Similar Posts
جعفر بن عقیل ؑ
زیارت رجبیہ وناحیہ میں اس پر سلام وارد ہے، اس کی والدہ کا نام خوصا بنت عمروکلابی منقول ہے، رجز پڑھتے ہوئے میدان کارزار میں آئے اورپندرہ ملاعین کو دارالبوار پہنچایا، آخر عبداللہ بن عروہ خثعمی نے ایک تیر مارا جس سے یہ زمین پرگرپڑے اوربشربن خوط ملعون نے اس مظلوم کا سرتن سے جداکردیا۔
جنادہ بن حارث انصاری سلمانی ازدی صحابی
یہ کوفہ کے مشاہیر شیعہ میں سے تھا۔۔ تاریخ ابن عساکر میں ہے ان کو صحابیت کا شرف بھی حاصل تھا، جنگ صفین میں حضرت امیر ؑ کے ہمرکاب ہو کر انہوں نے دادِ شجاعت دی، حضرت امیر مسلم کی بیعت میں شریک تھے جب لوگوں نے بے وفائی کی تو یہ چند دوسرے ساتھیوں…
احمد بن محمد بن عقیل ؑ
’’ناسخ‘‘ سے منقول ہے کہ احمد بن محمد بن عقیل نے تلواراورنیزہ لے کر دشمنان دین پرحملہ کیا اوراَسّی کوفیوں کوتہِ تیغ کرکے درجہ رفیعہ شہادت پرفائز ہوا۔
عمرو بن ضبیعہ تمیمی صحابی
اس کو صحابیت رسالتمآبؐ کا شرف حاصل تھا اپنے زمانہ میں بڑا شجاع دلیر اور مرد میدان تھا کئی جنگوں میں جوہر شجاعت دکھا چکا تھا عمروبن سعد کے ہمراہ کربلا آیا اور جب دیکھا کہ انہوں نے صلح کی تمام شرائط ٹھکرا دی ہیں تو امام حسین ؑ کی فوج میں شامل ہو گیا…
اسد کلبی
جب حضرت سید الشہدا ٔ نے آخری استغاثہ بلند کیا تو انصار میں سے جن پندرہ آدمیوں کو نام لے کر پکارا ان میں سے ایک اسد کلبی بھی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی شہدائے کربلا میں سے ہے۔۔ اس کے علاوہ کہیں صراحت سے اس کے متعلق کچھ نہیں…
حارث بن نوفل لعنہٗ اللہ
اس نے جناب زینب عالیہ کے بدن پر تازیانہ مارا تھا، پس اس کو ہزار تازیانہ مروا کر داخل آگ کیا گیا کہ وہ جہنم میں پہنچ گیا۔
