روایت بطریق اہل
بیت
بیت
تفسیر برہان میں بروایت علی بن ابراہیم حضرت امام جعفر صادق
علیہ السلام سے منقول ہے کہ سنہ 9
ھ کو جب جناب رسالت مآب غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو یہ آیتیں اُتری اور حضورؐ
نے جب کہ فتح کی تو مشرکین کو اس سال حج کرنے سے منع نہیں فرمایا تھ اور عربوں کا دستور تھا کہ جو مکہ میں داخل ہو کر اپنے لباس میں
طواف کرتا تھا پھر اس لباس کو صدقہ
کردیتاتھااور طواف کے بعد اس لباس کا پہننا وہ اچھا نہ سمجھتے تھے لہذا باہر سے اۤنے والے عاریتہ یا کرایہ
پر بھی لباس لے لیا کرتے تھے اور
اس میں طواف کرکے مالک کو واپس
لوٹادیا کرتے تھے اور جس کوعاریتہ یا کرایہ پر لباس نہ مل سکتا تھا وہ
برہنہ طواف کیا کرتے تھے چنانچہ ایک حسین وجمیل نوجوان عورت مکہ میں بغرض طواف پہنچی تو اس کو عاریتہ اور کرایہ پر کباس نہ مل سکا
اور اس کو کہا گیا کہ اگر تو نے اپنےلباس میں طواف کیا تو یہ لباس تجھے صدقہ کرنا
پڑے گا کہنے لگی میرے پاس کوئی دوسرا لباس تو ہے
نہیں اس کو کیسے صدقہ کرسکتی ہوں پس اس نے لباس اُتار کربرہنہ طواف کیااور لوگ گردنیں اٹھاکر اس کے دیکھنے
لگے تو اس نے اپنے آگے اور پیچھےپر ہاتھ
رکھ لئے اور اس مضمون کا اس نے شعر بھی پڑھا جب طواف سے فارغ ہوئی تو لوگوں نے اس سے شادی کی خواہش کی لیکن اس نے صرف ایک بات کہہ کر سب کی
امنگوں پر پانی پھیر دیا کہ میں شوہر دار
ہوں
علیہ السلام سے منقول ہے کہ سنہ 9
ھ کو جب جناب رسالت مآب غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو یہ آیتیں اُتری اور حضورؐ
نے جب کہ فتح کی تو مشرکین کو اس سال حج کرنے سے منع نہیں فرمایا تھ اور عربوں کا دستور تھا کہ جو مکہ میں داخل ہو کر اپنے لباس میں
طواف کرتا تھا پھر اس لباس کو صدقہ
کردیتاتھااور طواف کے بعد اس لباس کا پہننا وہ اچھا نہ سمجھتے تھے لہذا باہر سے اۤنے والے عاریتہ یا کرایہ
پر بھی لباس لے لیا کرتے تھے اور
اس میں طواف کرکے مالک کو واپس
لوٹادیا کرتے تھے اور جس کوعاریتہ یا کرایہ پر لباس نہ مل سکتا تھا وہ
برہنہ طواف کیا کرتے تھے چنانچہ ایک حسین وجمیل نوجوان عورت مکہ میں بغرض طواف پہنچی تو اس کو عاریتہ اور کرایہ پر کباس نہ مل سکا
اور اس کو کہا گیا کہ اگر تو نے اپنےلباس میں طواف کیا تو یہ لباس تجھے صدقہ کرنا
پڑے گا کہنے لگی میرے پاس کوئی دوسرا لباس تو ہے
نہیں اس کو کیسے صدقہ کرسکتی ہوں پس اس نے لباس اُتار کربرہنہ طواف کیااور لوگ گردنیں اٹھاکر اس کے دیکھنے
لگے تو اس نے اپنے آگے اور پیچھےپر ہاتھ
رکھ لئے اور اس مضمون کا اس نے شعر بھی پڑھا جب طواف سے فارغ ہوئی تو لوگوں نے اس سے شادی کی خواہش کی لیکن اس نے صرف ایک بات کہہ کر سب کی
امنگوں پر پانی پھیر دیا کہ میں شوہر دار
ہوں
سورہ براۃ کے
نزول سے پیشتر حضورؐ کا یہ دستور تھا کہ خود لڑائی کی ابتدانہ
کرتے تھے
بلکہ صرف ان سے جہاد کرتے تھے جو
پہل کریں اور سورہ براۃ میں قتل مشرکین کا عام حکم تھا لیکن حضورؐ نے بعض لوگوں کے
ساتھ فتح مکہ کے موقعہ پر معاہدہ کیا تھا اب
ان کو چار ماہ کی مدت دی گئی جو دسویں
ذوالحجہ سے لے کر دسویں ربیع
الثانی تک تھی پس آپ نے سورہ براۃ کی
آیتیں ابوبکر کو دے کر روانہ فرمایا چنانچہ مقام روحاء پر حضرت علیؑ نے ابوبکر سے وہ آیات لے لیں اور ابوبکر واپس اگیا اور عرض کی کہ حضورؐ کیا میرے بارے میں کوئی
چیز اُتری ہے تو آپ نے فرمایا نہیں بلکہ خدانے مجھے حکم دیا ہے کہ میں
خود پہنچاؤں یا وہ شخص جو مجھ سے ہو
پہنچائے
