالرحمن اپنے باپ مسعود کے ہمراہ ساتویں محرم کوزمین کربلامیں پہنچااوربروایت ابن شہرآشوب حملہ اولیٰ میں شہیدہوئے، زیارت ناحیہ مقدسہ میں ان دونوںپرسلام واردہے۔
(۱) انس بن حارث کاہلی (۲)بکر بن حی ثعلبی (۳)جابر بن عروہ غفاری (۴)جنادہ بن حارث انصاری (۵) جنادہ بن بنہان (۶)حبیب بن مظاہر اسدی (۷) ربیعہ بن خوط (۸)زاہربن عمرواسلمی (۹)زیادبن عریب ہمدانی (۱۰) سعد بن حارث (۱۱)شبیب بن عبداللہ بن حارث (۱۲)عبدالرحمن بن عبدربہ انصاری (۱۳)عبدالرحمن الارحبی (۱۴)عقبہ بن صلت جہنی (۱۵)…