۱۔ مقتدی اگر
ایک ہو تو پیش نماز کی دائیں جانب کھڑا ہو اور اگر زیادہ ہوں تو پیچھے صف باندھ
لیں۔
۲۔ متقدی اگر
صرف ایک عورت ہو اور پیش نماز مرد ہو تو عورت کو پیش نماز کی دائیں جانب پیچھے ہٹ
کر کھڑا ہونا چاہیے کہ اس کا سجدہ پیش نماز کے گھٹنوں کے برابر ہو اور اگر زیادہ
تو پیش نماز کے پیچھے صف باندھ لیں۔
۳۔ اگر مقتدی
ایک مرد اور ایک عورت ہو تو مرد کو دائیں جانب اور عورت کو پیچھے کھڑا ہونا چاہیے۔
۴۔ اگر مقتدی
زیادہ مرد اور زیادہ عورتیں ہوں تو پیش نماز کے پیچھے صفیں باندھیں پس مردوں کو
صفیں عورتوں کی صفوں کے آگے ہوں گی۔
۵۔ اگر عورتوں
کی پیش نماز بھی عورت ہو تو وہ درمیان میں کھڑی ہوگی۔ اس کے آگے بڑھ کر کھڑا ہونے
کی ضرورت نہیں۔
۶۔ پیش نماز کا
مصلّا درمیان میں ہونا چاہیے، تاکہ پچھلی صفیں آدھی دائیں اور آدھی بائیں ہوجائیں۔
۷۔ صفِ اول میں
اہلِ فضل کو جگہ دینی چاہیے جو عقل و کمال و ودع و تقویٰ و علم میں بہتر ہوں۔
۸۔ صف کا دایاں
حصہ بائیں حصے سے افضل ہے۔
۹۔ پیش نماز کے
جس قدر قریب ہوگا۔ فضیلت زیادہ ہوگی۔
۱۰۔ نماز یومیہ
کی جماعت میں پہلی صف افضل ہے اور نماز جنازہ میں آخری صف افضل ہے۔
۱۱۔ صفوں کو
سیدھا ہونا چاہیے اور درمیان کی خالی جگہوں کو پُر کرنا چاہیے، پس نمازیوں کے
کندھے ایک سیدھ میں ہونے چاہئیں۔
۱۲۔ ہر دو صفوں
کے درمیان فاصلہ زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
۱۳۔ پیش نماز کو
کمزور ترین مقتدی کی رعایت کرنی چاہیے پس نماز کے افعال و اذکار میں اس قدر طول نہ
دے کہ کمزور نمازیوں کے لئے قابلِ برداشت نہ ہو، البتہ اگر سارے نمازی طول کو پسند
کریں تو بے شک نماز طولانی پڑھے۔
۱۴۔ پیش نماز
جہریہ میں قرأت و دیگر اذکار بلند آواز سے پڑھے تاکہ مقتدی سُن سکیں۔
۱۵۔ اگر رکوع میں
پیش نماز کو معلوم ہو کہ مقتدی شامل جماعت ہونا چاہتے ہیں تو اسے رکوع کو طول دینا
چاہیے۔
۱۶۔ مقتدیوں کو
چاہیے کہ سورۂِ فاتحہ کے اختتام پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِین پڑھیں۔
۱۷۔ اقامت میں قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃ ہو تو تمام مقتدیوں کو کھڑا ہوجانا چاہیے۔
Leave a Reply