نزول سے پیشتر حضورؐ کا یہ دستور تھا کہ خود لڑائی کی ابتدانہ
کرتے تھے
بلکہ صرف ان سے جہاد کرتے تھے جو
پہل کریں اور سورہ براۃ میں قتل مشرکین کا عام حکم تھا لیکن حضورؐ نے بعض لوگوں کے
ساتھ فتح مکہ کے موقعہ پر معاہدہ کیا تھا اب
ان کو چار ماہ کی مدت دی گئی جو دسویں
ذوالحجہ سے لے کر دسویں ربیع
الثانی تک تھی پس آپ نے سورہ براۃ کی
آیتیں ابوبکر کو دے کر روانہ فرمایا چنانچہ مقام روحاء پر حضرت علیؑ نے ابوبکر سے وہ آیات لے لیں اور ابوبکر واپس اگیا اور عرض کی کہ حضورؐ کیا میرے بارے میں کوئی
چیز اُتری ہے تو آپ نے فرمایا نہیں بلکہ خدانے مجھے حکم دیا ہے کہ میں
خود پہنچاؤں یا وہ شخص جو مجھ سے ہو
پہنچائے
بروایت عیاشی امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے
کہ فتح مکہ سن8 ھ
میں برات سنہ 9 ھ میں اور حجتہ
الوداع سنہ 10 ھ میں ہوئی اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے
مروی ہے کہ حضرت علیؑ نے تلوار نیام سے نکال کر اعلان فرمایا کہ ائندہ کوئی مشرک حج نہ کرے اور کوئی
برہنہ طواف نہ کرے اور جن کے عہد کی مدت
مقرر ہے وہ اپنے مدت تک ہوگا اور جن کی مدت مقرر نہیں ا ب اس کی مدت چار ماہ ہو گی اس کے بعد اس کا قتل حلال ہوگا صافی
کہ فتح مکہ سن8 ھ
میں برات سنہ 9 ھ میں اور حجتہ
الوداع سنہ 10 ھ میں ہوئی اور حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے
مروی ہے کہ حضرت علیؑ نے تلوار نیام سے نکال کر اعلان فرمایا کہ ائندہ کوئی مشرک حج نہ کرے اور کوئی
برہنہ طواف نہ کرے اور جن کے عہد کی مدت
مقرر ہے وہ اپنے مدت تک ہوگا اور جن کی مدت مقرر نہیں ا ب اس کی مدت چار ماہ ہو گی اس کے بعد اس کا قتل حلال ہوگا صافی
بَرَاۗءَۃٌ مِّنَ اللہِ
وَرَسُوْلِہٖٓ اِلَى الَّذِيْنَ
عٰہَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ﴿1﴾
بیزاری اللہ اور اس کے رسول کی طرف ان کے
جن سے تونے عہد کیاتھا مشرکین میں سے (کہوکہ )
جن سے تونے عہد کیاتھا مشرکین میں سے (کہوکہ )
تفسیر مجمع البیان
میں ہے حضرت علیؑ علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آپ کس لئے بھیجے گئے تھے تو
فرمایا چار چیزوں کے پہنچا نے کے لئے
1کعبہ میں سوائے مومن کے کوئی داخل نہ ہو2 بیت اللہ کا طواف عریاں ہو کر کوئی نہ
کرے 3 اس سال کے بعد مومن و کا فر مسجد الحرام
میں جمع نہ ہوں گے 4 جس کے عہد کی مدت مقرر ہے وہی مدت رہے
گی اور جس کی مدت مقرر نہی اس کی چار
ماہ مدت ہوگی اور تفسیر برہان میں ہے کہ مشرکین نے جواب دیاکہ ہم تیرے اور
تیرے چچا زاد کے عہد سے بیزارہیں اور اب
ہمارے درمیان تلوار ونیزہ چلے گا اور اگر اۤپ چاہیں تو ہم خود ہی اس کی ابتداکریں
گے تب حضرت علی ؑنے فرمایا کہ
میں ہے حضرت علیؑ علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آپ کس لئے بھیجے گئے تھے تو
فرمایا چار چیزوں کے پہنچا نے کے لئے
1کعبہ میں سوائے مومن کے کوئی داخل نہ ہو2 بیت اللہ کا طواف عریاں ہو کر کوئی نہ
کرے 3 اس سال کے بعد مومن و کا فر مسجد الحرام
میں جمع نہ ہوں گے 4 جس کے عہد کی مدت مقرر ہے وہی مدت رہے
گی اور جس کی مدت مقرر نہی اس کی چار
ماہ مدت ہوگی اور تفسیر برہان میں ہے کہ مشرکین نے جواب دیاکہ ہم تیرے اور
تیرے چچا زاد کے عہد سے بیزارہیں اور اب
ہمارے درمیان تلوار ونیزہ چلے گا اور اگر اۤپ چاہیں تو ہم خود ہی اس کی ابتداکریں
گے تب حضرت علی ؑنے فرمایا کہ
ا َنْتُمْ غَیْرُ مُعْجِرِی اللّٰہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے ہو الخ
Leave a Reply